اگلا جِہاد

شباب مسلم اکثریتی افریقی ملک صومالیہ کی ایک باغی تحریک ہے۔ شباب کے معنی نوجوانی کے ہیں۔ اس کو ’حزب شباب ‘بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ’نوجوانوں کی جماعت ‘ کے ہیں۔ یہ تنظیم ۲۰۰۶ء میں اسلامک کورٹ یونین کی تحلیل کے بعد وجود میں آئی۔ شباب کے سربراہ مکتار علی زبیر (Moktar Ali Zubeyr) ہیں۔ ۴جولائی ۲۰۰۹ء کو دی اکنامسٹ میں شباب سے متعلق چھپنے والے ایک مضمون کا ترجمہ قارئین ’’معارف فیچر‘‘ کے استفادہ کے لیے پیش ہے۔


دریائے جوبا (juba) صومالیہ کا سخت علاقہ ہے۔ گندا پانی بھرکرلانے والی خواتین یہاں اکثر مگرمچھوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔ یہاں کے ریتیلے کھیت یا تو قحط کا شکار رہتے ہیں یا پھر سیلاب کے پانی سے بھرے رہتے ہیں۔ علاقے پر حکمرانی کرنے والے ’شباب ‘ کے عسکریت پسند وںنے یہاں ظالمانہ انصاف نافذ کررکھاہے۔ہمارے نمائندے کو ’واجد‘ قصبے سے ہی پلٹ کر واپس آنا پڑا کیوںکہ وہا ں ایک آدمی کو قتل کردیا گیاتھا۔ ایک دن بعد ایک قبیلے کے رہنما کو مار دیا گیا۔ جب اکنامسٹ پریس میں چھپنے کے لیے جا رہا تھا اس وقت تک واجد قصبے میں مزید تین افراد کو قتل کیا جا چکا تھا جبکہ قریب کے ایک گائوں میں دو آدمی اس طرح کی قسمت سے دوچار ہوئے تھے۔

ان تمام افراد پر موغادیشو میں قائم عالمی طور پر تسلیم شدہ مگر انتہائی کمزور عبوری حکومت کے’’مددگار‘‘ ہونے کا الزام تھا۔ عبوری حکومت کے تحفظ کی ذمہ داری ایک چھوٹی افریقی امن فوج کی ہے۔اس ]حکومت[ کی سربراہی ماڈریٹ اسلام پسند شریف احمد کر رہے ہیں‘ جو کبھی اسلامک کورٹ یونین کے سربراہ ہوا کرتے تھے۔یہ [حکومت] شہر میں ایک مختصر سکون کا سبب بنی لیکن ’شباب‘ میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ سابقہ اتحادیوں کے سبب اس (احمد شریف) حکومت کو ۲۰۰۶ء میں ایتھوپین فورسز نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ جو کچھ بھی ہو‘ یہ مداخلت شباب کو مضبوط اور عالمی جہاد سے اس کے رشتے کو پائیدار بنا رہی ہے‘ کم ازکم یہاں غیرملکی جنگجو ئوں کی دروں ریزی اس کی وجہ ہے جو صومالیہ کو مقدس لڑائی کے لیے اگلے میدان جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

شباب کو اب جنوبی اور وسطی صومالیہ اور موغادیشو کے اکثر حصوں پر کنٹرول حاصل ہے۔ مغربی سیکورٹی ذرائع اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ (شباب والے) ملک سے باہر حملے کر سکتے ہیں بالکل اس طرح جیسے انہوں ۱۹۹۸ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں کو تباہ کیا تھا۔

شباب کے پاس صدر احمد کی توہین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ’’تم (ایک کافر) ان سے زیادہ ہمارے قریب ہو‘‘ شباب کے ایک کمانڈر نے ہمارے نمائندے سے کہا۔ ’’وہ ہم سے بہت، بہت دور ہے کیوں کہ اس نے ہمارے مذہب کو بیچ دیا ہے۔‘‘ جینز اور چپل پہنے چھلاوا نما داڑھی والے اس کمانڈر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا کہا۔ کیوں کہ کسی کافر سے بات کرنا بھی (اس کی تنظیم کی طرف سے) سزا کا موجب ہو سکتا ہے۔ مغربی سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’جوبا ‘وادی میں بہت سے غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اور کمانڈر ان کی وہاں موجودگی سے خوش ہے۔ اس کا کہنا ہے ’’رنگ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تمام مسلمان ایک جیسے ہوتے ہیں ‘ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں‘‘۔

بعض چیزیں شباب کو القاعدہ سے ممتاز کرتی ہیں۔ شباب اقوام متحدہ کے قافلوں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوراک کے عالمی پروگرام شباب کے زیرانتظام علاقوں جیسے Buale وغیرہ میں خوف کی ایک فضا قائم ہے۔ ہر جگہ چیک پوائنٹس ہیں۔ بزرگ اپنا اختیار کھو تے ہوئے دکھائی دیتے ہیں‘ وہ زمینوں اور شادیوں کے جھگڑے سلجھانے میں مصروف ہیں۔ شہری اکثر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ ایک آدمی ۱۵ سالہ لڑکے کی کہانی سناتا ہے جو موغادیشو میں’شباب‘ کے ایک وحشی یونٹ میں لڑنے کے بعد دریائے جوبا میں اپنے گھر کو واپس لوٹا ۔ جب اس کی ماں نے اسے واپس لڑائی پر نہ جانے کی منت کی تو اس نے اسے مارنے کی دھمکی دی۔

تاہم اسلام کے نام پر ہتھیار اُٹھانے والے سب لوگ شباب کی حمایت نہیں کرتے۔ بوالے (Buale) کے شمال مشرق میں کئی سو کلومیٹر دور دوسا ماریب (Dusamareb) قصبے میں ایک صوفی رہنما شیخ عمر شریف محمد نے موغا دیشو کو شباب کے قبضے سے آزاد کرنے کے لیے جنگجوئوں کو متحرک کیا ہوا ہے۔

یکم جولائی کو صومالیہ کے یوم آزادی پر مقامی لوگوں نے جمع ہو کر محب وطن گانے گائے اور آسمانی پس منظر پر سفید تارے والا قومی پرچم لہرایا۔ ۱۹۹۱ء سے بغیر کسی حکومت کے چلنے والے اس ملک میں یہ ایک نادر منظر تھا۔ اہل والسنہ والجماعتہ تحریک کے بعض آدمیوں نے نئے اور چمکتے کلاشنکوف پکڑے ہوئے تھے جو شیخ عمر کے مطابق ایتھوپیا یا امریکا کی طرف سے تحفے میں نہیں ملے ہیں۔ شیخ عمر کہتے ہیں کہ یہ اریٹریا (Eritrea) اور پرائیویٹ عرب ڈونرز کی طرف سے شباب کی حمایت کو کائونٹر کرنا چاہتے ہیں۔

شیخ عمر کے آدمیوں کے پاس وہ طاقت نہیں کہ وہ مستقبل قریب میں موغادیشو پر چڑھائی کر دیں لیکن انہوں نے کئی حالیہ لڑائیوں میں شباب کی طرف سے شمال کی جانب پیش قدمی کو روکا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوںغیر ملکی جنگجوئوں کی حکمت عملیوں کو ناکام بنایا ہے اور حال ہی میں دو خود کش حملہ آوروں کو پکڑا ہے۔

ملیشیا کے زیر انتظام صحرائی خطے ’گال گادود‘ (Galgadud) میں سیکورٹی کی صورت حال میں بہتری آئی ہے لیکن یہاں انسانی صورتحال ہولناک ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق علاقے کے ۹۰ فی صد یعنی چار لاکھ لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے خوراک کی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ اپریل سے جون کے درمیان ہونے والی گو GU بارشیں نہ ہونے کے سبب لوگوں کی مشکلات کافی بڑھ گئی ہیں۔ اس صورت حال کو موغادیشو سے بھاگنے والے ۶۰ ہزار لوگوں کی آمد نے مزید ابتر کر دیا ہے۔ مہاجرین میں سے کچھ عمر شیخ کے مرکز کے قریب کمپائونڈ میں جمع ہوئے ہیں‘ ان میں ایک محمد ہسے Muhammad Hassey بھی ہے جس کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ سے بچنے کے لیے ان سالوں میں ۱۰ دفعہ اپنا گھر تبدیل کیا ہے تاہم اس نے ایک مارٹر شیل سے دو بھائیوں اور دو بہنوں کی ہلاکت کے بعد اس نے بالآخر موغادیشو کو چھوڑ دیا۔ ایک بزرگ عورت خدیجہ حسن نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’موغا دیشو ناقابل یقین ہے‘‘ اس نے کہا’’یہ ایک جنگ ہے۔وہاں ہرکوئی رورہاہے‘‘۔

(بحوالہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘۔ ۲ جولائی ۲۰۰۹ء۔ ترجمہ: ابوسعد)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*