مسئلہ اسرائیل کا نہیں‘ پوری دنیا کی سیکورٹی کا ہے!

جو لوگ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو اچھی طرح جانتے ہیں انہیں اندازا ہوگا کہ وہ یہودیوں کو ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دوسرے ہالوکاسٹ سے بچانا چاہتے ہیں۔ جنوبی افریقا کے سابق جج رچرڈ گولڈ اسٹون نے گزشتہ سال غزہ پر اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ پر دوسرے اسرائیلیوں کی طرح نیتن یاہو بھی برہم ہیں۔ نیوز ویک کی لیلیٰ ویمتھ نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے جو گفتگو کی اس کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔


٭ گولڈ اسٹون رپورٹ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

بنیامین نیتن یاہو: میں سمجھتا تھا کہ منافقت کی کچھ حدود ہوتی ہوں گی مگر میرا اندازا غلط تھا۔ نام نہاد انسانی حقوق کمیشن نے اسرائیل پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ اسرائیل نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ بُرا مت مانیے گا، حماس نے کوئی ایک جنگی جرم نہیں کیا، بلکہ طرح طرح کے جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان جرائم پر ایک نظر تو ڈالیے۔ ۱۔ حماس نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا جو اقوام متحدہ کے منشور کی رو سے بڑے پیمانے پر قتل عام کی تحریک دینا ہے اسی لیے یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ۲۔ حماس نے کسی جواز کے بغیر اسرائیلی شہریوں پر میزائل برسائے۔ ۳۔ جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے حماس کے جنگجوؤں نے شہریوں کی آڑ لی۔ اور ۴۔ حماس نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو اب تک رہا نہیں کیا۔ وہ تین سال سے حماس کے قبضے میں ہے اور ریڈ کراس کو بھی اس تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ یہ سب کچھ حماس نے کیا اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام کس پر عائد کیا جارہا ہے؟

٭ اسرائیل میں بھی عام تاثر یہ ہے کہ گولڈ اسٹون رپورٹ درست نہیں تاہم کچھ لوگوں نے اندرونی تحقیقات کا مطالبہ بھی تو کیا ہے؟

نیتن یاہو: اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ سب گولڈ اسٹون رپورٹ کی بنیاد پر نہیں ہو رہا۔ یہ ہماری اندرونی ضرورت ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ سچ بیان کردیا جائے۔ اسرائیل بلا جواز حملوں کے خلاف جائز طریقے سے اپنا دفاع کر رہا تھا۔

٭ آپ کو اس بات پر حیرت نہیں ہوئی کہ برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی حمایت نہیں کی؟

نیتن یاہو: میرا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام ممالک کو متحد ہوکر آواز بلند کرنی چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار اخلاقی جرات ہے۔

٭ امریکا اور یورپ جنیوا میں اسرائیل سے بظاہر جو معاہدہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

نیتن یاہو: ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری ایران کو یورینیم افزودہ کرنے سے روکے۔ ایران میں یورینیم کی افزودگی صرف ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے۔

٭ مجھے کسی نے بتایا کہ آپ یہ کہہ رہے تھے کہ یہودیوں کو دوسرے ہالوکاسٹ سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے؟

نیتن یاہو: اسرائیل کے تمام وزرائے اعظم کے یہی جذبات رہے ہیں۔

٭ ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے کے پیش نظر آپ اس معاملے کو زیادہ حساس انداز سے نہیں دیکھتے؟

نیتن یاہو: سوال صرف اسرائیل کی سلامتی کا نہیں، پوری دنیا کی سلامتی کا ہے۔ تاریک انقلابیت نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ انقلابی عناصر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے درپے ہیں۔

٭ عرب دنیا بھی ایران کے ممکنہ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہی ہے؟

نیتن یاہو: ایک کے سوا تمام عرب ممالک ایران کے ممکنہ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ میں خود بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ عرب ملک کون سا ہے جسے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں کوئی تشویش نہیں۔ یورپ اس خطرے کو محسوس کر رہا ہے۔ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے تو تاریخ کا دھارا پلٹ جائے گا۔

٭ سنی سنائی تو یہ بھی ہے کہ اسرائیل بھی ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے؟

نیتن یاہو: میں افواہوں کے لیے ذمہ دار نہیں ہوں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ عالمگیر نوعیت کا ہے، عالمی برادری کا ہے اس لیے تمام ممالک متحد ہوکر امریکا کی قیادت میں اس مسئلے کو حل کریں۔

٭ آپ کے خیال میں فلسطین کا مسئلہ کس طرح حل کیا جانا چاہیے؟

نیتن یاہو: چند لفظوںمیں کہوں تو یہ کہ فلسطینیوں سے مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں، ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست قائم کی جائے جو یہودی ریاست (اسرائیل) کو تسلیم کرتی ہو۔ فلسطینیوں نے ۶۲ سال سے اسرائیل کو یہودیوں کی قومی ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

٭ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر اب ان سے کہا جارہا ہے کہ اسرائیل کو یہودیوں کی قومی ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے؟

نیتن یاہو: بالکل ٹھیک۔ اسرائیلی کوئی ایسی ریاست نہیں جس میں ایک سے زائد اقوام آباد ہوں۔ اسرائیل میں غیر یہودی بھی رہتے ہیں اور انہیں بھی تمام حقوق حاصل ہیں۔ مگر ایک بات واضح رہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی یہودی آباد ہو، اسے اسرائیل آکر آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل میں اس نکتے پر کامل اتفاق پایا جاتا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کو اسرائیل کی حدود سے باہر رہتے ہوئے حل کیا جائے۔ یہودیوں کو یہاں آنا چاہیے اور فلسطینیوں کو وہاں جانا چاہیے۔ اور کوئی آپشن نہیں۔ مسئلہ اسی بنیاد پر حل ہوسکتا ہے۔

٭ صدر باراک اوباما کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

نیتن یاہو: اوباما انتظامیہ اور میری حکومت کے درمیان لوگوں کے اندازے سے کہیں زیادہ شفافیت ہے۔ ہم مختلف مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ گولڈ اسٹون رپورٹ پر، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے اور سب سے بڑھ کر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے اوباما انتظامیہ نے مستحسن اقدامات کیے ہیں۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک‘‘ ۲ نومبر۲۰۰۹۔ ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*