قائد کی زندگی کا مقصد

آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا:

’’مسلمانو! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی، اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔ میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلبگار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا اپنا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدافعتِ اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے عَلَم کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے‘‘۔ (انقلاب لاہور ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۹ء ص ۸۔ گفتارِ قائداعظم، ص ۲۳۴،۲۳۳)

انگلستان سے واپسی کے بعد کھلے لفظوں میں مولانا ظفر علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی موجودگی میں مندرجہ ذیل بیان دیا تھا جو ماہنامہ ’منارہ‘ کراچی میں شائع ہوا جسے روزنامہ ندائے ملت لاہور نے اپنی ۱۵؍اپریل ۱۹۷۰ء کی اشاعت میںنقل کیا:

’’میں لندن میں امیرانہ زندگی بسر کر رہا تھا، اب میں اسے چھوڑ کر انڈیا اس لیے آیا ہوں کہ یہاں لاالٰہ الا اللہ کی مملکت یعنی پاکستان کے قیام کے لیے کوشش کروں، اگر میں لندن میں رہ کر سرمایہ داری کی حمایت کرنا پسند کرتا تو سلطنت برطانیہ جو دنیا کی عظیم ترین سلطنت تھی مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ مناصب اور مراعات سے نوازتی۔ اگر میں روس چلا جائوں یا کہیں بیٹھ کر سوشلزم، مارکسزم یا کمیونزم کی حمایت شروع کر دوں تو مجھے بڑے سے بڑا اعزاز بھی مل سکتا ہے اور دولت بھی۔ مگر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر میں نے دولت اور منصب دونوں کو تج کے انڈیا میں محدود آمدنی کی دشوار زندگی بسر کرنا پسند کیا ہے تاکہ پاکستان وجود میں آئے اور اس میں اسلامی قوانین کا بول بالا ہو، کیونکہ دنیا کی نجات اسلامی نظام ہی میں ہے۔ صرف اسلام ہی کے ملّی، عملی اور قانونی دائروں میں آپ کو عدل، مساوات، اخوت، محبت، سکون اور امن دستیاب ہوسکتا ہے۔ برطانیہ، امریکا اور یورپ کے سارے بڑے بڑے سیاستدان مساوات کا راگ الاپتے ہیں۔ روس کا نعرہ بھی مساوات اور ہر مزدور اور کاشت کار کے لیے روٹی، کپڑا اور سر چھپانے کی جگہ مہیا کرنا ہے۔ مگر یورپ کے بڑے بڑے سیاستدان عیش و عشرت کی جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ وہاں کے غریب کو نصیب نہیں۔ محمد علی جناح کا لباس اتنا قیمتی نہیں، جتنا قیمتی لباس یورپ کے بڑے بڑے لوگ اور روس کے لیڈر زیب تن کرتے ہیں، نہ محمد علی جناح کی خوراک اتنی اعلیٰ ہے جتنی سوشلسٹ اور کمیونسٹ لیڈروں اور یورپ کے سرمایہ داروں کی ہے۔ ہمارے پیغمبرﷺ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سارا اختیار ہوتے ہوئے خود غریبانہ زندگی بسر کی، مگر رعایا کو خوش اور خوشحال رکھا۔

’’میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ انڈین کانگریس، حکومت بنانے کے بعد برطانوی ٹھگوں کو تو یہاں سے نکال دے گی مگر پھر خود ٹھگ بن جائے گی۔ یہ لوگ صرف مسلمانوں ہی کی آزادی ختم نہیں کریں گے بلکہ اپنے لوگوں کی آزادی بھی ختم کر دیں گے، اس لیے ہم سب کو پاکستان کے قیام کے لیے زبردست کوشش کرنی چاہیے۔ ذرا خیال فرمایئے کہ اگر لاالٰہ الا اللہ پر مبنی حکومت قائم ہو جائے تو افغانستان، ایران، ترکی، اردن، بحرین، کویت، حجاز، عراق، فلسطین، شام، تیونس، مراکش، الجزائر اور مصر کے ساتھ مل کر یہ کتنا عظیم الشان بلاک بن سکتا ہے۔ اقبال کی طرح میرا بھی یہ عقیدہ ہے کہ کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ مسلمان نہیں ہوسکتا، خواہ وہ پیر یا مولانا ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ سوشلزم اور کمیونزم کے سارے بانی یہودی تھے۔ آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ سوشلزم اور کمیونزم مسلمانوں کے لیے ایسا زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں، آپ کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہودی، انگریز، سوشلسٹ، کمیونسٹ اور سکھ سب مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہیں‘‘۔ (منشی عبدالرحمان خاں، قائداعظم کا مذہب اور عقیدہ، اشاعت اول، اپریل ۱۹۸۶ء ناشر: کاروانِ ادب ملتان صدر، ص ۵۲۔۵۱)

(بشکریہ: ماہنامہ ’’المقصود‘‘ کراچی۔ مارچ ۲۰۱۳ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*