نیند کی حقیقت کیا ہے؟

یہ سوال صدیوں سے انسان کو سوچ بچار پر مجبور کرتا آیا ہے۔ نیند کا عمل واقعی اپنے اندر ایک عجیب پراسراریت رکھتا ہے۔ دنیا میں مختلف ادوار میں پائی جانے والی تہذیبوں کے بے شمار لوگ اس نکتے پر متفق رہے ہیں کہ نیند درحقیقت وہ وقفہ ہے جس کے دوران ہم باقی دنیا کے لیے مر چکے ہوتے ہیں۔ ارسطو کا خیال تھا کہ پیٹ بھر کر کھانے کے بعد ہمارے معدے سے گرم بخارات اٹھتے ہیں جو دماغ تک جاتے ہیں اور دماغ کو سلا دیتے ہیں۔ لیکن یہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت Electroencephalogram جسے مختصراً EEG کہا جاتا ہے‘ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ یہ آلہ نیند کی حالت میں بھی دماغ سے اٹھنے والی لہروں کا حساب رکھ سکتا ہے اور اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی دماغ بالکل منجمد اور ناکارہ حالت میں نہیں ہوتا‘ وہ بدستور فعال ہوتا ہے۔ صرف ہمارے کچھ حواس سو چکے ہوتے ہیں۔ دماغ کا صرف ایک حصہ حواس کو کنٹرول کرتا ہے اور انہیں کام کرنے یا آرام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ گویا نیند محض جسم کے بے حرکت ہو جانے یا آنکھیں بند کر لینے کا نام نہیں۔

نیند کے دوران دماغ کے صرف ایک حصے Cortex کے حکم پر ہمارے کچھ حواس اپنی کارکردگی بند کر دیتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں ہم حرکت کرنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا بند کر دیتے ہیں لیکن اس دوران بھی سائنسدان چاہیں تو متذکرہ بالا آلے EEG کے ذریعے نیند کی حالت میں انسانی ذہن کی کارکردگی جانچ بھی سکتے ہیں۔ نیند کے مختلف مرحلوں میں اس کارکردگی میں فرق آتا رہتا ہے۔

نیند کے مختلف مراحل میں انسانی ذہن سے خارج ہونے والی لہروں کو ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً جب آپ آنکھیں بند کرتے ہیں اور نیند کی آغوش میں جاتے ہیں تو یہ لہریں سمندر کی چھوٹی لہروں کی طرح ہوتی ہیں لیکن جب نیند گہری ہو جاتی ہے تو یہ لہریں سمندر کی بڑی لہروں کی طرح ہو جاتی ہیں لیکن جوں جوں یہ لہریں طویل یا بڑی ہوتی جاتی ہیں‘ یہ آپ کو آس پاس کی نقل و حرکت اور شور سے زیادہ بچاتی ہیں۔ تبھی آپ کو گہری نیند میں اپنے ارد گرد ہونے والی نقل و حرکت اور شور کا زیادہ پتا نہیں چلتا لیکن یہ عرصہ کل نیند کا تقریباً ۲۰ فیصد ہوتا ہے۔ عموماً آدھی رات کے قریب قریب ایسی نیند آتی ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں انسانی دماغ سے خارج ہونے والی لہریں کمزور ہوتی ہیں اور وہ ارد گرد ہونے والی نقل و حرکت اور شور آپ کو بچانے کی کم صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کیفیت کو عام زبان میں ’’ہلکی نیند‘‘ کہا جاتا ہے جس کے دوران آپ ذرا سا ہلانے جلانے یا ہلکی سی آواز دینے سے بیدار ہو جاتے ہیں۔

خواب بھی دماغ کے اسی حصے میں تخلیق ہوتے ہیں جسے Cortex کہا جاتا ہے۔ ایک اور حصہ اس سے بھی زیادہ گہرائی والے کام کرتا ہے۔ اس میں خیالات تشکیل پاتے ہیں۔ بہرحال نیند انسان کی شخصیت کی تشکیل اور ساخت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور اسے دوسرے جانداروں سے مختلف اور منفرد بناتی ہے۔ نیند کی حقیقی کمی واقعی شخصیت کو نشوونما میں بہت فرق ڈال دیتی ہے۔ نئی تحقیق کا دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ نیند کا اہم ترین حصہ صرف وہی ہے جسے عام فہم میں گہری نیند کہا جاتا ہے۔ یعنی جس وقت ہمیں گرد و پیش کا کوئی ہوش نہیں ہوتا اور جس وقت محاورے کی زبان میں ہم ’’گھوڑے بیچ کر سوئے ہوتے ہیں‘‘۔

نئی تحقیق کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کو کس طرح کی نیند آتی ہے۔ اس کا دار و مدار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ جب آپ جاگ رہے ہوتے ہیں تو آپ کا وقت کن مصروفیات‘ کن معمولات اور کس انداز کے کاموں میں صرف ہوتا ہے۔ ان تمام مصروفیات کی نوعیت سے آپ کی نیند کی نوعیت کا گہرا تعلق ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ آپ کی نیند میں اگر ’’گہری نیند‘‘ والا حصہ شامل ہوگا‘ تبھی آپ کے دماغ کا Cortex نامی حصہ تازہ دم ہو سکے گا اور آپ آسانی سے یا صحیح طور پر دوسرے دن کی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ تاہم ضروری نہیں کہ یہ گہری نیند والا حصہ آپ کو آٹھ نو گھنٹے سونے پر ہی میسر آئے۔ یہ حصہ آپ کو پانچ گھنٹے کی نیند میں بھی میسر آسکتا ہے اور اس کے بعد آپ اتنے ہی مستعد اور فعال نظر آتے ہیں جتنا آٹھ نو گھنٹے سونے والا۔

آج لوگوں کی اکثریت نیند کی کمی یا بے خوابی کی وجہ جدید طرزِ زندگی کی بھاگ دوڑ‘ افراتفری اور مشینی انداز و اطوار کو قرار دیتی ہے۔ اخباروں‘ رسالوں میں اس موضوع پر مضامین کی بھرمار ہے۔ طبی اور نفسیاتی مسائل کے کالموں میں اس موضوع پر خطوط کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور عموماً ان کے جواب میں یہی مشورہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ افراتفری اور بھگدڑ سے بچیں اور پرسکون معمولات کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ عام خیال یہی ہے کہ افراتفری‘ بھگدڑ اور مشینی زندگی نئے زمانے کی پیداوار ہے لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر ۱۸۹۴ء کے ایک برطانوی طبی رسالے میں بھی ایک قاری کے خط کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے اسے یہی مشورہ دیا ہے کہ پرسکون نیند کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’’نئے زمانے‘‘ کی افراتفری اور بھگدڑ والی مصروفیات اور ’’مشینی زندگی‘‘ کے معمولات سے بچیں۔ گویا مسئلہ آج سے تقریباً ایک سو بارہ سال پہلے بھی ایسا ہی تھا۔

بہرحال! اس میں شک نہیں کہ نئے دور کی مشینی زندگی کے معمولات نیند پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہم واقعی اتنی مصروفیات‘ اتنے شور شرابے اور اتنی بھاگ دوڑ سے گزرتے ہیں کہ جب ہم سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو اس وقت بھی ہمارا دماغ ان کے اثرات سے گونج رہا ہوتا ہے۔ اسے جب ذرا سکون میسر آتا ہے تو وہ نیند کی آغوش میں جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس اسٹیج تک پہنچنے کے لیے مختلف لوگوں کو مختلف وقت درکار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ۱۰ سے ۳۰ منٹ کے دوران غنودگی میں چلے جاتے ہیں اور کچھ کو اس سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ معمولی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو لیٹنے کے دو تین منٹ بعد ہی خرانے لینا شروع کر دیتے ہیں۔ پچاس کی عمر کو پہنچنے کے بعد مرد ذرا جلدی سو جاتے ہیں۔ اوسطاً انہیں سونے میں ۱۳ سے ۱۵ منٹ۔۔۔ جبکہ ان کی عمر کی عورتوں کو ۲۲ سے ۲۵ منٹ لگتے ہیں۔ عورتوں کو اس سے زیادہ عمر کو پہنچ کر سونے میں مزید دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ وہ زیادہ دیر میں سوتی ہیں اور کم وقت کے لیے سوتی ہیں۔

بیشتر مرد رات کے ۱۱ سے ۱۲ کے درمیان سونے کے لیے لیٹتے ہیں جبکہ عورتیں اس سے کچھ پہلے سونے کی کوشش کرتی ہیں۔ بہت سے مرد پانچ گھنٹے سو کر بھی اتنے ہی مستعد‘ فعال اور متحرک رہتے ہیں جتنے آٹھ نو گھنٹے سونے والے مرد۔ دنیا بھر میں سونے کا اوسط سات اور آٹھ گھنٹے کے درمیان ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ بعض لوگ محض اس واہمے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ پوری نیند نہیں لے پارہے ہیں۔ درحقیقت انہیں اتنی نیند مل رہی ہوتی ہے جتنی ان کے جسم کو درکار ہوتی ہے لیکن اگر وہ تھکن‘ درماندگی یا سستی محسوس کر رہے ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یا وجودہ دوسری ہوتی ہیں لیکن وہ خود ہی اپنے مسئلے کی تشخیص کر کے اسے ڈاکٹر کے سامنے بیان کر دیتے ہیں اور ڈاکٹر صاحبان وقت ضائع کیے بغیر انہیں سکون آور یا خواب آور گولیاں لکھ دیتے ہیں۔ یوں اس مسئلے کو وسعت دینے میں ہم شریک ہیں۔

تاہم نیند کے بارے میں تحقیق کے سلسلے میں صرف یہی ایک نظریہ نہیں پایا جاتا۔ تحقیق کرنے والے کچھ دوسرے افراد کا خیال ہے کہ نیند کی کمی بہرحال جدید دور کا ایک مسئلہ ہے۔ دوچار دن کی نیند کی کمی تو انسان کی ذہنی اور جسمانی کارکردگی پر اتنا اثر نہیں ڈالتی لیکن مستقل طور پر اس مسئلے سے دوچار ہونا بہرحال اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔لوگ خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں اور پھر وہ اپنی سستی دور کرنے کے لیے مصنوعی سہارے تلاش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی تجارت کے بعد دنیا میں دوسری بڑی تجارت کافی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ لوگ اتنی نیند لیں جتنی ان کے لیے ضروری ہے تاکہ ان کے ذہن تازہ دم اور مستعد رہیں کیونکہ یہ مشینوں سے زیادہ ’’آئیڈیاز‘‘ کا دور ہے۔ اس دور میں دنیا کی زیادہ ترقی نت نئے آئیڈیاز کی رہینِ منت ہے اور نت نئے آئیڈیاز سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا دماغ تازہ اور فعال ہو‘ اس پر تھکن اور درماندگی کا غلبہ نہ ہو۔

چونکہ آج کے انسان کو اپنا ہر مسئلہ حل کرنے کے معاملے میں جلدی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر اسے نیند آنے میں دیر لگتی ہے تو وہ اس مسئلے کا حل بھی چٹکی بجاتے میں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اسی خواہش کے نتیجے میں اس وقت دنیا بھر میں سکون آور اور خواب آور دوائوں پر اربوں ڈالر سالانہ خرچ ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ آپ جو بھی مسکن یا خواب آور گولی جس تعداد یا مقدار میں کھاتے ہیں‘ وہ چار چھ ہفتے تک موثر رہتی ہے۔ اس کے بعد بے اثر ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ اتنی طاقت کی گولی سے نہیں سو پاتے اور ستم ظریفی یہ ہوتی ہے کہ اس کے بعد آپ اس گولی کو چھوڑ بھی نہیں پاتے۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو اس گولی کا نشہ لگ جاتا ہے لیکن جس مقصد کے لیے آپ نے گولی کھانا شروع کی تھی‘ وہ مقصد پورا ہونا محض ایک خواب بن جاتا ہے۔ گولی کی طاقت یا تعداد بڑھاتے چلے جانے کی صورت میں بھی بار بار یہی نتیجہ سامنے آتا ہے۔

اسی لیے آپ کو ہر معاشرے میں ایسے لوگ بھی ملیں گے جو دس دس گولیاں کھا رہے ہوں گے اور پھر بھی بے خوابی کی شکایت کر رہے ہوں گے۔ انسانوں کو نیند اور آرام کی کمی کے نتائج سے بچانے کے لیے ہی دنیا بھر میں مختلف ادوار میں ملازمتوں اور مزدوری وغیرہ کے سلسلے میں مختلف اوقات کے نظام اور چھٹی کا نظام وغیرہ نفاذ کیا جاتا رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان تمام انتظامات میں اصلاحات بھی کی جاتی رہی ہیں۔ جن پیشوں میں یا جن جگہوں پر اوقاتِ کار زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔ انسان سے اس کی بساط سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔۔۔ یا لوگ از خود زیادہ کمانے کے لالچ میں اپنی برداشت سے زیادہ کام کرتے ہیں‘ وہاں ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں‘ جو نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر غلط نسخے تجویز کر دیتے ہیں‘ سرجن غلط آپریشن کر دیتے ہیں۔ ڈرائیور اپنی گاڑیاں دوسری گاڑیوں سے ٹکرا دیتے ہیں۔ مزدور اور مشین مین کارخانوں اور فیکٹریوں میں حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مستقل کام کی زیادتی کا شکار رہنے والوں کی حالت نشے میں دھت رہنے والوں جیسی ہو جاتی ہے۔ وہ نہ تو اپنے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں بعد میں یاد رہتا ہے کہ انہوں نے کیا غلطی کی تھی۔ یہ جو آپ اپنے ملک میں اس قسم کے واقعات سنتے ہیں کہ سرجن آپریشن کے دوران مریض یا مریضہ کے پیٹ میں قینچی یا تولیہ بھول گئے۔۔۔ یہ کام کی زیادت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹر اور سرجن زیادہ سے زیادہ کمانے کے لالچ میں ایک ایک دن میں دس دس میجر آپریشن کریں گے تو اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ جن جگہوں پر کارکنوں پر ڈیوٹی ہی ان کی بساط سے زیادہ۔۔۔ اور وہ بھی مستقل طور پر مسلط کی جاتی ہے‘ وہاں بھی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے‘ ورنہ خود کارکن۔۔۔ اور ان کی زد میں آنے والے دوسرے لوگ اس کے بھیانک نتائج بھگتتے رہیں گے۔

(بحوالہ سائنس و ٹیکنالوجی ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*