مشرقی افریقا میں عیسائیت کی لہر

ہارن آف افریقا میں عیسائی بنیاد پرستی کا تیز رفتار فروغ ایک نئے دور کو جنم دے رہا ہے۔ اب تک حکومتیں متاثر نہیں ہوئیں تاہم عوامی سطح پر نیو چرچ موومنٹ کی پذیرائی کی جارہی ہے۔

گزشتہ ماہ ایک اتوار کی سہ پہر پارلیمنٹ کی رکن اور عیسائی مبلغہ مس وینجیرو نے ایک جلسے سے خطاب کے بعد کاغذ کا تھیلا چندہ جمع کرنے کے لیے نکالا۔ مس وینجیرو نے جلسے کے ہزاروں شرکا پر زور دیا کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ریفرینڈم میں حکومت کی تجاویز کو مسترد کردیں۔ ۴؍ اگست کے مجوزہ ریفرینڈم میں دو ایسے نکات ہیں جو عیسائیوں کو کسی طور پسند نہیں۔ پہلا یہ کہ مسلم عدالتوں کو طلاق کے فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا جائے اور دوسرے یہ کہ جہاں ماں کی زندگی خطرے میں پڑتی دکھائی دیتی ہو وہاں اسقاط حمل جائز اور درست ہے۔ جلسے کے شرکا کا جوش و خروش قابل دید تھا۔

یہ سب کچھ جاری ہی تھا کہ کسی نے دو دستی بم اچھالے جن کے پھٹنے سے ۶ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اس دھماکے کا الزام فی الفور حکومت پر عائد کردیا گیا۔ کہا گیا کہ حکومت اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث اعتماد کھوچکی ہے۔ کینیا کے سیاست دان موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ پروٹیسٹنٹ چرچ دنیا بھر میں عیسائیت کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ کینیا کے سیاست دانوں نے ساحلی علاقوں میں پروٹیسٹنٹ چرچ کی طاقت کا اندازہ لگانے میں غلطی کی ہے۔ یہ چرچ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں قائم کیے گئے تھے۔

کینیا میں عیسائی مجموعی آبادی کا پانچ فیصد ہیں تاہم ان کے مبلغین ایک تہائی آبادی کو عیسائیت کی طرف بلاتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں افریقا میں عیسائیت کی نئی لہر پیدا ہوئی۔ ایک کروڑ ۷۰ لاکھ افریقیوں نے بتایا کہ وہ خود کو ایسا عیسائی تصور کرتے ہیں جنہوں نے دوبارہ جنم لیا ہے۔

آج افریقا میں عیسائیوں کی تعداد ۴۰ کروڑ ہے جو پورے بر اعظم کی آبادی کا ایک تہائی ہے۔ جیسا کہ نائیجیریا کے کیس سے سامنے آیا ہے، اب عیسائی مشرقی افریقا میں سرکاری فیصلوں پر غیر معمولی حد تک اثر انداز ہونے لگے ہیں۔ ۴؍ اگست کے ریفرینڈم میں نتیجہ خواہ کچھ برآمد ہو، سچ یہ ہے کہ کینیا کی سیاست میں عیسائی اسقاط حمل کو اشو بناکر دم لیں گے۔ یوگنڈا میں بھی نئے گرجا گھروں کے قیام سے تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے اور عیسائیوں نے ہم جنس پرستی اور مسلمانوں کے دوبارہ عیسائی ہو جانے کے معاملے کو اشو بنادیا ہے۔

مس وینجیرو نے اب عیسائی مبلغہ کی حیثیت سے غیر معمولی مقام پالیا ہے۔ ان کے چرچ جیزز از الائیو منسٹریز کی دعائیہ تقریب میں ایک لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی منظم ہوکر بڑی تقریب منعقد کی جائے تو کم و بیش پانچ لاکھ افراد بھی آ جاتے ہیں! مس وینجیرو نے پینٹی کوسٹل علاقوں میں عیسائیت کے فروغ کا جو خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رکھا تھا اب اسے کسی حد تک شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب بھی ہیں۔ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ زندگی کے مصائب کا انہوں نے ڈٹ کر سامنا کیا ہے۔ گھریلو ملازمہ اور دیگر معمولی نوعیت کے کام کرنے کے بعد انہوں نے مارکیٹنگ کے شعبے میں قدم رکھا اور کامیابی پائی۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہیں خدا نے حکم دیا کہ افریقا میں عیسائیت پھیلائیں۔ ان کی ویب سائٹ سے سی ڈی، وڈیو اور دیگر مواد خریدا جاسکتا ہے۔ وہ فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے اچھی طرح مستفید ہوتی ہیں۔ وہ تنازعات سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ گزشتہ سال انہوں نے منظم جرائم کے گروہ مونگیکی کے سرغنہ مائنا جینگا کو عیسائیت کے دائرے میں داخل کیا۔ جینگا کا گینگ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے اور اس پر مخالفین کو ذبح کرنے کا بھی الزام ہے۔

افریقا کے ساحلی علاقوں میں بیشتر چرچ کسی نہ کسی کی ملکیت ہیں اور یہ سب کچھ کاروباری سطح پر ہو رہا ہے۔ چند ایک خطبات بے جان ہوں تو بھیڑ چھٹنے لگتی ہے۔ کاروبار جاری رکھنے کے لیے پرجوش تقاریر کرنی پڑتی ہیں جن میں سامعین کے جذبات ابھارنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ بعض معاملات میں بڑھک بھی لگائی جاتی ہے۔ افریقا کے مجموعی ماحول میں چرچوں کی لہر کو بعض لوگ پسند اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ ان سے تھوڑا بہت نظم و ضبط تو پیدا ہو رہا ہے۔

چرچز کے اجتماعات میں لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ خدا کی راہ میں دیں گے تو کئی گنا ملے گا۔ معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ بڑا پرکشش پیغام ہے۔ یونیورسٹی آف لندن میں افریقی عیسائیت کے پروفیسر پال گفرڈ کہتے ہیں ’’افریقی ماحول میں اعتقادات کی کجی نمایاں ہے۔ لوگ صدیوں سے چلے آرہی روایات کا دامن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ عیسائیت کی نئی لہر نے لوگوں کی روایات اور اقدار پر ضرب لگانے کی کوشش نہیں کی۔ لوگ جن بھوت پر یقین رکھتے ہیں۔ نئے چرچز نے ان کی روایتی نفسیاتی ضرورتوں کا خیال رکھا ہے۔ اس کا معاشی پہلو بھی ہے۔ افریقا کے لوگ جن بھوت کا اثر ختم کرنے کے لیے اچھی خاصی رقوم خرچ کرتے ہیں۔ اتوار کی صبح چرچ میں عبادت یا دعا کے لیے جمع ہونے کی صورت میں وہ جن بھوت بھگانے پر ضائع ہونے والی رقم بچا سکتے ہیں!‘‘

نئے چرچ مارکیٹ میں پائے جانے والے خلاء کو پُر کرکے صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جن معاشروں میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں ان میں مبلغین عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کی مرضی کی باتیں کر رہے ہیں۔ یوگنڈا میں ہم جنس پرستی کو مجموعی طور پر اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ عیسائی مبلغ مارٹن سیمپا نے ایسے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہم جنس پرستی کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ اس صورت میں وہ لاکھوں افراد کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مارٹن سیمپا نے اپنے اجتماعات میں ہم جنس پرستوں سے متعلق بصری مواد پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ ان کا تعلق امریکا کے ایک احیاء پسند عیسائی مبلغ رک وارن سے بھی رہا ہے۔ رک وارن ہم جنس پرستی کے خلاف لائے جانے والے بل کا مخالف تھا۔ یوگنڈا کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے مشن میں دیگر مبلغین کو بھی کامیابی ملی ہے۔

مشرقی افریقا کے دیگر ممالک میں بھی نئے چرچ تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ اری ٹیریا میں حکومت کی جانب سے کارروائی اور سزائے قید کے انتباہ کے باوجود مبلغین تیزی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ قبطی عیسائیوں کے غلبے والے ممالک میں بھی نئے مبلغین کو کامیابی ملی ہے۔ ان میں ایتھوپیا نمایاں ہے۔ پچاس لاکھ ارکان والا ہیویٹ فرقہ بھی نیو چرچ موومنٹ سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ تنزانیہ کا ایوینجیلیکل لیوتھرن چرچ بھی نیو چرچ موومنٹ سے کم متاثر نہیں۔ برونڈی اور روانڈا میں واپس آنے والے پناہ گزینوں نے نیو چرچ موومنٹ کو ان ممالک میں پھیلایا ہے۔ برونڈی کے صدر کرونزیزا ان عیسائیوں میں سے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان تازہ ہوگیا ہے۔ وہ اب دعائیہ تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں اور ہم جنس پرستی کو جرائم میں شمار کرنے والے قوانین وضع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نیو چرچ موومنٹ اب تک حکومتوں کو زیادہ متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نائجیریا میں اس تحریک نے زور پکڑا ہے تاہم معاشرے میں جو کچھ پختہ ہوچکا ہے اس پر آسانی سے ضرب نہیں لگائی جاسکتی۔ امریکی دائیں بازو نے اس موومنٹ میں کردار ضرور ادا کیا ہے تاہم اس کردار کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھاکر بیان کیا جاتا ہے۔ پیٹ رابرٹسن اور دوسرے بہت سے لوگوں نے اس تحریک میں بہت کچھ لگا رکھا ہے۔ طبقاتی نظام بھی برقرار ہے جس کی جڑوں کو ہلانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ کینیا اور یوگنڈا میں جو لوگ اشرافیہ کہلاتے ہیں ان پر جن بھوت آسانی سے اثر انداز نہیں ہوتے! یہ ایک الگ ہی طبقہ ہے جس کے طور طریقے منفرد ہیں۔ اری ٹیریا اور ایتھوپیا کو چلانے والے سابق مارکسسٹ باغی بھی آسانی سے متاثر ہونے والے نہیں۔

مارٹن سیمپا اور دوسرے مبلغین جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے۔ ہم جنس پرستی کے خلاف انہوں نے پارلیمنٹ میں جو بل پیش کیا تھا اس کا زور اس لیے ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے کہ مبلغین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ سیمپا اور دیگر مبلغین نے کایانجا پر غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ کایانجا پر غریبوں کی خون پسینے کی کمائی پر عیاشی کا الزام بھی ہے۔ یوگنڈا میں عیسائی مبلغین کے واضح مسلم مخالف جذبات بھی خرابی پیدا کر رہے ہیں۔ جو سیاست دان مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ مسلمانوں کو خوش رکھیں۔ مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ نوجوانوں پر البتہ زیادہ توجہ دی جارہی ہے کیونکہ وہی کوئی بڑی اور معنی خیز تبدیلی لاسکتے ہیں۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘۔۳؍جولائی ۲۰۱۰ء )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.