خاتمۂ تاریخ کی جانب واپسی

جاپانی نژاد امریکی مؤرخ اور فلسفی نے ۱۹۹۲ء میں ’’خاتمۂ تاریخ‘‘ کے عنوان سے ایک متنازعہ فیہ کتاب تصنیف کی جس میں اُس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ سیاسی نظریات پر جاری دیرینہ کشمکش کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ کہ لبرل ڈیمو کریسی فاتح کی حیثیت سے سرخرو ہوئی ہے۔ لیکن ماضی کے ۱۶ سال جس میں روس کی طاقت میں اضافہ، چین کی معاشی ترقی اور عراق میں نو قدامت پرستوں کے نظریات کی ناکامی، جہاں فوکویاما نے بہت پہلے صدام حسین کو بے دخل کرنے کا مشورہ دیا تھا، نے اس کے مفروضے کی کامیابی کو معرضِ شک میں ڈال دیا۔ فوکویاما نے نیوز ویک کے نمائندے Matthew Philips سے گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے:۔


فلپس: کیا خاتمۂ تاریخ کے پیچھے جو فلسفہ ہے وہ اب بھی مؤثر ہے؟۔

فوکویاما: جو بنیادی مفروضہ ہے وہ اس وقت بھی صحیح ہے۔ فلسفے کی عوامی تفہیم کے ساتھ مسئلہ یہ رہا ہے کہ جو چیزیں وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں انہیں ہی تاریخ سمجھا گیا ہے جبکہ حقیقت میں مفروضے کا تعلق انسانی معاشروں کے ارتقاء سے ہے، اس سمت سے ہے جس جانب وہ گامزن ہیں اور حکومت کی صورتوں میں ممکنہ حتمی منزل سے ہے۔ لہٰذا روس اور چین میں مطلق العنانیت کے احیاء کے باوجود لبرل ڈیمو کریسی ہی اب بھی وہ واحد طرزِ حکومت ہے جسے وسیع پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے۔ یقینا بہت سارے گروہ مثلاً اسلامی بنیاد پرست اس کا خیال ترک کر چکے ہیں لیکن میں پراعتماد ہوں کہ آگے چل کر جمہوری نظام ہائے حکومت ہی صرف کارآمد نظام ثابت ہوں گے۔

فلپس: کیا یہ پیش رفت آپ کے مفروضے کی نفی نہیں کرتی ہے کہ امریکا زوال پذیر ہے اور لبرل ڈیمو کریسی کو عراق میں شدید دھچکا لگا ہے؟۔

فوکویاما: یہ تحقیق کبھی بھی امریکی بالادستی و تسلط سے مخصوص نہیں رہی ہے بلکہ درحقیقت یورپی یونین لبرل ڈیموکریسی کے اہداف کی بہتر ترجمان ہے۔ دنیا کے مقابلے میں امریکی قوت روبہ زوال ہے کیونکہ طاقت کے دوسرے مراکز اُبھر کر سامنے آ رہے ہیں جس کا ادراک یقینی طور سے پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ لیکن ایک چیز جو تبدیل ہوئی ہے وہ خاص نظریہ ہے جس کی رو سے جمہوریت ایک اچھی چیز ہے اور یہ کہ ہم خیال کرتے ہیں کہ فلاں ممالک جمہوری ہیں۔ اس طرزِ فکر کو دراصل بش انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف موقف کو درست ثابت کرنے کی خاطر استعمال کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ اب دنیا کے لوگ جمہوریت کے اس خاص نظریہ کو بش انتظامیہ سے منصوب کرتے ہیں۔ لہٰذا پیوٹن یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ہم جمہوریت میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں‘‘۔

فلپس: ۱۹۹۲ء میں آپ روس کے متعلق بہت پُرجوش تھے۔ کیا آپ اب بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں؟۔

فوکویاما: جو کچھ روس میں ہو رہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک نسل کی روش ہے۔ جواں سال روسی جنہوں نے نوے کی دہائی میں شعور پکڑا ان کا اس مدت میں ارتباط منفی رہا جو سوویت یونین کے سقوط کے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے خرچ کرنے کے رجحان میں اضافے کو پسند کیا۔ انہوں نے نوے کی دہائی کو قومی رسوائی، کمزوری، انتشار اور بیرونِ ملک پسپائی کا زمانہ خیال کیا۔ وہ سوویت یونین کی طاقت کی جانب رجعت کی چاہت رکھتے تھے۔ انہوں نے اس کا براہِ راست تجربہ نہیں کیا تھا لہٰذا وہ اس انداز میں سوچتے تھے۔ یہ پیوٹن کی حمایت کی بنیاد تھی۔ حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا یہ نسل یورپ کے سفر کے امکان کو یوکرائن اور جارجیا پر حکمرانی کی خاطر ترک کرنا چاہے گی؟۔

فلپس: کیا ان دونوں کو نیٹو میں شامل کیا جانا چاہیے؟۔

فوکویاما: ہاں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس حمایت کے مستحق ہیں کہ ہم بطور نیٹو ارکان ان کے دفاع کے لیے فوج بھیجیں۔ لیکن یہ سوچنا غیرحقیقت پسندی ہو گی کہ امریکا یہ کام کرنے جا رہا ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی۔ پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کی حمایت میں ہمارے ہاتھ مصروف ہیں اور اب جارح روس کے ساتھ لوگوں کا یہ احساس ہے کہ نیٹو ہی وہ جادو کی چھڑی ہے جو بغیر حمایت کیے حفاظت کی ضامن ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں یہ بات حقیقت پسندانہ نہیں ہے کہ ہم روس کے ساتھ سرحدی چھیڑ چھاڑ کریں اور وہ جواباً اس طرح کا سخت جواب دے۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمیں عسکری حمایت پر مبنی ایسے دعوے نہیں کرنا چاہییں جنہیں ہم پورا نہ کر سکیں۔

فلپس: آپ تو قدامت پرستوں کی جانب تمائل اور جھکائو سے بہت دور ہو چکے ہیں؟۔

فوکویاما: میں ان سے برسوں پہلے بیزار ہو چکا تھا۔ میں نے ہمیشہ تاریخ کی مارکسی تفہیم کو اختیار کیا۔ جمہوریت جدید کاری کے وسیع عمل کا نتیجہ ہے جو کہ ہر ملک میں انجام پا رہا ہے۔ نو قدامت پرست یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی طاقت کا استعمال تبدیلی کی رفتار کو تیز کر سکتا ہے لیکن حتمی طور سے اس کا انحصار اُن معاشروں پر ہے جو اس عمل کو خود انجام دے رہے ہیں۔

فلپس: یہ وہی طریقہ ہے جسے آپ نے ۱۹۹۲ء میں محسوس کیا تھا؟۔

فوکویاما: یہ عمل اس سے زیادہ مشکل اور طویل ہے جو میں نے اس وقت محسوس کیا تھا میرا یہ احساس کئی درجہ شدید ہے کہ جمہوریت کی تعمیر اداروں کے ارد گرد ہوتی ہے جن کا قائم کیا جانا بہت مشکل ہے خاص طور سے قانون کی حکمرانی کا۔ دوسری چیز جس کا میں ۱۹۹۲ء میں تصور نہیں کر سکا وہ امریکا کا جمہوریت کے امکانات کے حوالے سے اس قدر متنازعہ اور نقصان دہ ہوجانے کا معاملہ تھا۔

فلپس: اسے درست کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟۔

فوکویاما: شاید تعمیر نو کے کام میں ایک دہائی لگ جائے۔ لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کا احیاء ممکن اس لیے مفروضے کی تہہ میں جو بات ہے کہ جمہوری معاشرے ضروری ہیں وہ ہنوز بہت مضبوط ہے۔

فلپس: کیا امریکا کو جمہوری مسائل پر اپنی توجہ پھر سے مرکوز کرنی چاہیے؟۔

فوکویاما: میں بیرونی ہاتھ کی بات پھر نہیں کروں گا۔ وہاں بہت سارے مسائل موجود ہیں۔ ہم نے بہت سارے وعدے وعید کر رکھے ہیں انہیں پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بیشتر کو غیرعسکری قوت سے بہتر طور پر پورا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں اس بات کی ضرورت ہے کہ امریکا کو نرم قوت کے استعمال پر ازسرِنو زور دینا چاہیے۔

فلپس: آپ نے کہا ہے کہ چین روس کے مقابلے میں زیادہ بڑا چیلنج ہے؟۔

فوکویاما: دو راستے ہیں۔ آپ یا تو چین کے خلاف تحدیدی رکاوٹ تعمیر کر سکتے ہیں جو کہ میرے نوقدامت پرست دوستوں کا مشورہ رہا ہے اور یا تو آپ چینیوں کو جس قدر ممکن ہو WTO کی طرح کے عالمی اداروں میں شامل کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں قابل ترجیح راستہ موخر الذکر ہے خاص طور سے ایسی صورتحال میں ۲۰ سال آگے کی دنیا کا نقشہ ذہن میں رکھتے ہیں جہاں چین کا حجم امریکا کے برابر ہو گا۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک‘‘۔ ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*