آسمانوں اور زمین کا پھوٹنا

زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے بارے میں قرآن حکیم میں بتایا گیا:
’’کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کر دیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے‘‘۔ (الانبیاء: ۳۰)

عربی میں لفظ رتق معنی دیتا ہے ’’آپس میں گھل مل جانے‘‘ اور ’’آمیزہ‘‘ کے۔ یہ لفظ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں دو مختلف اشیاء آپس میں مل کر ایک نئی مکمل شئے کو وجود بخشتی ہیں۔ یہاں بیان ’’ہم نے ان کو الگ کیا‘‘ کے لیے عربی میں فعل فتق ہے اور یہ کسی چیز کو پھاڑ کر یا چیر کر یا رتق کی شکل کو تباہ کرتے ہوئے وجود میں آنے پر لاگو ہوتا ہے۔ ایک بیج کا سطح زمین سے اسے پھاڑتے ہوئے پھوٹنا ایسا عمل ہے جہاں یہ فعل لاگو ہوتا ہے۔ آیئے مندرجہ بالا معلومات ذہن میں رکھتے ہوئے آیت مذکورہ پر دوبارہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس آیت میں آسمان و زمین کو رتق کی ابتدائی حالت بتایا گیا ہے۔ ان کو ایک دوسرے سے نکالتے ہوئے آپس میں علیحدہ (فتق) کیا گیا۔ اگر ہم عظیم دھماکے کے ابتدائی لمحات سے متعلق تصور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ایک واحد نقطے میں کائنات کا سارا مادہ موجود تھا۔ دوسرے الفاظ میں ہر شئے مع ’’آسمانوں اور زمین‘‘ کے جو اب تک تحقیق نہ کیے گئے تھے رتق کی حالت میں تھی۔ یہ نقطہ ایک زبردست قوت کے ساتھ پھٹا۔ جس کی وجہ سے اس میں موجود مادہ پھوٹا (فتق) اور نتیجتاً ساری کائنات وجود میں آئی۔ جب ہم اس آیت میں بیان کردہ حقائق کا سائنسی دریافتوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ دریافتیں بیسویں صدی تک سامنے نہیں آئی تھیں۔

پلٹانے والا آسمان

قرآن حکیم میں سورۃ طارق کی آیت آسمان کے ’’پلٹانے‘‘ والے عمل کی جانب اشارہ دیتی ہے:
ترجمہ: ’’(پلٹانے والے) آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے‘‘

قرآن مجید کے تراجم میں لفظ رجع (Cyclical) کے معنی ’’واپس کر دینے والے‘‘ اور ’’لوٹانے والے‘‘ کے بھی دیے گئے ہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے زمین کو فضا کی پرتیں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر تہہ حیات کے فائدے کے لیے اہم کام سرانجام دیتی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تہیں خلاء سے آنے والے مختلف اجسام یا شعاعوں کے سامنے رہ کر انہیں خلاء میں یا زمین پر واپس موڑنے کا کام کرتی ہیں۔ آیئے اب ہم ان تہوں کے ریسائیکل (Recycle) کرنے والے افعال میں سے چند کا جائزہ لیں۔ ٹروپوسفیئر (Tropo sphere) زمین سے ۱۳ سے ۱۵ کلومیٹر کی بلندی پر ہوتی ہے اور زمین کی سطح سے اوپر اٹھنے والے آبی بخارات کی کثافت بڑھا کر انہیں بارش کی صورت میں زمین پر ’’پلٹا‘‘ دینے کا کام کرتی ہے۔ زمین سے ۲۵ کلومیٹر کی بلندی پر قائم اوزون کی تہہ (Ozone Sphere) خلاء سے آنے والی شعاع افشانی (Radiation) اور بالائی بنفشی شعاعوں (Ultraviolet Rays) کو ’’پلٹا‘‘ کر واپس خلاء میں پھینک دیتی ہے۔ آیو نو سفیئر (Ionosphere) زمین پر نشر ہونے والی ریڈیائی لہروں کو بالکل ایک مواصلاتی سیارے کی طرح ’’پلٹا‘‘ کر واپس زمین کے مختلف حصوں کی جانب ’’موڑ‘‘ دیتی ہے اور اس طرح ریڈیو، ٹیلی ویژن اور وائر لیس نشریات لمبے فاصلوں تک بھیجنا ممکن ہوتا ہے۔ میگنیٹو سفیئر (Magneto Sphere) سورج اور دیگر ستاروں سے خارج ہونے والے نقصان دہ تابکار ذرات (Radioactive Particles) کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں دوبارہ خلاء کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ زمین کی فضاء کی تہوں کی اس واپس کر دینے والی خاصیت کا پتا ماضی قریب میں ہی چلا ہے اور اس بارے میں قرآن میں صدیوں پہلے بتا دیا گیا تھا۔ یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کلام الٰہی ہے۔

ستاروں اور سیاروں کے مدار

قرآن حکیم میں اگر سورج اور چاند کے متعلق دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ایک مخصوص مدار یا مخصوص راستے پر محو حرکت ہے۔
’’اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں‘‘۔ (الانبیاء: ۳۳)

اسی طرح ایک دوسری آیت میں بھی بتایا گیا ہے کہ سورج ساکت نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص مدار میں حرکت پذیر ہے:
’’اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا ((مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے‘‘۔ (یٰس: ۳۸)

قرآن میں بتائی گئیں یہ حقیقتیں ہمارے دور کے جدید فلکیاتی مشاہدوں کی بدولت دریافت ہوئی ہیں۔ ماہرین فلکیات کے لیے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق سورج ایک خاص مدار (Solar Apex) میں ویگا ستارے (Vega Star) کی جانب سات لاکھ بیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے سورج کے ساتھ اس کی کشش ثقل کے زیر اثر سارے سیارے اور سیارچے بھی یہ فاصلہ طے کرتے جا رہے ہیں۔ مزید برآں کائنات میں موجود سارے ستارے اسی سے ملتے جلتے مقررہ گردش میں ہیں۔ یہ کہ تمام کائنات مداروں اور راستوں سے پُر ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے:
ترجمہ: ’’اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں‘‘۔

کائنات میں تقریباً ۲۰۰ ملین کہکشائیں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک میں اندازاً ۲۰۰ ملین ستارے پائے جاتے ہیں ان میں سے اکثر سیاروں کے ذیلی سیارچے ہیں۔ یہ سارے خلائی اجسام نہایت نپے تلے مداروں یا مقررہ راستوں پر سفر کر رہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں سال سے ان اجرام فلکی میں سے ہر ایک دیگر تمام اجسام کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں ایک مکمل ہم آہنگی کے ساتھ تیر رہا ہے۔ علاوہ ازیں کافی تعداد میں دُم دار سیارے بھی اپنے مخصوص مداروں میں حرکت پذیر ہیں۔ کائنات میں موجود مدار صرف خلائی اجسام کے لیے مخصوص کہکشائیں بھی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ متعین اور مخصوص راستوں پر رواں دواں ہیں اپنے سفر کے دوران ان اجرام فلکی میں سے کوئی بھی دوسرے کا طے شدہ راستہ نہیں کاٹتا، نہ دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ جب قرآن نازل ہوا تو اس دور کے انسان کے پاس موجودہ دوربینیں نہیں تھیں اور نہ ترقی یافتہ مشاہداتی ٹیکنالوجی مہیا تھی کہ وہ ان کی امداد سے خلاء کا لاکھوں کلومیٹر تک مشاہدہ کر سکتے اور نہ ان کے پاس جدید طبیعات یا فلکیات کا علم تھا۔ چنانچہ اس وقت سائنسی طور پر یہ جاننا ممکن نہ تھا کہ خلاء ’’راستوں اور مداروں‘‘ سے بھری پڑی ہے، جیسا کہ آیت میں بتایا گیا ہے۔ مگر ہمیں قرآن میں یہ کھول کر اس وقت بتا دیا گیا تھا کیونکہ قرآن خدا کا کلام ہے۔

(بحوالہ: سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*