بھارت میں بابو راج (افسر شاہی) کی کیفیت

تینتیس (۳۳) سالہ رِگزین سامفیل ایک سول سرونٹ ہے۔ وہ صبح اپنے پالے ہوئے طائوس کی آواز پر اُٹھتا ہے جو اس کے بیڈروم کی کھڑکی کے ذریعے اس کے پردۂ سماعت سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔ شمالی ہند میں موسمِ بہار کی صبح کی سہانی دھوپ میں تین بھوری گایوں کی آواز سے بھی وہ لطف اندوز ہوتا ہے جنہیں اس نے دودھ کے لیے پال رکھی ہے۔ چپراسیوں، خدام، مسلح محافظوں پر مشتمل ایک پورا لشکر اس کا حکم بجا لانے کے لیے اس کے حضور موجود ہوتا ہے۔ چار سال پہلے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز (IAS) کا امتحان پاس کرنے والا یہ کار آزمودہ افسر صوبہ اتر پردیش کے مقام جلائون میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہے جسے عرفِ عام میں کلکٹر کہا جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھارت کی کلیدی انتظامی اکائی یعنی ضلع کا اعلیٰ ترین افسر ہوتا ہے۔ جلائون گنگا اور جمنا ندی کے مابین واقع ایک بنجر علاقہ ہے۔ سامفیل کے زیرِ اختیار کوئی ۵۴۶ گائوں اور چودہ لاکھ آبادی ہے۔ بھاری ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنی رہائش گاہ سے جسے کسی مقامی مہاراجہ نے ۱۸۴۰ء کے قریب سرکاری استعمال کے لیے دیا تھا، باہر نکل کر Ambassador نامی کار پر سوار ہوتا ہے۔ یہ کار ۱۹۴۸ء کی کار Morris Oxford کی خوبصورت نسل معلوم ہوتی ہے۔ سامفیل کی یہ کار سائرن اور بلو لائٹ سے آراستہ ہے اور کار کا یہ انداز گزشتہ ساٹھ برسوں سے بھارت کی افسر شاہی کی علامت بن چکا ہے۔ سامفیل کار کی عقبی نشست پر بیٹھتے ہیں اور اگلی نشست پر مشین گن سے مسلح پولیس مین بیٹھتا ہے۔ دو منٹ میں سامفیل اپنے دفتر جسے کلکٹریٹ کہا جاتا ہے، پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں وہ آئندہ چار گھنٹے مہاتما گاندھی کی تصویر کے زیرِ سایہ غریب لوگوں سے جن کا تانتا بندھا رہتا ہے، ملاقات کرتے ہیں۔ ایک دستار بند خادم وہاں ہوتا ہے جو ایک وقت میں صرف ایک درجن افراد ہی کو ملاقات کے لیے کمرے میں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ ملاقاتیوں میں زیادہ تر ضعیف، ستم رسیدہ اور نابینا ہوتے ہیں۔ معذور لوگ اپنے مفلوج اعضا کے ساتھ کلکٹر کے پیروں میں جا گرتے ہیں۔ بہت سارے لوگ تحریری شکل میں اپنی درخواستیں پیش کرتے ہیں جن میں کسی بیوہ کے لیے پنشن جاری کرنے کی بات ہوتی ہے، کسی کے آپریشن کے لیے پیسوں کی مدد کی گزارش ہوتی ہے، کوئی ٹیوب ویل کی درخواست لے کر آتا ہے تو کوئی کمبل کا طالب ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ بدعنوان افسروں کی شکایت کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی آنجہانی سیاست داں کا مجسمہ بنانے کی درخواست کر رہا ہوتا ہے جو کہ اچھوتوں کا رہنما تھا (اشارہ شاید ڈاکٹر امبیدکر کی طرف ہے۔م ف س) ہندوئوں پر مشتمل ہے۔ جناب سامفیل سب کی گزارشات سنتے ہیں، پھر سوالات کرتے ہیں اور تحریری درخواست پر سرخ روشنائی سے مختصر لفظوں میں اپنا فیصلہ لکھ دیتے ہیں۔ وہ ۲ ہزار روپے (تقریباً ۵۰ ڈالر) کی امداد کا حکم دیتے ہیں۔ یہ مدد ریڈ کراس کی طرف سے ہوتی ہے جس کے وہ صدر ہیں۔ وہ اکثر اس افسر کے نام اپنی سفارش لکھ دیتے ہیں جس کے پاس اصلاً یہ درخواست جانی چاہیے تھی یا یہ درخواست اس کے پاس پہلے سے جا بھی چکی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’قانون کے مطابق اس پر کارروائی کی جائے‘‘۔ جناب سامفیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اوقات کا ۶۰ فیصد حصہ ضرورتمندوں سے ملاقات میں گزارتے ہیں حتیٰ کہ کلکٹریٹ سے باہر بھی وہ یہ کام کرتے ہیں۔ جونہی یہ اپنی Ambassdor کار میں واپسی کے لیے سڑک پر آتا ہے، راستے میں متعدد ٹریکٹروں سے اس کا سامنا ہوتا ہے جن میں لوگ اپنی درخواستیں لے کر دور دراز کے گائوں سے آئے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو چولہا جلانے کے لیے لکڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ جناب سامفیل جنگل کے متعلقہ افسر کو بذریعہ فون یہ حکم دے دیتے ہیں کہ درخواست گزار کی یہ ضرورت پوری کر دی جائے۔ ان کی کارکردگی بہت ہی شاندار ہے۔ وہ دن میں ۱۶ گھنٹے اور ہفتے میں سات دن کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ۲۰۰۳ء کے بعد سے انھوں نے اب تک صرف دو دن چھٹیاں کی ہیں لیکن شاید یہ بہت ہی کارگر طریقہ نہیں ہے ضرورتمند لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دینے کا کہ جن کی آبادی نیوزی لینڈ کی نصف ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت کا انتظامیہ عملہ نااہل ہے۔ خود کانگریس حکومت کے اپنے اندازے کے مطابق زیادہ ترقیاتی اخراجات سے وہ لوگ مستفید نہ ہو سکے جن کے لیے یہ مختص کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس یہ تمام رقوم ملک میں پھیلی ہوئی سرطان زدہ بیورو کریسی کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نگہداشت صحت، پانی اور تعلیم کے حوالے سے عالمی معیار کی تکمیل کے بھارت کے پُرعزم منصوبوں کے باوجود صرف پانچ دیہات ایسے ہیں جہاں پبلک سیکٹر میں صحت کے شعبوں میں معمولی نوعیت کی سرمایہ کاری ہے۔ شہری بچوں کی نصف سے زائد آبادی نجی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے اور زراعت میں تقریباً تمام سرمایہ کاری نجی بنیادوں پر ہیں۔ ٹیوب ویل کی کثرت اور چار سالہ خشک سالی کی وجہ سے جلائون میں پانی کی سطح مزید ۱۵ میٹر نیچے چلی گئی ہے۔ دو عظیم دریائوں سے قربت کے باوجود یہاں صرف ۴۰% زمین میں زراعت ہو پائی ہے۔ سامراجی دور کے وقت سے اب تک کوئی نہر یہاں نہیں کھودی گئی ہے۔ اب جبکہ فصل کی کٹائی کا وقت آن پہنچا ہے، جلائون کے کسانوں کی نصف سے زیادہ تعداد کچھ بھی کاشت کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتی ہے۔ ۲۰۰۴ء میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ ہر سطح پر انتظامی اصلاح ان کی ترجیح ہو گی۔ بعض ماہرین اقتصادیات کی نظر میں بھارت کے پبلک سیکٹرز میں بدانتظامی اس کی ترقی میں عظیم ترین رکاوٹ ہے۔ ہارورڈ میں کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ کے Lant Pritchett کے خیال میں یہ مسئلہ دنیا کے دس عظیم ترین مسائل مثلاً ایڈز اور ماحولیات کی تبدیلی وغیرہ کی مانند ہے۔ سابقہ حکومتوں کی یہ پالیسی کہ دو تہائی سول سروسز کی خالی جگہوں کو پُر کیے بغیر جوں کا توں چھوڑ دیا جائے، ہنوز جاری ہے۔ ۲۰۰۱ء سے ساڑھے ساتھ لاکھ آسامیاں خالی ہیں، پُر نہیں ہوئی ہیں۔ حقِ فراہمی اطلاعات کا قانون ۲۰۰۵ء میں پاس ہوا جس میں کم از کم سرکاری مواخذے کا وعدہ موجود ہے لیکن قدرے زلزلہ خیز اصلاح وہ سولہ سالہ مہم ہے جس کے ذریعے ریاستوں سے اختیارات مقامی منتخب اداروں کو جنہیں پنچایت کہا جاتا ہے، اقتدار کی منتقلی ہے جس کا مقصد بیورو کریسی کے سرطان سے نجات حاصل کرنا ہے لیکن اس حوالے سے شاید ہی کوئی خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔

کلرکوں کی بھرمار

ریلوے ملازمین جن کو تنخواہ میں دی جانے والی رقم دنیا کے کسی بھی شعبے میں ادا کی جانے والی تنخواہ کی رقم سے زیادہ ہے، کو شامل کرتے ہوئے بھارت کی مرکزی حکومت کے ملازمین کی تعداد تقریباً ۳۰ لاکھ بنتی ہے اور ریاستوں میں موجود سرکاری ملازمین کی تعداد تقریباً ۷۰ لاکھ ہے۔ ان میں چپراسیوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو صرف فائلوں اور کاغذات کو ایک میز سے دوسری میز تک لے جانے کا کام کرتی ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف پرزونیل اینڈ ٹریننگ کے سربراہ سیتا نند مشرا کے مطابق اونچے درجے کے بیورو کریٹس جنہیں وسیع تر مفہوم میں ’’فیصلہ ساز‘‘ کہا جاتا ہے، کی تعداد صرف ۸۰ ہزار ہے اور آئی اے ایس افسران جو بھارت میں انتظامی امور زیادہ تر سنبھالے ہوئے ہیں، کی تعداد صرف ۵ ہزار چھ سو ہے۔ آئی اے ایس پاس افسران ہی بھارت کے ۶۰۴ ضلعوں میں کلکٹر ہیں اور حکومتی وزارتوں نیز سرکاری کارپوریشنوں میں اونچے عہدوں پر کام کرنے والے افسران کی ۶۰ فیصد سے زیادہ تعداد کا تعلق بھی آئی اے ایس کمیشن پاس گروہ سے ہے۔ باقی افسران پولیس اور ریلوے میں ہیں۔ برطانوی سامراج کے زمانے کا انڈین سول سروس جسے وزیراعظم Lloyd George نے برطانوی حکومت کے ’’اسٹیل فریم‘‘ کا نام دیا تھا، کے جانشیں کی حیثیت سے آئی اے ایس کے لیے یکساں خدمات تفویض کی گئی ہیں۔ یہ ایک قومی اور مستقل نوعیت کی سروس ہے جو اصولی طور پر غیرسیاسی ہے اور ان کی بحالی مرکز میں ہوتی اور وہیں ان کی ٹریننگ بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کے ارکان زیادہ تر ریاستوں میں خدمات انجام دیتے ہیں لیکن ایک زبردست فرق یہ ہے کہ ۶۰۰ بڑے بابوئوں کا گروہ وزیروں کو مشورہ دیتا ہے اور دہلی میں پالیسی وضع کرتا ہے۔ ہندوستان بھر میں آئی اے ایس افسران کے تئیں احترام کا اظہار بھی کیا جاتا ہے اور نفرت و مذمت کا اظہار بھی۔ آئی اے ایس پاس جو مرد حضرات ہیں ان کے لیے رشتوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ شادی کے لیے اس گروہ کو کمپیوٹر صنعت سے وابستہ گروہوں پر بھی ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت کی حالیہ ۸ فیصد اقتصادی شرحِ نمو نے اگر کسی گروہ کے احترام میں اضافہ کیا ہے تو وہ آئی اے ایس افسران ہیں جن کی ضرورت اب روز افزوں ہے۔ امسال دو لاکھ درخواست گزاروں میں سے آئی اے ایس امتحان کے ذریعہ ۱۴۰ لوگوں کو حکومتی شعبوں میں لیا جائے گا اور یہ اب تک بحال ہونے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک مسئلہ یہ ہے کہ آئی اے ایس امتحان پاس کر کے آنے والے افسران کا معیار پہلے سے کافی گر گیا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں مثلاً روز بروز ابتری سے دوچار تعلیمی معیار، نجی سیکٹروں میں ذہین و باصلاحیت افراد کی مانگ، روز بروز بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت اور سب سے بڑھ کر ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن جس کی بنا پر آئی اے ایس مناصب کا نصف اچھوتوں، کم تر ذات کے ہندوئوں اور قبائلی برادریوں کے لیے مخصوص ہے۔ آئی اے ایس افسران کی کارکردگی میں زوال کا سبب اُن پر کام کا اضافی بوجھ بھی ہے۔

جلائون میں جناب سامفیل اصولاً کوئی ۶۵ حکومتی شعبوں کے سربراہ ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق ان شعبوں میں تقریباً ہر پانچ میں سے کوئی ایک شعبہ کسی باصلاحیت افسر کی زیرِ سرکردگی ہے۔ وہ شکایت کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنے ماتحت افسران پر دبائو نہ ڈالیں تو ہر چیز بری طرح تہس نہس ہو کر رہ جائے۔ عام انتظامی امور کے لیے جبکہ کلیکٹریٹ میں کمپیوٹر نہیں ہے جناب سامفیل کے پاس ۲ کروڑ ۲۵ لاکھ ڈالر کا سالانہ بجٹ ہے۔ اپنے برطانوی پیش روئوں کے مقابلے میں جناب سامفیل کی ذمہ داریوں و فرائض کی فہرست کافی لمبی ہو گئی ہے۔ اپنے پیش روئوں کی طرح ان کی بنیادی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور اپنے ضلع میں ریوینیو وصول کرنا ہی ہے۔ امن و امان کے تعلق سے انھیں مقامی پولیس چیف پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے جو کہ جلائون کا دوسرا اوّل درجے کا افسر ہے۔ لیکن ضلع میں جو کہ کبھی بدنامِ زمانہ اور اب مقتول خاتون ڈکیت پھولن دیوی کا علاقہ رہا ہے جناب سامفیل کو مستقل بلایا جاتا ہے کہ وہ من مانی پولیس کارروائی کی منظوری دیں مثلاً یہ کہ Gangster Act کے تحت وہ گرفتاری کی سمری میں توسیع کریں۔ جناب سامفیل کا دوسرا اہم کام یعنی ریونیو کی وصولی کا ہے جو کہ قدرے ہلکا بوجھ ہے۔ زمینی ٹیکس جو برطانوی حکومت کے بعد سے تھوڑا ہی بڑھا ہے، کا مقصد محض رجسٹری کی تجدید ہے۔ چونکہ بدعنوانی اور نااہلی نے اس عمل کو بہت متاثر کیا ہے جو کسانوں کی تشویش کا باعث ہے۔ اس لیے متاثرین کا جھنڈ جناب سامفیل کے دروازے پر ہجوم کیے رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے جو کلکٹرز ہیں ان کی اضافی ذمہ داریاں ہیں یعنی انتخابات کے انعقاد اور رائے شماری کا اہتمام کرانا اور قدرتی آفات کی صورت میں مثلاً سونامی جس کی وجہ سے ۲۰۰۴ء میں جنوبی تامل ناڈو میں ۷ ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے، حکومتی راحت کاری کے کام کو منظم کرنا ہے۔ کلکٹر کے پاس جو دوسرا بارِ گراں ہے وہ بڑے پیمانے پر فلاحی کاموں اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا ہے۔ اس پہلو کو پیشِ نظر رکھ کر آئی اے ایس کی ساخت نہیں ہوئی ہے چنانچہ اس حوالے سے ان کی کارکردگی مجموعی طور سے مایوس کن ہی ہوتی ہے۔ مثلاً جناب سامفیل ۳۰ مشکل فلاحی پروگراموں کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر کی رقم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال انھوں نے ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی رقم کو کنووں کی کھدائی کے لیے مختص کر دی۔ اس پراجیکٹ کا نام National Rural Employment Gurantee Scheme (NREGS) تھا۔ اب امسال اس پروجیکٹ کو پورے بھارت میں پھیلانے کا پروگرام ہے۔ چونکہ خشک سالی نے علاقے کو آلیا ہے لہٰذا جناب سامفیل نے اس منصوبے کے لیے مزید ایک کروڑ ۳ لاکھ ڈالر مطالبہ کیا ہے جو ابھی تک انھیں نہیں ملا ہے۔

سیاسی مداخلت

دنیا کے بہترین ملک میں بھی جناب سامفیل کا اپنے بارِ گراں سے بخوبی عہدہ برآ ہونا ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے کجا کہ بھارت جیسے جمہوری ملک میں جہاں بدعنوانیوں اور سیاسی مداخلت کاری نے ایک کلیکٹر کی ذمہ داری کو بہت ہی مشکل بنا دیا ہے۔ یہ مسئلہ شمالی ہندوستان میں اور بھی سنگین ہے جہاں سول افسران اپنی ترقی اور فروغ کے لیے سیاستدانوں سے اپنے آپ کو وابستہ رکھنا چاہتے یا اس وجہ سے کہ دوسری صورت میں ان کی اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینا مشکل ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے حکومتی نظام میں اس طرح کی روش نے ۱۹۷۵ء کی ایمرجنسی میں قوت حاصل کی جبکہ آنجہانی اندرا گاندھی اعلیٰ حکومتی افسران (Bureaucrats) کے ساتھ مل کر ۲۱ ماہ تک اقتدار پر قبضہ جمائے رہیں۔ اسی طرح ایک سول افسر دہلی میں نوین چاولا تھا جو ان دنوں کے سیاسی تعطل سے فائدہ اٹھانے میں مصروف تھا۔ اس کے گاندھی خاندان اور کانگریس رہنمائوں سے گہرے تعلقات تھے۔ ایمرجنسی کے حوالے سے جب بعد میں تحقیقاتی کمیٹی قائم ہوئی تو اسے کسی بھی پبلک آفس کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ موجودہ حکومت نے اس شخص کو اب بھارتی الیکشن کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بنا دیا ہے۔ بھارتی آئین کے مطابق کسی آئی اے ایس افسر کو سیاسی حکام برطرف نہیں کر سکتے ہیں البتہ اس کے اختیارات سے غلط فائدہ ضرور اٹھا سکتے ہیں۔ اس طرح کہ انھیں وہ منتقلی اور معطلی کے ذریعے دبائو میں لے لیں۔ ۳۱ جنوری کو اترپردیش کی وزیراعلیٰ جو اچھوتوں کی رہنما ہیں، نے ۴ آئی اے افسران کو معطل کر دیا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے راہل گاندھی کی تعریف میں چند تعریفی کلمات تحریر کیے تھے جو کہ اندرا گاندھی کے پوتے ہیں اور کانگریس میں ایک ابھرتی ہوئی شخصیت ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش، اڑیسہ یا بہار میں ہر انتقالِ اقتدار کے بعد متعدد سینئر سول افسران کو کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ جناب سامفیل کے پیش رو بھی ایسے ہی افسران میں شامل ہیں جو کہ اتفاق سے اس ہندو ذات سے تعلق بھی نہیں رکھتے تھے جس سے جانے والے وزیرِ اعلیٰ کا تعلق تھا۔ ۴۔۲۰۰۳ء میں مدھیہ پردیش میں فساد سے پُر حکومت کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک رہنما اوما بھارتی نے ریاست کے ۲۹۶ آئی اے ایس افسران میں سے ۲۴۰ کا تبادلہ کرا دیا۔ اس طرح کی اکھاڑ پچھاڑ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ڈی پی ٹی کے سربراہ جناب مشرا نے حال ہی میں سول سروس کوڈ میں تبدیلی لائی ہے۔ اس طرح ان کی کم سے کم مدتِ ملازمت ۲ سال مختص کر دی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ صرف تھوڑی سی ریاستوں نے اس تبدیلی کو قبول کیا ہے جبکہ آئینی طور سے یہ اس کے ماننے کے پابند ہیں۔ کئی دوسرے اچھے منصوبے اور تجاویز بھی موجود ہیں۔ مسلسل برطرفی کا پروگرام ان میں سے ایک ہے۔ شیلا دکشت کے مطابق جو دہلی کی وزیراعلیٰ ہیں اور ایک آئی اے ایس افسر کی بیوہ ہیں کہ نصف کے قریب آئی اے ایس کے مناصب کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ آئی اے ایس کے لیے عمر کی حد کو اور کم کر دیا جائے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ معیار کی بہتری کا بھی سبب ہو گا۔ اس وقت ایک کلکٹر کی ماہانہ تنخواہ ۵۰۰ ڈالر ہے جسے بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ تنخواہ سے متعلق کمیشن جس کی اس ماہ رپورٹ آنی ہے، سے اضافے کی سفارش کی توقع کی جاتی ہے۔ اس منطق سے، اگرچہ اس کی پشت پر یہ مضبوط شواہد نہیں ہیں، اس بات کا امکان ہے کہ بابو افسران کی چوری کم ہو جائے گی۔ اس سے اُن افراد کی بھرتی کے حوالے سے نجی اداروں کا پیدا کردہ مقابلہ بھی ماند پڑ جائے گا اگرچہ سرکار کو سول افسران کی بھرتی میں کوئی خاص دشواری کا سامنا نہیں ہے۔ گزشتہ سال ۲۰ سے بھی کم آئی اے ایس افسران نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر نجی اداروں کو جوائن کیا تھا۔ بدعنوان اور نااہل افسران سے جان چھڑانا قدرے ہشیاری کا متقاضی ہے۔ آئی ایس کے ۴۰ سالہ کیریئر میں سول سرونٹ کے ایک سابق سربراہ بی کے چترویدی کے مطابق صرف تین افسران معزول کیے گئے۔

مردے کا علاج

خواہ یہ تبدیلیاں کتنی بھی معقول ہوں بہرحال جو اصلاحات سول سرونٹس کی رقم کردہ ہوں گی ان کے ذریعے بھارتی سول سروسز میں کسی تبدیلی کا امکان معدوم ہے۔ اس کام کے لیے الادین کے چراغ جیسی کسی ٹیکنالوجی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک مجاہد آئی اے ایس افسر کی کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ ۲ سالوں میں ریاست کرناٹکا نے ۵۰۰ نجی ٹیلی مراکز قائم کیے ہیں جہاں شہری لینڈ کارڈز، اسنادِ پیدائش و اموات اور ڈرائیونگ لائسنسوں کے لیے آن لائن سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے مرکزی حکومت ایسے ایک لاکھ مراکز کی تعمیر پر غور کر رہی ہے جہاں تعلیم اور صحت سے متعلق بھی آن لائن سہولیات فراہم کی جائے گی۔ کرائے کے خواہشمند افسران کا ایک دو سیڑھیوں کو پھلانگنے کے قواعد واضح ہیں لیکن زیادہ تر غیر اصلاح شدہ نظام میں اجرت طلب افسران کو ٹیکس وصولی کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ایم آئی ٹی کے تحقیق کاروں نے ایک ڈرافٹ پیپر تیار کیا ہے جس کا عنوان بڑا مناسب ہے یعنی ’’مردے کی مرہم پٹی‘‘۔ یہ ان مراعات کی جانب اشارہ ہے جو بھارت کے سرکاری صحت کے مراکز میں نرسوں کو دی گئی ہیں۔ راجستھان کی نرسوں کی ایک کھیپ کو مراعات دی گئی ہیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے جبکہ حال یہ ہے کہ ڈیوٹی پر ان کی حاضری کسی دن بھی ۶۰ فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ تحقیقی مضمون کے مصنف نے کمپیوٹر کے ذریعے ان کی حاضری کا حساب رکھنا شروع کیا۔ وزارتِ صحت کو بھیج دیا۔ سزا کے خوف سے ۵۰ فیصد غیرحاضر نرسیں کام پر لوٹ آئیں۔ ۶ ماہ بعد انھوں نے کمپیوٹر توڑنا شروع کر دیا مشین میں خرابی کی شکایات کرنے لگیں۔ ۱۶ ماہ بعد وہ صحتی مراکز جس کا ذکر مقالہ میں کیا گیا، دوسرے مراکز ہی کی طرح کسی نرس کو رکھنے سے گریزاں ہو گئے۔ اس میں شک نہیں کہ من موہن سنگھ غریب عوام کو اچھی سرکاری نوکریاں فراہم کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن ضرورت ہے کہ بیورو کریسی کو ان کی جڑوں اور شاخوں سمیت جوابدہی کا پابند کیا جائے لیکن ایسا ہونا جلد ممکن نہیں ہے۔ ہاں لیکن ایک تبدیلی کی اُمید کی جاسکتی ہے اور یہ فطری ہو گی چونکہ بھارت کی اقتصادی ترقی اوپر کی طرف ہے جس کی وجہ سے زمین کی قیمتوں اور نجی ٹھیکہ داروں کے لیے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں بدعنوان سیاست دانوں اور افسران کرائے کے ایسے معتبر ذرائع کی تلاش کر سکتے ہیں جو عوام کے منہ سے براہِ راست روٹی چھین لینے کا سبب نہ بنیں۔ بہت ساری اہتمام کردہ اہم اصلاحات جن میں اطلاعات کا حق اور اختیارات کی تقسیم بھی شامل ہیں، اُمید افزا ہیں۔ اگرچہ یہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اس کا اس حالت میں ہونے کی ایک وجہ حاسد افسران کی طرف سے مزاحمت ہے۔ بھارتی پنچایتی نظام یا مقامی حکومت اصولاً فلاحی اور ترقیاتی کاموں کی ذمہ دار ہیں لیکن ان میں بیشتر بے اختیار ہیں۔ صرف دو ریاستوں میں یعنی کمیونسٹ کیرالہ اور مغربی بنگال میں انھیں بجٹ پر اختیار دیا گیا ہے جہاں ادھوری کامیابی انھیں حاصل ہوئی ہے۔ مثلاً کیرالہ نے اپنے ترقیاتی بجٹ کا کل ۹۰ فیصد رقم مقامی حکومت یعنی پنچایتی نظام کے اختیار میں دے دیا ہے۔ NREGS جیسی مرکزی حکومت کی اسکیم کے علاوہ اس جنوبی ریاست میں دیہی پنچایتوں کے پاس سالانہ ۲۵ لاکھ ڈالر کا بجٹ اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا ہوتا ہے۔ اس چیز نے کلکٹر کو بہت سارے انتظامی جھنجٹوں سے آزاد کر دیا ہے مثلاً لینڈ ریکارڈز کی نگرانی کرنے یا پنچایتوں کو مشورہ دینے جیسے اُمور سے۔ کاغذ پر یہ بہت ہی خوفناک معلوم ہوتا ہے لیکن یہاں یہ کام اس وجہ سے بھی ہوا ہے کہ کیرالہ میں بدعنوانی اور بے ایمانی انتہائی کم ہے لیکن چونکہ پنچایت رہنمائوں کا تعلق بیشتر جاگیردارانہ یا سیاسی اشرافیہ سے ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرح خودغرض ہو سکتے ہیں جیسا کہ بابو کہلانے والے افسران ہوتے ہیں۔ کیرالہ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کے چیف افسر اور ریفارم کے اصل روح رواں ایس ایم وجے آنند کا کہنا ہے کہ نئے پنچایتی نظام کلکٹر کی انتظامی صلاحیتوں سے بہرحال محروم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیا نظام قدرے جمہوری مساویانہ اور مواخذے کے موثر طریقوں سے آراستہ ہے تاہم نااہلی کی صورت میں ہمیں اس کی کچھ قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔

کوچی میں جو کہ ریاست کا ساحلی دارالخلافہ ہے، ضلع کلکٹر محمد ہنیش کو دفتر کے انہی جھنجٹوں کا سامنا ہے اور وہ بھی اسی بوجھ سے دوچار ہیں جن سے جناب سامفیل ہیں۔ ۳۸ سالہ ہنیش اپنی سفید ایمبیسڈر کار سے باہر آتے ہوئے کوچی کے مضافات کا بہت شوق سے معائنہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’یہ میرے شہر کا آخری کنارہ ہے اس کے بعد بحیرۂ عرب ہے‘‘۔ وہ یہاں ۴ گھنٹے گزارتے ہیں، دو سو کے قریب غریب درخواست گزاروں کے معاملات نمٹاتے ہیں۔ ان کے زیرِ نگرانی کوئی ۶۰ ڈپارٹمنٹس ہیں۔ اگرچہ جناب سامفیل کے برعکس ان کا بجٹ پر کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ منصوبہ بندی یا سرکاری کاموں کی تکمیل کے کہ جن کے لیے انھیں مامور کیا کیا گیا ہے، براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ ساڑھے تین سال کی ملازمت کے بعد جس کے دوران انھوں نے دس ہزار پروجیکٹ تجاویز دیکھی ہیں، جناب ہنیش کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سے دس سے بھی کم منصوبوں کو ترک کرنے پر وہ مقامی پنچایت کو مجبور کر سکے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ منتخب پنچایت کا سول افسران کے طبقۂ اشراف کے برعکس مواخذہ آسان ہے لیکن اس میں ابھی برسوں لگیں گے جب بھارت کے غریب عوام اس نظام کے فوائد سے اچھی طرح لطف اندوز ہو سکیں گے۔ جناب ہنیش کہتے ہیں کہ اس وقت تو نئے نظام نے ان کی ذمہ داریوں کو بہت مشکل بنا دیا ہے اور غریب عوام کو فائدہ پہنچانا ایک مشکل امر ہو گیا ہے۔ بہت سارے پنچایتی رہنما نااہل ہیں اور بہت سارے بدعنوان بھی ہیں۔ دوسری جگہوں پر صورتِ حال اس سے زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ بیشتر ریاستوں میں بشمول اتر پردیش سیاستدانوں اور بیورو کریٹس نے پنچایتوں کو مناسب اختیار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ کوئیں کھودنے والی اسکیم NREGS اس کی ایک مثال ہے۔ یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہے کہ اترپردیش کی پنچایتیں کس لیے باقی ہیں اگر یہ ایسے ستم رسیدہ مستحقین کی شناخت نہیں کر سکتی ہیں اور ان کو منتظم نہیں کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ کلکٹرز ہیں جو زیادہ تر اسکیم کو کنٹرول کرتے ہیں اور اسی طرح کوچی کے دوزخ جیسے طویل دن میں کام کرنے کے بعد ہنیش گھر میں اگلے روز کی فائلوں پر ۲ بجے رات تک کام کرتے ہیں۔ ادھر جلائون میں، ۲۴۰۰ کلو میٹر شمال میں جناب سامفیل تازہ کھدے کنووں کا معائنہ کرنے کے لیے اور نہر کھدائی کرنے والوں کے لامتناہی سلسلۂ شکایات کو سننے کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’اکانومسٹ‘‘ لندن۔ شمارہ: ۸ مارچ ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*