امریکا نے بے نظیر بھٹو کو منظر سے ہٹایا!

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل سے ’’تہلکہ‘‘ میگزین بھارت کے ہریندر باویجا نے انٹرویو لیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:


تہلکہ: کیا بے نظیر کا قتل پاکستان کی تباہی کا پیش خیمہ ہے؟

حمید گل: حادثات اور جنگوں سے کوئی ملک تباہ نہیں ہوتا بلکہ سیاسی عمل ہے جو کسی ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی اس وقت جو قیادت اُبھر کر سامنے آئی ہے اس نے وفاق کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

تہلکہ: لیکن سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سے یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان کو روز افزوں خطرہ جہادیوں سے ہے؟

حمید گل: جہادیوں نے ان کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ وہ تو ماضی میں جہادیوں کی محافظ رہی ہیں۔ مجھے کہہ لینے دیجیے کہ بے نظیر نے مسئلہ کشمیر پر کبھی نرم موقف اختیار نہیں کیا۔ میں نے ان کی ماتحتی میں آئی ایس آئی ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے کام کیا ہے۔۔۔ ان کے قاتل جہادی نہیں تھے بلکہ امریکی ہمیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انھیں جہادیوں نے قتل کیا ہے۔ امریکی پاکستان کے لیے سازشی منصوبے رکھتے ہیں اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ امریکیوں نے انھیں منظر سے ہٹایا ہے اس لیے کہ امریکیوں کا پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ ڈیل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ یہ یا تو انھیں استعمال کرتے ہیں یا انھیں دبائو کے ذریعے اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں یہ دونوں طریقوں سے کام لیتے ہیں۔ امریکیوں نے ضیاء الحق کی حکومت کے دوران ایک طریقۂ کار وضع کیا۔ جونیجو کو حکومت میں داخل کیا گیا تاکہ اس حکومت پر جمہوریت کا لیبل چسپاں کیا جاسکے، ساتھ ہی ضیاء کا استعمال ختم ہونے کے بعد انھیں بتدریج اقتدار سے باہر کیا جاسکے لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ضیاء صاحب کو اس کی ہوا لگ گئی اور انھوں نے جونیجو کو اقتدار سے سبکدوش کر دیا۔ امریکی بہت پریشان ہوئے اور انھوں نے ضیاء صاحب کا کام تمام کر دیا۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک لاحق نہیں ہے۔

میں نکسن کی کتاب Arena (صفحہ نمبر۱۰۹) سے اس کا حوالہ دوں گا جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’جب ضیاء الحق کا جہاز تباہ ہوا تو فوراً ہی میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں امریکا اپنے دوستوں کو استعمال کرنے کے بعد تباہ کر دیتا ہے‘‘۔ امریکا ہماری داخلی سیاست میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تہلکہ: لیکن یہ بہت ہی واضح ہے کہ وہ امریکا کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ہی پاکستان واپس آئی تھیں؟

حمید گل: وہ واپس اس لیے آئیں کہ وہ تاریخ کا شعور رکھتی تھیں اور اپنے نام سے بدعنوانی کا داغ دھونا چاہتی تھیں۔ انھیں اس صورتِ حال میں دھکیل دیا گیا۔ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل بے نظیر نے دو باتیں کہی تھیں ایک عبدالقدیر خان سے متعلق جو پاکستان کے جوہری بم کے موجد ہیں اور دوسری القاعدہ سے متعلق کہ امریکیوں کو القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دیں گی۔ یہ دونوں ہی امریکا کو بہت زیادہ مطلوب ہیں۔

ایک توپیشگی حملے کا فلسفہ ہے جسے ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے۔ حتیٰ کہ مشرف صاحب بھی براہِ راست مداخلت میں مزاحم رہے ہیں خواہ وہ کتنے ہی شدید امریکا نواز کیوں نہ ہوں۔ لہٰذا بے نظیر یہ کام کیسے کرتیں؟ وہ کس طرح قدیر خان کو ان کے حوالے کر سکتی تھیں؟ لیکن جب وہ آئیں تو اس کے بعد ۷۰ دن ہی گزارے اور اس دوران انھوں نے ایک بار بھی نہ تو قدیر خان کے بارے میں اور نہ ہی طالبان کے بارے میں کوئی بات کی۔ وہ اپنے ایجنڈے سے منحرف ہو گئیں اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مشرف ان کی موت سے قبل اور بعد میں بھی یہ کہتے رہے کہ انھوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ مجھے اس کا براہِ راست علم ہے کہ میرا نام اس فہرست میں شامل کر لیا گیا جو ان لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں ان سے خطرہ تھا لیکن جیسے ہی وہ پاکستان آئیں تو انھوں نے مجھے ایک پیغام بھیجا اور اپنے قتل سے صرف تین دن پہلے انھوں نے مجھے دوسرا پیغام بھیجا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے جنرل صاحب سے پوچھا ہے کہ انھوں نے کس کے کہنے پر میرا نام مذکورہ فہرست میں شامل کیا ہے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے گھر انتخابی مہم ختم ہوتے ہی حاضر ہوں گی۔ انھوں نے مجھے کہلوایا کہ کیا وہ اس بات کو محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ وہ عبدالقدیر خان کی بات نہیں کر رہی ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ امریکا کسی بھی عوامی رہنما کو کبھی قبول نہیں کرتا بالخصوص مسلم ممالک میں۔

تہلکہ: کیا یہ پاکستان کا ایک ناگزیر مسئلہ نہیں ہے کہ وہ امریکیوں کی رہنمائی کے بغیر چل نہیں سکتا؟

حمید گل: یہ پاکستانی نظامِ حکومت اور سیاسی نظام کے بنیادی تضادات میں سے ہے۔ بدقسمتی سے آپ بھارت میں رہنے والے اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں۔ امریکا آقا بن کر رہناچاہتا ہے، دوست بن کر نہیں۔

تہلکہ: پاکستان کے حوالے سے یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ یہ زمین پر سب سے خطرناک جگہ ہے۔ کیا یہ بات آپ کو اور دیگر پاکستانیوں کو بہت زیادہ پریشان کرتی ہے؟

حمید گل: امریکی اسے زمین کی خطرناک ترین جگہ قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اس کے حوالے سے منصوبے رکھتے ہیں۔ اسرائیلی لابی کبھی چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک وہ ہم سے ہمارے جوہری ہتھیار چھین نہیں لیتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہدف پاکستان ہے۔

تہلکہ: لیکن جہادیوں کی پاکستان پرروز افزوں گرفت خودکش حملوں سے واضح ہے۔

حمید گل: یہ صرف اور صرف انتقامی ردِعمل ہے۔ انتقام پختونوں کے خون میں ہے۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ جو لڑکیاں لال مسجد میں جلا دی گئیں اُن کا تعلق سوات (شمالی پاکستان سے تھا)۔ مجھے معلوم ہے کہ لال مسجد میں رہنے والے خودسپردگی کے لیے تیار تھے۔

تہلکہ: فوج اور آئی ایس آئی نے پاکستان میں جمہوریت کو جڑ پکڑنے نہیں دیا۔ یہ صحیح ہے؟

حمید گل: جزوی طور سے سیاستداں بھی اس کے ذمہ دار ہیں لیکن یہ صحیح ہے کہ فوج نے بھی سیاستدانوں کو اس کی اجازت نہیں دی۔ فوج انتظامی شعبے میں کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔ ابھی تازہ مثال ہے کہ جب عدلیہ نے بغاوت کی تو آپ نے دیکھا کہ کس طرح فوج اس پر پل پڑی اور اسے مفلوج کر کے رکھ دیا اور جب میڈیا نے عدلیہ کی حمایت میں آواز اٹھائی تو انھوں نے میڈیا کا بھی گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ یہ ہے پاکستان کی کہانی۔

تہلکہ: ایک سابق سربراہ کی حیثیت سے آپ آئی ایس آئی کوغلطیوں سے مبرا قرار دے رہے ہیں؟

حمید گل: یہ فوجی سربراہ ہے جو سیاسی عزائم سے معمور ہوتا ہے نہ کہ آئی ایس آئی۔ میں نے اس ادارے کی ۳۶ برسوں تک خدمت کی ہے اور آئی ایس آئی نے کبھی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں رکھا لیکن فوجی سربراہوں نے ہمیشہ اقتدار سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سفارتی عہدوں پر فائز ہوتے رہے اور انھیں ہائوسنگ پلاٹس اور زراعتی زمینیں الاٹ ہوتی رہیں۔

تہلکہ: آپ پاکستانی سیاست پر فوج کی گرفت کے تو قائل معلوم ہوتے ہیں لیکن آئی ایس آئی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حمید گل: آئی ایس آئی ایک ایسی شاخ ہے جس کا تعلق سکیورٹی سے ہے۔ پہلی دفاعی لائن کی نگرانی کا معاملہ خفیہ ایجنسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے لہٰذا اسے توانا اور قدرت مند ہونے کا موقع ملا ۔ آئی ایس آئی نے اہم کردار ادا کیا اور یہ اس کے چارٹر میں ہے جس کی توثیق بھٹو صاحب کے دور میں وزاتِ عظمیٰ کے دفتر سے کی گئی یعنی اس کا ایک سیاسی سیل ہے چنانچہ غلطی پر سیاستداں رہے ہیں اور فوجی سربراہ اور ان کے جنرلوں کا حلقہ رہا ہے۔

تہلکہ: بھارتی فوج کے کبھی کوئی سیاسی عزائم نہیں رہے؟

حمید گل: میں اس وقت نام ظاہر نہیں کروں گا لیکن بعض بھارتی جنرلز بہت سنجیدگی سے پاکستانی ماڈل کو اختیار کرنے کی سوچتے تھے خاص طور سے آپریشن بلو اسٹار کے بعد۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ پاکستانی قیادت کے مقابلے میں بھارت کی سیاسی قیادت بہت بالغ نظر ہے اور اپنی جمہوری فکر سے بہت زیادہ وفادار ہے۔ پاکستانی قیادت کی مروجہ سوچ قائداعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد کی ڈپلومیٹ ہے۔

تہلکہ: مہربانی فرما کر ان جنرلوں کے نام بتائیں۔

حمید گل: نہیں میں نہیں بتائوں گا۔ یہ میری مرضی ہے۔

(بحوالہ: ’’تہران ٹائمز‘‘۔ ۱۰ فروری ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.