کرزئی کے لیے اب کوئی ہنی مون نہیں ہوگا!

امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے حالیہ متنازع افغان صدارتی انتخاب کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہونے والے حامد کرزئی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے انقلابی اقدامات کے ذریعے اپنی بدعنوان اور نا اہل انتظامیہ کو تبدیل نہ کیا تو بین الاقوامی امداد اور حمایت ختم بھی ہو سکتی ہے۔ حامد کرزئی کے سابق وزیر خزانہ اور انتخابی حریف اشرف غنی کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہی حامد کرزئی کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے میں خاطر خواہ مدد دے سکتے ہیں۔ کابل میں اپنے گھر پر امریکی جریدے نیوز ویک کے رون مورو اور سمیع یوسف زئی سے ملاقات میں اشرف غنی نے افغانستان کی صورت حال پر اپنے خیالات پیش کیے اور منصوبوں سے آگاہ کیا۔ اس گفتگو کا اقتباس یہاں پیش کیا جارہا ہے۔


نیوز ویک: کیا صدر کرزئی امریکی ہم منصب اور برطانوی وزیراعظم کے مطالبات کو پورا کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟

اشرف غنی: حامد کرزئی کو دو آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ یا تو وہ حکمرانی سے متعلق امور کے ماہر بن جائیں یا پھر یکسر مسترد کردیے جائیں، بھلا دیے جائیں۔ اگر مسترد کیا جانا قبول ہے

تو کچھ خاص محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ جو وہ کرتے آئے ہیں بس وہی کرتے رہیں۔ کابینہ کے ارکان، گورنرز اور دیگر اعلیٰ حکام کے انتخاب کی صورت میں ان کی پہلی آزمائش آنے ہی والی ہے۔ کیا حامد کرزئی ان لوگوں کے احسان کا بدلہ چکائیں گے جنہوں نے انہیں صدارتی انتخاب میں کسی بھی طرح، کسی بھی قیمت پر فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا؟ یا یہ کہ وہ اسی طرح قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ انہوں نے ۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۴ میں کیا تھا؟

نیوز ویک: کیا آپ کو لگتا ہے کہ صدر کرزئی قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟

اشرف غنی: حامد کرزئی جب واشنگٹن میں تھے تب ان کا معاملہ مختلف تھا۔ اب افغانستان نے امریکا کی اندرونی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ جارج واکر بش نے کرزئی سے کہا تھا ’’ہم تمہاری مشکلات سمجھتے ہیں۔‘‘ اب ایسا نہیں ہے۔ کرزئی کو صدر اوباما سے ایسی کوئی تسلی نہیں ملے گی۔

نیوز ویک: کیا حامد کرزئی ایک نئے روپ میں، نئے کردار کے ساتھ سامنے آئیں گے؟

اشرف غنی: افغانستان اور صدر اوباما کی صدارت کا مستقبل کیا ہوگا، اس کا مدار اس بات پر ہے کہ افغانستان کے بحران کو کس طور حل کیا جاتا ہے۔ اس بحران کے خاتمے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ نائن الیون کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ افغان عوام اور امریکی انتظامیہ کے خیالات میں غیر معمولی مطابقت پائی جاتی ہے۔ دونوں کی ایک ہی خواہش ہے، یہ کہ ایک ایسا افغانستان معرض وجود میں آئے جس میں عمدہ حکمرانی ہو اور کوئی بحران نہ پایا جاتا ہو۔ اس راہ میں کون حائل ہے؟ بدعنوان افغان انتظامیہ اور قومی خزانے پر دانت گاڑنے کی ذہنیت جسے بش انتظامیہ نے خوب برداشت کیا اور کرزئی انتظامیہ نے، اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فروغ دیا۔

نیوز ویک: کیا حامد کرزئی کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات بروقت کرسکیں؟

اشرف غنی: اس میں کیا شک ہے! کرزئی کے پاس وہ طاقت ہے جس سے بہتر حکمرانی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔ بدعنوان عناصر اور جنگجو سرداروں کا معاملہ مبالغہ آرائی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ لوگ ایسے غبارے ہیں جن سے ہوا نکل چکی ہے۔ کسی گورنر کی برطرفی پر کبھی کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ کیا برطرف کیے جانے والے لوگ حکومت سے جنگ کرسکتے ہیں؟ نہیں کرسکتے۔ بات یہ ہے کہ ان بدعنوان عناصر کی طاقت صرف اس نکتے میں پوشیدہ ہے کہ مغربی دنیا اور کرزئی انتظامیہ نے انہیں برداشت کیا ہے۔

نیوز ویک: کیا افغان عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے؟

اشرف غنی: اب حامد کرزئی کے لیے کوئی (سیاسی) ہنی مون نہیں ہوگا۔ آج ان کی سیاسی ساکھ بہت ہی نچلی سطح پر ہے۔ انہیں سب سے پہلے تو اپنے آپ پر افغان عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ اگر عوام نے حکومت کی حمایت ترک کردی تو شر پسند عناصر مزید مستحکم ہوجائیں گے اور ان پر قابو پانا بہت مشکل ہوجائے گا۔

نیوز ویک: آپ جس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کیا وہ پہلے ہی سے تقویت نہیں پکڑ چکا؟

اشرف غنی: نہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت کامیابی سے ہمکنار ہو اور ملک میں حقیقی استحکام دکھائی دے۔ انتخابات ہوچکے ہیں۔ حامد کرزئی دوبارہ صدارتی محل میں ہیں۔ یہ جائز انتخابی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ضرورت یا مجبوری کے تحت ہے۔ اگر حامد کرزئی نے درست ڈھنگ سے کام کیا اور ملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا تو عوام کے لیے انہیں دل کی گہرائیوں سے قبول کرنا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ اور ایسی صورت میں ان کی حکومت جائز بھی قرار پائے گی۔

نیوز ویک: آپ دوبارہ کرزئی انتظامیہ کا حصہ بننا پسند کریں گے؟

اشرف غنی: اس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ بنیادی اصلاحات کے لیے کیا پروگرام تشکیل دیا جاتا ہے، کیا ایسی کابینہ معرض وجود میں آتی ہے جو ٹیم کی حیثیت سے (مل کر) کام کرسکے اور یہ کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ اگر ترجیحات کا تعین نہ ہو پائے تو ہماری باتوں اور کارکردگی کو مذاق ہی سمجھا جائے گا۔

نیوز ویک: طالبان کی سرگرمیوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

اشرف غنی: دو ماہ ان کے لیے بہت اچھے گزرے ہیں۔ صدارتی انتخاب اور اس کے بعد کی صورت حال نے جو خلاء پیدا کیا اسے طالبان نے خوب پُر کیا۔ نیگ شگون یہ ہے کہ تمام ہی صدارتی امیدواروں نے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی۔ اب اس بات کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ افغانستان کے مسائل فوجی طریقوں سے حل نہیں ہوں گے بلکہ ہمیں مذاکرات کی راہ پر گامزن ہونا پڑے گا۔ اب کہا جاسکتا ہے کہ آگے بڑھنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

(بحوالہ: ’’نیوز ویک‘‘۔ ۲۳ نومبر ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*