حماس کا راستہ روکنے والے ناکام ہوں گے!

مسئلۂ فلسطین خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے مذاکرات کرنے والی ٹیم قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ وہ سیاسی لچک کے نام پر امریکی اور اسرائیلی شرائط اور ڈکٹیشن قبول کرنے میں کسی حد تک بھی جاسکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار سابق فلسطینی وزیرِ داخلہ اور حماس کے رکنِ اسمبلی سعید صیام نے مرکزِ اطلاعات فلسطین کو انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے غزہ میں امن و امان کی صورتِ حال کو قابلِ اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دم چھلے حماس کی حکومت کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے لیے مختلف سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ غزہ کی پٹی کے خلاف جاری حصار بندی کا مقابلہ ثابت قدمی اور حسن کارکردگی سے کیا جائے گا۔


س: سب سے پہلے، آپ کی رائے میں موجودہ حالات کس رُخ پر جارہے ہیں؟

ج: یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں جوہری تنازعہ مسئلہ فلسطین ہے۔ مسئلہ فلسطین کے خلاف اطراف سے سازشیں کی جارہی ہیں۔ فلسطینی اراضی پر یہودی آبادی قائم کرنے اور متنازعہ باڑ کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔ مسئلہ فلسطین اس وقت ایک خطرناک موڑ پر ہے۔ فلسطین کی طرف سے جس فریق نے مذاکرات شروع کیے وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ سیاسی لچک کے نام پر وہ امریکی اور صہیونی شرائط اور ڈکٹیشن قبول کرنے میں کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔

س: کیا اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ابھی تک اپنے موقف پر قائم ہے؟

ج: جی ہاں! اس کی سب سے بڑی دلیل اسرائیل کی جانب سے حماس کے خلاف علانیہ جنگ ہے۔ حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کی سب سے بڑی وجہ حماس کا اصولوں پر قائم رہنا اور ایسی کوششوں کو ناکام بنانا ہے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق اور اصولوں سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے۔ غزہ کی پٹی کی حصار بندی جاری ہے۔ حماس کو دہشت گرد تنظیم اور غزہ کی پٹی کو اسرائیل کی جانب سے دشمن ریاست قرار دیا گیا ہے۔ یہ تمام امور اس بات کی دلیل ہیں کہ حماس فلسطینی اراضی کی حفاظت اور اصولوں کی پاسداری کے وعدے پر قائم ہے۔

س: حماس کا بیسواں یومِ تاسیس قریب آچکا ہے، کیا حماس کی پالیسیوں اور طرزِ تکلم میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

ج: ہماری تحریک کی کارکردگی میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے سامنے نئے نئے میدان آئے ہیں جس کے لیے وقت کی مناسبت سے سیاسی لچک ضروری تھی لیکن اصولوں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں۔ حماس اپنے اصولوں پر قائم ہے۔ حماس نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مقبولیت حاصل کی ہے۔ درحقیقت حماس نے بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جیت کر وہ فلسطینی سیاسی نظام میں پہلے نمبر پر آگئی ہے۔

س: حماس کے اندر اختلافات کے سوال اٹھائے جارہے ہیں اور کیا ان لوگوں کی بات سچ ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ حماس کے اندر اختلافات موجود ہیں اور یہ اختلافات اسلحہ کے استعمال تک پہنچ سکتے ہیں؟

ج: بڑے افسوس کی بات ہے کہ فتح کی قریبی ویب سائٹس اس طرح کی افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان افواہوں کا مقصد حماس کی ساکھ خراب کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس ایک ادارہ ہے۔ اس کے فیصلے شخصی نہیں ہوتے، چند اشخاص فیصلے نہیں کرتے، البتہ داخلی طور پر ہر شخص کو رائے دینے کا حق حاصل ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ اختلافِ رائے ہوتا ہے لیکن جب حماس کا آفیشل موقف سامنے آتا ہے تو پھر اس سے کوئی اختلاف نہیں کرتا۔ وہ تحریک کے تمام افراد کا موقف ہوتا ہے۔ حماس میں اختلافات کے حوالے سے جو کچھ شائع کیا جارہا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ اس میں کوئی صداقت نہیں۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ ہماری تحریک نے وطن کے لیے قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان کے قائدین شہادتیں پیش کرتے ہیں۔ نام نہاد میڈیا جو افواہیں پھیلا رہا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

س: لیکن حال ہی میں جو بیانات سامنے آئے ہیں، اُن بیانات کو پڑھنے والوں کا خیال ہے کہ تحریک میں اختلافات موجود ہیں۔ خواہ وہ غزہ سے جاری ہوئے ہوں یا مغربی کنارے سے؟

ج: اوّل تو یہ بیانات حماس کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یہ بیانات ذاتی نوعیت کے ہیں۔ حماس کے موقف سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر بھی ہم نے ان بھائیوں سے رجوع کیا جن کی طرف سے یہ بیانات دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ یہ بیانات ان کا انفرادی اجتہاد ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ تحریک کے صحیح موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے بیانات دیں گے۔

س: غزہ کی پٹی پر جاری حصار بندی کے خاتمے کے لیے حماس کیا طریقہ اپنا رہی ہے؟

ج: یہ بات واضح ہے کہ غزہ پر حصار بندی کا مقصد حماس کو پریشانی میں مبتلا کرنا ہے۔ اسے دیوار سے لگانا ہے۔ فلسطینی عوام کو غزہ میں حماس کی حکومت کے خلاف بھرکانا ہے۔ غزہ کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ غزہ میں خورد و نوش کی اشیا کی درآمد روک دی گئی ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں حماس کا موٹو ثابت قدمی اور حسنِ کارکردگی دکھانا ہے۔ پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے، ناکہ بندی کرنے والے امریکی، صہیونی یا اپنے بھائی فلسطینی ہوں وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ حماس فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے اور حصار بندی کا توڑ کرنے کے لیے بین الاقوامی، علاقائی اور اسلامی ممالک سے رابطے میں ہے۔ ڈرامائی صورتِ حال کے حوالے سے بات قبل از وقت ہے لیکن جب بھی اس حصار بندی کے باعث فلسطینی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گا اور دھماکا ہو گا تو اس کی قیمت حصار بندی کرنے والوں کو چکانی ہو گی۔ فلسطینی عوام کے غم و غصے کا رخ داخلی نہیں ہو گا بلکہ محاصرین کی طرف ہو گا۔

س: کیا ثابت قدمی کی بات کرنا کافی ہے؟ عوام پوچھتے ہیں کہ یہ ثابت قدمی کب تک رہے گی؟

ج: ہم نے کہا ہے کہ ثابت قدمی اور حسنِ کارکردگی، حماس اور اس کی حکومت شہریوں کو زندگی کی ضروریات مہیا کرنے کے لیے حتی الامکان کوشاں ہے کیونکہ اصل مسئلہ کھانے اور اس کے معیار یا مقدار کا نہیں ہے بلکہ قابض اور اس کی کٹھ پتلیوں کے خلاف حقیقی جنگ ہے۔ ہم اصحابِ حق ہیں۔ ہم اپنے آپ کو حصار بندی کے سپرد نہیں کر سکتے۔ حصار بندی کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے حماس اِقدامات کر رہی ہے۔ جیسا کہ اپنے ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں مہیا کرنا جن کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔ فلسطینی ہوتے ہوئے ہمارا تجربہ ہے کہ ہمارا صبر اور ثابت قدمی ہمیں کامیابی کی طرف لے جائے گی۔ ہم نے ثابت قدمی اختیار کی اور غزہ کی پٹی سے قابض کو مار بھگایا۔

س: بہت سے عوامی سروے کے نتائج اس رائے کی حمایت و تائید کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی حصار بندی کے خاتمے کے لیے حماس کو قابض صہیونی کے خلاف زوردار کارروائیاں کرنی چاہییں؟

ج: بنیادی طور پر حماس مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔ میں ان لوگوں کے جذبات کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے محاصرین کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی ہے لیکن تنازعہ کے آلات صرف فدائی کارروائیاں ہی نہیں ہیں۔ حماس دوسری مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ہر دن شہادتیں، زخمی اور گرفتاریاں پیش کر رہی ہے۔

قابض اسرائیل کے خلاف بالخصوص غزہ میں زبردست ضربیں لگائی گئی ہیں۔ حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈ کی کارروائیوں میں متعدد صہیونی مارے گئے ہیں لیکن ہم ثابت قدمی اور حسنِ کارکردگی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ داخلی سطح پر قابض حکومت کے خلاف مقابلے میں حکمت و تدبر سے کام لینا ہے۔

س: کیا عرب ممالک کی حکومتیں حماس اور اس کی حکومت سے تعاون کر رہی ہیں؟

ج: جی ہاں! متعدد عرب ممالک سے ہمارے تعلقات اور روابط قائم ہیں البتہ ان ممالک کے مخصوص حالات اور سیاسی فیصلے ہیں۔ ہم ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ہم ان ممالک کی سیاسی یا مالی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

س: آپ وزیرِ داخلہ رہے ہیں، غزہ کی پٹی میں امن و امان کی صورتِ حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: میں فلسطین کی حکومت میں وزیرِ داخلہ رہا ہوں۔ وزارت سے پہلے میں نے ایک عام شہری کی حیثیت سے زندگی گزاری ہے۔ میں واضح کرتا ہوں کہ ماضی اور موجودہ حالات میں بہت فرق ہے۔ ماضی کی بہ نسبت صورتِ حال بہت بہتر ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے بڑے کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ ان جرائم کا خاتمہ ہوا جو سالہا سال سے رونما ہو رہے تھے۔ خاندانی مسائل حل کیے گئے ہیں۔ چوری کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ غزہ میں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن فتح کے بعض شرپسند مسائل پیدا کر کے اور دھماکے کر کے اس صورتِ حال کو مسخ کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ ان شرپسندوں کا مقصد فلسطینی پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچانا اور یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ غزہ میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے۔ متعدد شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ غزہ میں رہنے والے غیرملکی محفوظ زندگی کے احساس کا اقرار کرتے ہیں۔ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف بڑی ذمہ داری کے ساتھ کارروائی کی جارہی ہے۔ لہٰذا ماضی اور موجودہ حالات میں بہت فرق ہے۔

س: دھماکے کرنے والوں اور بدامنی پھیلانے والوں کو گرفتار کرنے کے بعد وزارتِ داخلہ ان سے کیا سلوک کرتی ہے؟

ج: تفتیش کے بعد مجرم کے جرم کے مطابق اسے سول یا فوجی عدالت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک گروہ کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل ہوئی ہے۔ مجرموں کے مزید گروہوں کو فوجی عدالت کے حوالے کیا جارہا ہے۔

س: غزہ میں سابق فلسطینی صدر مرحوم یاسر عرفات کی برسی کے موقع پر ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے حوالے سے اگر بات کریں تو اس موقع پر متعدد شہری جاں بحق ہوئے اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ پولیس پر الزام ہے کہ اس نے یاسر عرفات کی برسی کی تقریب پر گولی چلائی تھی، آپ کا کیا ردِعمل ہے؟

ج: سب سے پہلے تو ہم بڑے فخر سے یہ بات کرتے ہیں کہ آج سے پہلے غزہ میں فتح نے اتنی سہولتوں اور کامیابی سے کبھی تقریب کا انعقاد نہیں کیا۔ پولیس نے انھیں مکمل سہولتیں فراہم کیں۔ بعد میں فائرنگ کے واقعے نے فضا مکدر کر دی۔ ہم نے پوری ذمہ داری کے ساتھ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ تقریب میں فتح کے افراد کے پاس اسلحہ تھا، وہ تقریب کے اندر اور باہر موجود تھے۔ ہم دلیری سے کمیٹی کی رپورٹ کا اعلان کریں گے۔ اگر واقعہ کی ذمہ دار پولیس ہوئی تو اس کا اعلان بھی کریں گے اور ذمہ داران کا محاسبہ بھی کریں گے۔ اگر پولیس کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار ہوا تو اس کا بھی وضاحت سے اعلان کریں گے۔ حقائق تک پہنچنے کے لیے جلسے کی ویڈیو کا غور سے مشاہدہ کیا جارہا ہے۔

س: فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس سے مذاکرات کے لیے سکیورٹی فورسز کو پوزیشن پر لانے کی شرط عائد کی ہے۔ کیا آپ نے ان سے وضاحت طلب کی ہے؟

ج: سب سے پہلے تو ہم غیرمشروط مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کو پہلی پوزیشن پر لانے والی بات کو کوئی فلسطینی شہری قبول نہیں کرتا۔ سکیورٹی فورسز کو پہلی پوزیشن پر لانے کا کیا مطلب ہے۔ کیا سکیورٹی فورسز کے دفاتر اور عمارتیں نہیں ہیں اور وہ کس کے سپرد کی جائیں گی۔ ہم ہوا میں کوئی اقدام قبول نہیں کریں گے۔ ہم سکیورٹی فورسز کو دفاتر سپرد کرنے کے حق میں ہیں۔ اگر سکیورٹی فورسز فلسطینی قومی اتفاق سے تشکیل دی جائیں۔ مذاکرات کے آغاز کا فیصلہ امریکیوں اور صہیونیوں کے ہاتھ میں ہے۔ محمود عباس تو بعض شرائط عائد کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہیں کہ وہ فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن حماس مذاکرات سے انکاری ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمیں ادراک ہے کہ شرائط تو ایک دکھاوا ہیں۔ فیصلے کا اصل اختیار امریکا اور اسرائیل کے پاس ہے۔ ایک عرب ملک نے محمود عباس سے کہا کہ حماس تومذاکرات کے لیے ہاتھ کھولے ہوئے ہیں۔ آپ مذاکرات سے کیوں انکار کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ امریکیوں کو قائل کریں۔

س: آپ کا کیا خیال ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس کے بعد اب حماس سے مذاکرات کریں گے؟

ج: ہم مذاکرات کی بھیک نہیں مانگتے۔ ہم جلدی میں نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کے آپس میں مذاکرات فلسطینیوں کے صہیونیوں سے مذاکرات سے زیادہ ضروری ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی قومی مفاد کی خاطر ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ جس بات میں فلسطینی عوام کو فائدہ ہو، ہم اس معاملے میں کسی حد تک لچک پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

س: حماس کے کنٹرول اور اس کے خلاف اسرائیلی جنگ کے تناظر میں غزہ کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

ج: اسرائیلی خواہش ہے کہ غزہ میں حالات خراب کیے جائیں۔ اسرائیل اپنے حواریوں کے ذریعہ غزہ میں انتشار پھیلانے میں کامیاب بھی ہوا ہے اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ غزہ کو مغربی کنارے سے الگ ہونا پڑا لیکن ہم مغربی کنارے کو غزہ سے علیحدہ کرنے کی بات نہیں کرتے۔ ہم جغرافیائی وحدت کی بات کرتے ہیں۔ ہم اس تقسیم کو مسترد کرتے ہیں لیکن ہر حال میں فلسطینی عوام نے غزہ کو قابض صہیونی اور اس کے دم چھلوں سے پاک کیا ہے۔ فلسطینی عوام چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ہمیں اﷲ پر یقین ہے کہ وہ ہماری قوم کے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا کرے گا اور حصار بندی کرنے والوں اور ان کا ساتھ دینے والوں پر غلبہ نصیب فرمائے گا۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی۔ شمارہ: ۱۰ جنوری ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*