’’آج کا پاکستان‘‘

ملاحظہ فرمایئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ایک تقریر کا کچھ حصہ۔ یہ تقریر ۱۰ نومبر ۱۹۵۱ء کو ککری گرائونڈ‘ کھارادر‘ کراچی میں کی گئی تھی۔ تقریباً ۵۵ برس بعد بھی یہ تجزیہ بالکل ترو تازہ لگتا ہے۔ بس جس جگہ لفظ ’’کمیونسٹ‘‘ ہے‘ اُسے ’’لبرل‘‘ پڑھ لیجے۔ معلوم ہوگا کہ سید مرحوم آج کے پاکستان کی صورتحال کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ (ادارہ)


داخلی مسائل

۱۔ دینی حالت:

خارجی مسائل کے بعد اَب میں ملک کے داخلی حالات پر ایک مختصر تبصرہ کروں گا۔

دوسرے تمام معاملات سے بڑھ کر جو چیز ہمارے لیے اہمیت رکھتی ہے وہ ہماری قوم کی دینی حالت ہے۔اس حالت کا جب ہم جائزہ لے کر دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دینی حیثیت سے ہم مسلسل انحطاط کی طرف جا رہے ہیں اور پاکستان بننے کے بعد یہ رفتارِ انحطاط کم ہونے کے بجائے کچھ اور زیادہ تیز ہوگئی ہے۔ یہ ہمارے نزدیک خطرہ نمبر ایک ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ۔۔۔ بہت بڑا حصہ۔۔۔ احکامِ الٰہی سے بُعد رکھتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں علانیہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ایسے نازک وقت میں بھی لوگ اس سے باز نہیں آتے جب کہ ہم اپنے آپ کو چاروں طرف سے خطرات میں گھِرا ہوا پاتے ہیں اور خدا سے نصرت مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں فرنگیت اور فسق و فجور کی رَو بڑھتی چلی جا رہی ہے اور آج وہ کچھ ہو رہا ہے جو انگریز کے زمانے میں بھی نہ ہوتا تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام آج بھی اسی طرح بے بس ہے جس طرح انگریز کے زمانہ میں تھا۔ بلکہ اس کے اصول اور قوانین اور احکام اُس وقت سے کچھ زیادہ پامال کیے جارہے ہیں‘ جرأت اور جسارت کے ساتھ کیے جارہے ہیں‘ بڑے پیمانے پر کیے جارہے ہیں‘ ان کے خلاف چلنے کی علانیہ تبلیغ ہو رہی ہے اور عوام الناس کو ان کے خلاف چلانے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔

اِس کے سب سے زیادہ افسوسناک دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ سرکاری ملازمتوں سے‘ فوج اور سول دونوں قسم کی ملازمتوں سے‘ اُن لوگوں کو چُن چُن کر نکالا جا رہا ہے جن کے اندر ایمان اور دین داری کی کچھ بھی رمق پائی جاتی ہے۔ اس طرح حکومت کی مشینری روز بروز اسلامی رُجحانات رکھنے والے عناصر سے خالی ہوتی جا رہی ہے اور اُس پر کمیونسٹ اور دُوسرے مخالفِ دین عناصر قابض ہوتے چلے جارہے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ فرنگیت کی اِس تبلیغ اور اس کو رواج دینے کی اِس منظم کوشش کا نشانہ خاص طور پر ہماری عورتیں بنائی جارہی ہیں۔ زور لگایا جارہا ہے کہ اسلامی تہذیب و اخلاق کے اُس آخری حصار کو بھی توڑ دیا جائے جہاں ہر طرف سے پسپا ہو کر اس نے پناہ لی تھی۔ طرح طرح سے تدبیریں کی جا رہی ہیں کہ اس گہوارے کو بھی گندہ کر کے رکھ دیا جائے جہاں ایک مسلمان بچہ سب سے پہلے آنکھ کھولتا ہے اور جہاں اسے مذہب‘ اخلاق‘ آدمیت اور اجتماعی برتائو کا پہلا سبق ملتا ہے۔

یہ سب کچھ اُن مقاصد کے بالکل خلاف ہے جن کا نام لے کر پاکستان بنایا گیا تھا اور جن کے اظہار و اعلان ہی کے طفیل اللہ تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں بخشا تھا۔ کہا یہ گیا تھا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین اس لیے درکار ہے کہ اس میں ہم مسلمان کی سی زندگی بسر کر سکیں‘ اسلام کو پھر سے زندہ اور تازہ کر سکیں اور اسلام کی بنیادوں پر خود اپنے ایک تمدن اور اپنی ایک تہذیب کی عمارت اُٹھا سکیں ۔ مگر جب خدا نے وہ خطہ دے دیا تو اب کیا یہ جا رہا ہے کہ اسلام کے رہے سہے آثار بھی مٹائے جا رہے ہیں اور اُس تہذیب و اخلاق و تمدن کی عمارت مکمل کی جارہی ہے جس کی بنیاد یہاں انگریز رکھ گیا تھا۔

اس صورتِ حال کو ہم جس وجہ سے خطرہ نمبرایک سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ صریح طور پر خدا کے غضب کو دعوت دینے کے ہم معنی ہے۔ ہم ہرگز یہ توقع نہیں کر سکتے کہ اپنے رب کی کھلی کھلی نافرمانیاں کر کے ہم ا س کی رحمت اور نصرت کے مستحق بن سکیں گے۔

اس میں خطرے کا یہ پہلو بھی ہے کہ پاکستان کے عناصر ترکیبی میں نسل‘ زبان‘ جغرافیہ‘ کوئی چیز بھی مشترک نہیں ہے۔ صرف ایک دین ہے جس نے اِن عناصر کو جوڑ کر ایک ملت بنایا ہے۔ دین کی جڑیں یہاں جتنی مضبوط ہوں گی‘ اتنا ہی پاکستان مضبوط ہو گا اور جتنی کمزور ہوں گی‘ اتنا ہی پاکستان کمزور ہو گا۔

اس میں خطرے کا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے ہاں جتنی زیادہ بڑھے گی‘ ہماری قوم میں منافقت اور عقیدہ و عمل کے تضاد کی بیماری بڑھتی چلی جائے گی۔ یہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے اندر اسلامی احکام کی خلاف ورزی پھیلا دینا جس قدر آسان ہے‘ ان کے دلوں سے اسلامی عقائد کو نکال پھینکنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اب اگر صورتِ حال یہ ہو کہ مسلمان عقیدۃً فرض کو فرض‘ حلال کو حلال اور حرام کو حرام ہی سمجھتے رہیں مگر ان میں روز بروز ایسے افراد کی تعداد بڑھتی چلی جائے جو فرض کو فرض جانتے ہوئے ادا نہ کریں‘ حکم کو حکم مانتے ہوئے اس کی تکمیل نہ کریں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس میں خفیہ اور علانیہ مبتلا ہوں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم اپنی آبادی کو روز بروز زیادہ منافق بنا رہے ہیں‘ اس کے کیرکٹر کی بنیادیں ڈھیلی کر رہے ہیں‘ اس کے اندر سے فرض شناسی اور پابندی قانون کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور اس کو یہ تربیت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اعتقاد کے خلاف عمل کرنے کی خوگر ہو جائے۔ کیا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ تپ دق کی بیماری جو ہماری مذہبی زندگی میں پھیلائی جارہی ہے‘ صرف مذہب کے دائرے تک ہی محدود رہ جائے گی؟ ہماری پوری قومی عمارت کو کھوکھلا کر کے نہ رکھ دے گی؟ جو مسلمان خدا اور رسولؐ کے ساتھ مخلص نہ رہے اُس سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ قوم‘ وطن‘ ریاست اور کسی دوسری چیز کے لیے مخلص ثابت ہو سکے گا؟

اس میں خطرے کا یہ پہلو بھی ہے کہ غیر اسلامی اخلاق و اطوار کو رواج دینے کی کوششیں جتنی زیادہ بڑھ رہی ہیں‘ ملک کے دین پسند عناصر میں اُن کے مقابلے اور مزاحمت کا جذبہ بھی اتنا ہی زیادہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس چیز نے ملک کو صریح طور پر دو کیمپوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک اِسلامی کیمپ اور دوسرا غیراسلامی کیمپ غور کرنے کی بات ہے کہ یہ وقت جب کہ ہماری نئی مملکت ابھی ابھی قائم ہوئی ہے‘ آیا اس بات کا متقاضی تھا کہ ہم اِس کی تعمیر و ترقی میں ملِ جُل کر اپنی ساری قومی طاقت صَرف کر دیتے یا اس بات کا کہ ہم دو کیمپوں میں بٹ کر اپنی طاقتیں آپس کی کشمکش میں صَرف کرتے؟ کچھ سوچیے کہ یہ کش مکش ہمیں کدھر لے جا رہی ہے اور آخر کہاں پہنچا کر چھوڑے گی؟

۲۔ اخلاقی حالت:

دین کے بعد ہماری نگاہ میں دوسری چیز جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے‘ اخلاق ہے۔ اس حیثیت سے جب ہم ملک کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا عام اخلاقی انحطاط حقیقت میں ہمارے اس ملک کے لیے خطرہ نمبر دو ہے۔

ملک کے تمام طبقے کیرکٹر کے بودے پن اور بے ضمیری میں مبتلا ہیں۔ اخلاقی خرابیاں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہیں۔ تمام اخلاقی حدود توڑ کر رکھ دی گئی ہیں۔ عام طور پر لوگوں کے دلوں سے یہ احساس مٹتا جا رہا ہے کہ اخلاق بھی کوئی چیز ہے جس کے تقاضوں کا کچھ لحاظ آدمی کو کرنا چاہیے۔ عوام ہوں یا تعلیم یافتہ حضرات‘ سرکاری افسر اور اہلکار ہوں یا سیاسی لیڈر اور پارٹیوں کے کارکن‘ اخبار نویس ہوں یا اہلِ قلم‘ تاجر ہوں یا اہلِ حرفہ‘ زمیندار ہوں یا کسان‘ جس طبقے کو دیکھیے‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی ذمہ داریوں کو بھول چکا ہے اور کسی ایسی حد سے واقف نہیں رہا ہے جس پر وہ اپنی اغراض و خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہوئے رُک جائے۔ ہر شخص اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے ہر بد سے بدتر ذریعہ اختیار کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ حرام اور حلال کی تمیز اُٹھ چکی ہے گناہ اور ثواب کا احساس مٹ گیا ہے۔ بُرائی اور بھلائی کے فرق سے نگاہیں بند کرلی گئی ہیں۔ لوگوں کے ضمیر نے ان کے ذاتی مفاد کے آگے سپر ڈالدی ہے۔ فرائض کو لوگ بھول چکے ہیں اور حقوق سب کو یاد ہیں۔ جھوٹ اور فریب اور چالبازی کام نکالنے کے مقبول ترین ہتھیار بن گئے ہیں۔ رشوت اور خیانت اور حرام خوری کے دوسرے ذرائع شیرِ مادر کی طرح حلال ہوگئے ہیں۔ مال والوں کے مال ضمیروں اور عصمتوں اور شرافتوں کے خریدنے میں صَرف ہو رہے ہیں اور بیچنے والے دھڑلے سے اخلاق کے وہ سارے جوہر بیچ رہے ہیں جو اُن کی نگاہ میں روپے سے کم قیمت رکھتے ہیں۔

مَیں اِس کو اس ملک کے لیے خطرۂ عظیم سمجھتا ہوں۔ کیرکٹر ہی وہ اصل طاقت ہے جس کے بل پر کوئی قوم زندہ رہ سکتی ہے اور ترقی کرسکتی ہے۔ اگر اس طاقت سے ہم محروم ہو جائیں‘ اگر ہمارے اخلا ق کی جان نکل جائے اور ہم بالکل حدود سے ناآشنا ہو کر رہ جائیں تو ترقی کرنا تو درکنار ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔

۳۔تعلیمی حالت:

اب ذرا تعلیمی حالت کو دیکھیے۔ دین اور اخلاق کے بعد میرے نزدیک تعلیم کی اہمیت دوسری دیگر چیزوں میں سب سے زیادہ ہے‘ کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو نئی نسلوں کو بناتی ہے اور اس پر ایک قوم کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر موجودہ نسل بہتر سے بہتر بھی ہو‘ زیادہ سے زیادہ قابلیتوں کی مالک بھی ہو تو اس کی خوبیاں بس اپنے ہی دَور کی خدمت کرسکیں گی۔ قوم کا مستقبل بہرحال آنے والی نسلوں ہی کے ہاتھ میں رہے گا اور وہ ان نسلوں کو اچھی تعلیم ملنے سے روشن اور بُری تعلیم ملنے سے تاریک ہو گا۔

تعلیم کی اس اہمیت کو نگاہ میں رکھ کر جب ہم حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ دیکھ کر ہمارا دل بیٹھ جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار روز بروز پست ہوتا جا رہا ہے۔ جیسی کچھ بُری بھلی تعلیم انگریز کے زمانے میں تھی‘ آج وہ اس معیار پر بھی برقرار نہیں رہی۔ جو لوگ مدارس میں بچوں کو بھیجتے ہیں اور جو لوگ خود تعلیم گاہوں میں کام کر رہے ہیں‘ دونوں سے پوچھ کر دیکھ لیجیے‘ کوئی بھی موجودہ تعلیمی حالت سے مطمئن نہیں ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ہمارے درمیان ایسا پایا جاتا ہو جو اس صورت حال کو خطرے اور تشویش کی نگاہ سے نہ دیکھ رہا ہو۔

پھر اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم کے معاملہ میں انگریز کے زمانے کی بہ نسبت آج کو قابلِ لحاظ تغیرواقع نہیں ہوا ہے۔ جو کچھ ہماری نئی نسلوں کو انگریز بنا رہا تھا وہی کچھ آج ہم خود بنا رہے ہیں۔ وہی فلسفۂ زندگی‘ وہی فکر و نظر‘ وہی خیالات‘ وہی ذہنیتیں‘ وہی قدریںاور وہی علم و عقل کے سانچے۔ کوئی چیز بھی اُس وقت سے آج تک نہیں بدلی ہے۔ حالانکہ پہلے اس بات کا فیصلہ کہ ہماری آئندہ نسلوں کو کیا بننا چاہیے‘ غیروں کے ہاتھ میں تھا اور آج خود ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس سے بڑھ کر ہماری بدقسمتی اور نادانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو تعلیمی اسکیم ہمارے اخلاق و تمدن اور ہماری تہذیب کی جڑیں کاٹنے کے لیے غیروں نے بنائی تھی وہ اب خود ہمارے اپنے ہاتھوں عمل میں آتی ہے۔

پھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اخلاقی تربیت سے ہمارا نظامِ تعلیم بالکل خالی ہے۔ ہم کتابیں تو پڑھا رہے ہیں مگر انسان نہیں بنا رہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر کسی کو انسان نہ بنایا جائے‘ اخلاق کی تربیت دے کر اس کے اندر پاکیزہ جذبات‘ شریفانہ تخیلّات اور عمدہ خصائل نہ پیدا کیے جائیں‘ اس کو اُصول کی پابندی اور اخلاقی حدود کی نگہداشت نہ سکھائی جائے تو تعلیم پاکر وہ سوسائٹی کے لیے ایک مفید رکن بننے کے بجائے اُلٹا ایک خطرناک عنصر بن جائے گا۔ مثلاً ایک شخص کو ڈاکٹر بناتے ہیں مگر اسے انسان نہیں بناتے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ہزاروں بندگانِ خدا کی جانوں سے کھیلے اور لوگوں کی صحتیں اور ان کی زندگیاں اس شخص کے لیے محض روپیہ بنانے کے وسائل بن کر رہ جائیں۔ یا مثلاً ایک شخض قانون پڑھ کر آپ کی درس گاہوں سے نکلتا ہے مگر انسانیت کا سبق سیکھ کر نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ ایسا قانون دان اگر وکیل بنے گا تو قانون کو جرائم پیشہ لوگوں کا کھلونا بنائے گا اور جج بنے گا تو عدل کے بجائے ظلم کرے گا۔ یہ آخر انسانیت کے بغیر صرف کتابی تعلیم پائے ہوئے لوگ ہی تو ہیں جو آج سرکاری محکموں میں بیٹھے رشوت خوریاں‘ حق تلفیاں اور ہر طرح کی بے ایمانیاں کر رہے ہیں‘ جو تجارت میں بلیک مارکیٹنگ اور دوسری بددیانتیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ جو صحافت میں ضمیر فروشی کی بدترین مثالیں پیش کر رہے ہیں اور جن کی اخلاقی خرابیوں سے آج ہماری اجتماعی زندگی کا ہر شعبہ گندگیوں سے آلودہ ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو تعلیم اخلاقی تربیت سے خالی ہو‘ وہ ایک قوم کے لیے نفع سے بڑھ کر مضرت کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ تعلیمی حالت ہمارے لیے خطرہ نمبر تین ہے۔

{}{}{}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*