تیل کے نشے کا علاج

آموری بی لاوِنز(Amory B. Lovins) بہت بڑی باتیں کرتے ہیں۔ ان کی تجویز ہے کہ ۲۰۴۰ء کی دہائی کی شروعات کے ساتھ امریکا کو تیل کی عادت ترک کر دینی چاہیے۔ وہ الٹرا لائٹ کار کی باتیں کرتے ہیں اور دنیا کے بعض عظیم ترین کارپوریٹ ایگزیکٹوز مثلاً وال مارٹ اور ٹکساس انٹرویومنٹس کے ایکزیکٹوز کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح مزید اہلیت کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ لیکن شاید یہ آکسفورڈ کے سابق نمایاں ترین طلبہ میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ہائی اسکول کے زمانے میں اپنے Basment میں ایک نیوکلیئر میگنیٹک ریزوننس اسپیکٹرو میئر تیار کیا اور ۱۹۷۶ء ہی میں گلوبل وارمنگ کی پیشگی خبر دی تھی۔ وہ ایک ایسے گھر میں رہتے ہیں جسے صرف انرجی کی اتنی مقدار کافی ہے جتنی کہ ایک روایتی کو درکار ہوتی ہے۔ بے باکی سے کام لینے کی انھیں اجازت ہے۔ توانائی کے مستقبل سے متعلق ہونے والی گفتگوئوں کے سلسلے جو مفکرین اور ایگزیکٹوز کے ساتھ رہے ہیں، کے ایک سلسلہ میں نیوزویک کے مدیر فرید زکریا نے Amor B. Lovins سے بات کی ہے جو Rock Mountain انسٹی ٹیوٹ کے بانیوں میں سے ہیں اور اس کے چیئرمین بھی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دنیا کو توانائی کے حوالے سے درپیش مسائل میں پُراُمید لوگوں کی کیا رائے ہے۔ گفتگو کا متن درج ذیل ہے:


زکریا: صدر بش کا کہنا ہے کہ ہم تیل کے نشہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اگر صورتِ حال یہی ہے تو کیا اس کا کوئی علاج ہے؟

لاوِنز: دوسروں نے بھی اس بات کو محسوس کیا ہے کہ یہ اصطلاح بالکل درست ہے اگرچہ اس سے واضح طور سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب ہم منشیات کے عادی ہوتے ہیں تو ہم اس کی سپلائی کو کم کرنے کا سوچتے ہیں مگر جب ہم تیل کے نشے کے عادی ہیں تو ہم تیل کی فراہمی میں اضافہ کی کیوں سوچتے ہیں؟ اس کا علاج ہے اور یہ علاج کسی تکلیف کے بغیر ہے اور منافع بخش ہے۔ میری ٹیم نے ۲۰۰۴ء میں پنٹاگون کے لیے ایک تفصیلی نقشِ راہ (Roadmap) تیار کیا تھا تاکہ امریکا ۲۰۴۰ء کی دہائی کے آغاز تک تیل سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر سکے، ایسی تجارت کے ذریعہ جو منافع بخش ہو۔ نصف تیل اس طرح بچایا جاسکتا ہے کہ ہم ان کے استعمال کی اہلیت کو دُگنا کر دیں۔ واضح رہے کہ ۱۹۷۵ء سے اہلیت پہلے ہی سے دُگنی چلی آرہی ہے۔ باقی نصف تیل کی جگہ محفوظ قدرتی گیس اور افزودہ حیاتیاتی ایندھن (Biofuels) کے آمیزہ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس کے ذریعہ وہ تمام کام انجام دے سکتے ہیں جو ہم تیل کے ذریعہ انجام دیتے ہیںاور وہ بھی تیل پر جتنا صرفہ آتا ہے اس کی صرف ایک چوتھائی قیمت پر، نیز کارکردگی پر کسی مصالحت کے بغیر اور زیادہ بہتر تحفظ کے ساتھ۔

زکریا: آپ فرماتے ہیں کہ یہ بغیر کسی تکلیف کے ہے اور منافع بخش بھی ہے تو بازار میں یہ اس وقت مقبول کیوں نہیں ہے؟

لاوِنز: درحقیقت اس کی مقبولیت کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ بھی قدرے تیزی کے ساتھ کیونکہ اب لوگوں کو یقین ہو چلا ہے کہ یہ ممکن العمل ہے۔ آپ مجھے ایک مثال پیش کرنے کی اجازت دیں۔ ۲۰۰۴ء میں بوئنگ نے ۷۸۷ ڈریم لائنزکو مزید ترقی یافتہ بنانے کی مہم کا آغاز کیا جو کہ اس سال ۸ جولائی کو اختتام کو پہنچی اور یہ ترقی یافتہ ماڈل آئندہ سال گاہکوں کی خدمت کے لیے فضا میں اڑان بھر ے گا۔ یہ اپنے پیش رو ماڈل کے مقابلے میں ۵/۱ حصہ تیل کم کھاتا ہے مگر قیمت اس کی یکساں ہے۔ ہوائی جہاز کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ رفتار کے ساتھ ٹیک آف لے گا۔ اس کی فروخت ۲۰۱۴ء سے شروع ہو گی۔ یہ چیز فورڈ موٹر کمپنی کے لیے باعثِ رغبت ہوئی اور اس لیے کمپنی نے بوٹنگ کے تجارتی ہوائی جہازوں کے شعبہ کے سربراہ کو اپنے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے بلا لیا ہے اور اب وہ ڈیٹر وائٹ میں اپنی معلومات اور نئی تبدیلی لانے کی مہارت کے ساتھ تشریف فرما ہیں۔

زکریا: چنانچہ کاروں کی جانب بڑھتی ہوئی ڈیزائن کی یہ اہلیتیں ہائبریڈ ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم ہیں؟

لاوِنز: یہ ٹھیک ہے۔ یہ ایک تاریخی حادثہ ہے کہ ہائبریڈ ٹیکنالوجی پہلے سامنے آئی۔ تین چوتھائی توانائی تو کار کو حرکت دینے میں صرف ہوئی ہے جس کا سبب اس کا وزن ہے۔ لہٰذا وزن کم کرنے میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اسے مہنگا اور غیرمحفوظ تصور کیا جاتا تھا لیکن جدید، مضبوط اور ہلکے مٹیریلز مثلاً ہلکی دھاتیں، الٹرا لائٹ اسٹیلز یا کاربن فائبر کمپوزٹس کو استعمال میں لا کر ہم وزن اور سائز کو ایک دوسرے سے آزاد کر سکتے ہیں۔ ہم ایسی کاریں بناسکتے ہیں جو بہت بڑی ہوں، ساتھ ساتھ محفوظ اور آرام دہ بھی ہوں اور یہ بھاری بھی نہ ہوں کہ دشواری کا سبب ہوں جو کہ نااہلی کی دلیل ہے۔ لہٰذا ہم اس طرح بیک وقت تیل اور زندگیاں دونوں ہی بچا سکتے ہیں۔

زکریا: آپ کے خیال میں حکومت کو ہمیں تیل کے نشے سے چھٹکارا دلانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

لاوِنز: حکومتوں کو ریاستی سطح پر کام کا آغاز کرتے ہوئے Feebates کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ اصطلاح Fee اور Rebate کا مرکب ہے۔ یعنی یہ کہ زیادہ تیل کھانے والی اور بھاری بھرکم گاڑیوں کے خریدار پر Fee عائد کرنا چاہیے اور ہلکی گاڑیاں جو کم تیل خرچ کرنے والی ہوں، کے خریداروں کو ان فیسوں سے Rebate دیا جانا چاہیے۔ فوئیل ٹیکس عائد کرنے کا طریقہ بہت زیادہ موثر اور مضبوط نہیں ہے، اس لیے کہ بھاری بھرکم گاڑیاں جو تیل زیادہ کھاتی ہیں، بازار میں اُن پر رعایتیں بہت دے دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ انھیں خریدتے ہیں۔ البتہ ڈرائیور کم کرتے ہیں تاکہ تیل کم خرچ ہو اور اس صورت میں فوئیل ٹیکس کا بوجھ بھی ان پر نہ پڑے یا کم پڑے۔ فوئیل ٹیکس میں اس کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ لوگ ہلکی اور کم تیل خرچ کرنے والی کاروں کی خریداری کو ترجیح دیں۔

زکریا: ایک اوسط درجے کا صارف توانائی کے کم استعمال کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟

لاوِنز: جب آپ ایک کار خریدیں تو زیادہ سے زیادہ ہلکی اور کم توانائی خرچ کرنے والی کار خریدیں۔ پھر ڈرائیو بھی بہت ٹھیک طریقے سے کریں کہ تیل کا اوسط خرچ مناسب رہے۔ اس بارے میں خوب سوچیں کہ آیا جو سفر آپ کر رہے ہیں، وہ ضروری ہے اور یہ کہ آپ کی گاڑی میں بیٹھنے والوں کی تعداد کیا ہے۔ اپنے کام کی جگہ اور اپنی دکان سے قریب رہائش اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

زکریا: آپ روشن پہلو دیکھتے ہیں۔

لاوِنز: میرا خیال ہے کہ چند دہائیاں پیچھے کی طرف ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس قدر پریشانی و تشویش کس وجہ سے ہے۔ وھیل مچھلی کے تیل کی طرح یہ تیل بھی عنقا ہو جائے گا۔ بہت قبل اس کے کہ یہ اونچی قیمتوں پر بھی نایاب ہو قبل تیل نیچی قیمت پر بھی غیرمسابقانہ (Uncompititive) ہو رہا ہے، بلکہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا ہم اسے زمین کے اندر ہی چھوڑ دیں گے۔ یہ بہت اچھا ہے کہ یہ زمین کے اندرمحفوظ ہے لیکن یہ کشید کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک‘‘۔ شمارہ: ۱۶ ؍اگست ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*