ترکی: صحافت پر پابندی۔۔۔ یورپی یونین کی تنقید

یورپی یونین کی سالانہ رپورٹ میں ترک پریس پر عائد پابندیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ۹؍نومبر کو جب ترک صدر عبداللہ گل نے برطانیہ کی ملکہ سے کیتھم ہاؤس پرائز حاصل کیا تو اس کے چند ہی گھنٹوں کے بعد یورپی یونین نے ترکی کے معاملے پر اپنی پروگریس رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں ترکی پر زور دیا گیا کہ یونانی قبرصیوں کے لیے ترک بندر گاہیں اور ایئر پورٹس کھولے جائیں۔ عبداللہ گل نے یک طرفہ رعایت دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس حوالے سے بیلجیم کی تنقید بھی مسترد کردی۔ عبداللہ گل نے یاد دلایا کہ یورپی یونین نے ترک قبرصیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ ۲۰۰۴ء میں کیا تھا مگر اب تک اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ برطانوی میزبانوں نے بھی ان سے اتفاق کیا۔

یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کا معاملہ اب تک اٹکا ہوا ہے۔ اس حوالے سے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ کئی ممالک اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ قبرص کا معاملہ بھی کم سنگین نہیں۔ ترک صدر نے دی اکنامسٹ کو بتایا کہ ہزار مشکلات کے باوجود ترکی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے رکنیت کے لیے ترک عوام کی خواہش کے ختم ہو جانے کا انتباہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی پر مغرب سے ہٹ کر مشرق کی طرف جھکنے کا الزام صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے عائد کیا جاتا ہے۔ ترکی کو یقین ہے کہ اگر اس نے امریکا کے میزائل ڈیفینس سسٹم میں شمولیت اختیار کی تو اسرائیل پر شدید نکتہ چینی اور ایران سے بہتر سلوک کے باوجود اسے مغربی دنیا میں قبول کرلیا جائے گا۔

یورپی یونین نے اپنی رپورٹ میں ترکی کے چند اقدامات کو خاص طور پر سراہا ہے۔ اقلیتوں سے بہتر سلوک، کرد زبان کی نشریات کے فروغ، تعذیرات میں اصلاح، آئینی ترامیم اور آرمینیائی زبان کی درسی کتب کو اسکولوں میں جاری کرنے کی اجازت دیئے جانے کو مثبت اقدامات قرار دے کر ان کی تعریف کی گئی ہے۔

یورپی یونین نے ترکی میں پریس سے روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی میں چالیس صحافی جیلوں میں ہیں اور مقدمات کا انتظار کر رہے ہیں۔ حکمراں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی پر نکتہ چینی کرنے والے کالم نگاروں کو فارغ کرنے کے لیے اخباری مالکان پر دباؤ ڈالے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترکی کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ڈوگن کے خلاف ٹیکس کے حوالے سے کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب اس نے حکمراں جماعت کے سیاست دانوں کی کرپشن کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا۔ کئی سرکردہ صحافیوں نے اعتراف کیا ہے کہ اب وہ ایسی کوئی بھی بات لکھنے سے گریز کرتے ہیں جس سے وزیر اعظم طیب اردگان کے ناراض ہونے کا خدشہ ہو۔

عبداللہ گل نے ان معاملات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی میں صحافیوں کو سب کچھ لکھنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ صحافیوں کو زیادہ آزادی دینے کے سلسلے میں آئینی اور قانونی اصلاحات پر غور کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر عدالت سے متعلق حساس دستاویزات طشت از بام کرنے یا انہیں غلط طریقے سے استعمال کرنے کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ عبداللہ گل کی اس بات سے متفق ہونے والے کم ہیں۔

صحافیوں کی آزادی اور بہبود کے لیے کام کرنے والے گروپ رپورٹر ودھ آؤٹ بارڈرز نے ۲۰۱۰ء کی رپورٹ میں صحافتی آزادی کے حوالے سے ترکی کو ۱۷۸ ممالک میں ۱۳۸ نمبر پر رکھا ہے۔ دی ایسوسی ایشن آف یوروپین جرنلسٹس کے ولیم ہورسلے کو بھی ترکی میں صحافیوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے فکر لاحق ہے۔ انقرہ میں حال ہی میں صحافیوں کے ایک گروپ نے مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم طیب اردگان سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو بہتر انداز سے کام کرنے کے لیے مزید آزادی دی جائے۔ اکتوبر میں ایک کانفرنس کے دوران ترکی کے معروف ایڈیٹر ارکان اپیکی نے تعذیرات میں ۲۷ ایسے آرٹیکلز کی نشاندہی کی جو رپورٹروں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ترکی کے ڈکٹیٹر شپ میں تبدیل ہو جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے مخالفین اس تنقید سے پوری طرح متفق ہیں۔ ترکی میں یورپی یونین کے سابق سفیر کیرن فوگ کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ اپوزیشن کے لیے اچھے سیاسی ایجنڈے کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ سینٹر لیفٹ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلکداروغلو نے پارٹی پر گرفت مستحکم کرلی ہے۔ وہ جون میں ہونے والا اگلا الیکشن جیت بھی سکتے ہیں۔ یورپی یونین سے بہتر رپورٹ پانے کے لیے ترکی کو مزید اصلاحات کرنی ہوں گی۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۱۳؍نومبر۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.