ترکی اور یورپی یونین۔ برف پگھل رہی ہے؟

یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ترکی نے بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ یورپی یونین کسی ایسے ملک کو قبول کرنے کے لیے بظاہر تیار نہیں جو مسلم اکثریت کا حامل بھی ہے اور بہت حد تک اسلامی مزاج بھی رکھتا ہے۔ بہت سے ترک اب یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے مایوس ہوچکے ہیں، مگر مبصرین کہتے ہیں کہ ہمت اور امید ہارنے کی ضرورت نہیں۔ اب بھی کسی نہ کسی طرح پیش رفت ہو رہی ہے۔

تقریباً تیس ماہ تک یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا معاملہ سرد خانے میں پڑے رہنے کے بعد اب ایک بار پھر کچھ گرمی حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برف پگھل رہی ہے۔ نکولس سرکوزی کی صدارت میں فرانس نے لازمی قرار پانے والے ۳۵؍ ابواب میں سے ۵ پر پابندی لگادی تھی۔ اب فرانس کی طرف سے کچھ نرم گوشہ دکھایا جارہا ہے۔ قبرص میں Nicos Anastasiades نے صدارتی انتخاب میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ۲۰۰۴ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایک منصوبے کی حمایت کی تھی، جس کا مقصد قبرص کا اتحاد تھا۔ ترک قبرصیوں نے نکوس کی حمایت کی جبکہ یونانی قبرصیوں نے انہیں مسترد کردیا۔ اگر وہ چاہتے تو قبرصیوں کی آباد کاری کے حوالے سے گفت و شنید کو نیا رخ دے سکتے تھے مگر اس صورت میں انہیں اپنے ہی چند ویٹوز سے دست بردار ہونا پڑتا۔

ویسے ترکی مسلم اکثریت کا ملک ہے، اس حقیقت سے ہٹ کر بھی یورپی یونین میں اس کی رکنیت کی راہ میں حائل ایک بڑی دیوار یہ ہے کہ وہ یونانی قبرص کے جہازوں کو اپنی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک رہا ہے۔

ایک حالیہ کانفرنس میں ترک وزیر خارجہ احمد داؤتوغلو نے کہا کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دوسری طرف ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے جھنجھلاکر کہا کہ ترکی بہت جلد چین، روس اور وسط ایشیا کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن جائے گا۔ مگر بہت جلد انہوں نے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔ یہ بدحواسی حیرت انگیز نہیں۔ ۲۰۰۵ء میں جب ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، تب ۷۰ فیصد ترک چاہتے تھے کہ یورپی یونین کی رکنیت حاصل کی جائے۔ اب رکنیت کے لیے حمایت صرف ۳۳ فیصد رہ گئی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور آسٹریا اور ہالینڈ کے رہنما یورپی یونین میں رکنیت کے خلاف ہیں۔ یورپی امور کے ترک وزیر ایجمین باغس (Agemen Bagis) کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی رکنیت کا معاملہ ہاں یا نہ کا ہے۔ یعنی اس میں کوئی درمیانی راہ نہیں۔

رجب طیب اردوان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی قیادت میں ترکی سترہویں بڑی معیشت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یورپی یونین کے امور سے متعلق ماہر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ یورپی یونین کے کرتا دھرتا اب ترکی پر افلاس کا الزام عائد نہیں کرسکتے۔ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے دس سالہ اقتدار نے ملک کو زیادہ جمہوری بنادیا ہے۔ فوج اپنی سیاسی قوت سے محروم ہوچکی ہے۔ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں متعدد جرنیلوں سمیت سیکڑوں فوجی افسران جیل میں ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ دس سال میں کمزور اپوزیشن اور مضبوط اقتدار کے باعث جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی خاصی سرکش ہوچکی ہے اور حدوں سے تجاوز کرتی دکھائی دیتی ہے۔ نیو یارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کہتی ہے کہ ترکی میں ۴۹ صحافی جیل میں ہیں۔ اس اعتبار سے ترکی کو صحافیوں کی جیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے مخالفین کو انسدادِ دہشت گردی کے مبہم قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا جاتا ہے۔ ایجمین باغس کہتے ہیں کہ ترکی میں سب کچھ بالکل درست نہیں مگر آج کا ترکی کل کے ترکی سے تو بہتر ہے۔ یہ جواب ناقدین کو مطمئن نہیں کرسکتا۔

ترکی خارجہ امور میں بھی زور آزمائی کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی جانب سے دی جانے والی امداد دس برسوں میں ۲۷ گنا ہوچکی ہے۔ مگر شام سے ملنے والی سرحد پر ایک حالیہ کار بم دھماکے میں بہت سے ترک باشندوں کی ہلاکت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ شام کے باغیوں کی مدد ترکی کو خاصی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ مغرب نے مداخلت سے گریز کرکے ترکی کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اگر یورپ اِس معاملے میں ترکی کے ساتھ ہوتا تو تعلقات بہتر بنانے کا اس سے اچھا کوئی موقع نہ ہوتا۔ اردوان نے اسیر کرد رہنما عبداللہ عوقلان سے مذاکرات شروع کردیے ہیں۔ یورپی یونین کی رکنیت ایسی ترغیب ہے، جو ترکوں اور کردوں کو معاہدے تک پہنچا سکتی ہے۔ زیر ترتیب آئین میں بہت سے امور داخل کرنے ہوں گے تاکہ ملک کے اندر ہم آہنگی بڑھے۔ کرد چاہتے ہیں کہ انہیں زیادہ علاقائی خود مختاری دی جائے۔ علاقائی امداد پر یورپی یونین کا غیر منجمد باب بہت حد تک اس سے مطابقت رکھتا ہے۔

(“Turkey and the European Union: A Tiny Thaw?”… “The Economist”. Feb. 23rd, 2013)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.