ترک بغاوت اور مصر کی حمایت

سلامتی کونسل میں ترکی کی ناکام فوجی بغاوت کے خلاف مذمتی قرارداد مصر کی وجہ سے پیش نہ ہو سکی، جس پر ترک وزارت خارجہ نے مصر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قرارداد کے حوالے سے مصر کی مخالفت ہمارے لیے حیرت کا با عث نہیں، کیونکہ مصر کی موجودہ حکومت فوجی بغاوت کے نتیجے میں ہی اقتدار میں آئی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران بلغک کا کہنا تھا کہ ’’ فوجی بغاوت کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی مصری حکومت کی جانب سے یہ قدرتی عمل ہے کہ وہ جمہوری طریقہ سے منتخب ہونے والے ہمارے صدر اور حکومت کے خلاف ہونے والی اس بغاوت پر کوئی اصولی اور واضح موقف اختیار کرے‘‘۔

مصر اقوام متحدہ کے دس غیر مستقل ممالک میں سے واحد ملک ہے جو ترکی میں اقدام بغاوت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ قرارداد میں رکاوٹ کا باعث بنا۔

امریکی حکام نے نیٹو اتحادی ملک ترکی کے حکام سے مشورے کے بعد ایک قرارداد پیش کی ،جس میں ترکی کی تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی اس حکومت کی مکمل حمایت کریں ۔

لیکن جب اقوام متحدہ میں اس پر بحث ہونے لگی تو مصر کا کہنا تھا کہ ’’کسی کو جمہوری حکومت کا درجہ دینا سلامتی کونسل کا کام نہیں‘‘ اس لیے اس قرارد اد کے الفاظ میں ترمیم کی جائے۔

ایردوان حکومت کے تعلقات مصر سے نہایت کشیدہ ہیں۔ایردوان مصر میں قائم ہونے والی مرسی حکومت کے سب سے بڑے حمایتی تھے ،جسے ۲۰۱۳ ء میں مصری فوج نے معزول کر دیا۔مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والے سخت کریک ڈاؤن کی وجہ اخوان کے سیکڑوں راہنما اب بھی ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ترک راہنما نے اس سارے عمل کو بغاوت قرار دیا تھا اور مصری جنرل عبدالفتاح السیسی کی سخت مذمت کی تھی جو اب مصر کے صدر ہیں۔

ہفتے کی صبح مصری عوام جب بیدار ہوئے تو حکومتی اخبارات نے ایردوان حکومت کے خاتمے کی خبر کو شہ سرخیوں میں جگہ دی۔ حکومتی اخبار ’’الاحرام‘‘ کی سرخی تھی کہ ’’ترک آرمی نے ایردوان کا تختہ الٹ دیا‘‘۔

ایک اور اخبار کی سرخی تھی ’’ایردوان کا دورِ حکومت ختم‘‘۔

“Turkey hits back at Egypt for ‘coup support'”. (“alaraby.co.uk”. 18 July, 2016)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*