ترکی: طیب ایردوان ریفرنڈم بھی جیت گئے!

ایسا لگتا ہے کہ انہیں ہرانے والا اب تک پیدا نہیں ہوا۔ ترکی کے اسلام پسند وزیر اعظم طیب ایردوان نے ایک بار پھر ووٹروں کا اعتماد حاصل کرلیا ہے۔ اس بار انہیں آئینی تبدیلیوں کے حوالے سے منعقدہ ریفرنڈم میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آئینی اصلاحات سے سیاست پر فوج کے اثرات مزید کم ہوں گے جبکہ عدالتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی ری پبلیکنز پیپلز پارٹی کے (سی ایچ پی) لیڈر کمال کلکاروغلو نے قوم کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں ملک سیکولر ازم کی راہ سے مزید ہٹ جائے گا مگر ان کی کسی نے نہیں سنی۔

ریفرنڈم میں حصہ لینے کا تناسب ۷۷ فیصد تھا۔ ۵۸ فیصد ووٹرز نے طیب ایردوان کی متعارف کرائی ہوئی آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب سی ایچ پی کی طرح دی نیشنلسٹ ایکشن پارٹی (ایم ایچ سی) نے بھی ریفرینڈم میں مات کھائی۔ اس پارٹی نے اس نکتے پر زور دیا کہ کرد باغیوں کے خلاف حکومت نے زیادہ سختی نہیں دکھائی۔ جن علاقوں میں دی نیشنلسٹ ایکشن پارٹی کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں بھی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے اکثریت کی حمایت حاصل کی۔

ریفرنڈم میں شاندار کامیابی کے بعد ایردوان نے عہد کیا کہ ۱۹۸۰ء میں فوجی حکومت کا نافذ کردہ آئین مکمل طور پر نئے سرے سے لکھا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں آئندہ سال موسم گرما تک انتظار کرنا پڑے گا جب عام انتخابات ہوں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اے کے پارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کی تو طیب ایردوان ممکنہ طور پر ۲۰۱۲ء میں صدارتی انتخاب لڑسکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایردوان ترکی کے لیے سخت مزاج شہنشاہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ مگر یہ سب تو مبالغہ آرائی ہے۔ ترکی میں تبدیلیوں کا موسم چل رہا ہے۔ اصلاحات آ رہی ہیں اور اپوزیشن انہیں گلے لگانے میں ناکام ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ اپنی حیثیت سے محروم بھی ہوتی جارہی ہے۔

اے کے پارٹی ۲۰۰۲ء سے اقتدار میں ہے۔ اس دوران اس نے فری مارکیٹ اور جمہوریت کے حق میں بہت کچھ کیا ہے۔ ترکی نے سیاسی اصلاحات کا جو سفر شروع کیا ہے اس کی منزل اس لیے زیادہ دور نہیں لگتی کہ یورپی یونین نے اس کے اقدامات سے متاثر ہوکر ۲۰۰۵ء میں رکنیت کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا۔ ترکی کی معیشت دن گزرنے کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ قومی سطح پر غیر معمولی اعتماد بھی پیدا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بحرانوں کا دور اب لد گیا ہے۔

کیا ترکی میں ایردوان کے لیے بھرپور حمایت پائی جاتی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ ایردوان کو یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ ریفرینڈم میں ان کی متعارف کردہ اصلاحات کے خلاف ووٹ دینے والوں کا تناسب ۴۲ فیصد تک ہے۔ مغربی اور جنوب مغربی ترکی میں حکومت کے مخالفین کا تناسب زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے صرف آسانیاں نہیں ہیں۔

مخالفین کا تشویش میں مبتلا ہونا درست ہے؟ بہت حد تک۔ بات یہ ہے کہ ایردوان نے اپنے مخالفین کو خاموش کرنے میں کبھی تساہل نہیں دکھایا۔ انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ حکومت کے تمام مخالفین کو غیر موثر کردیا جائے۔ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ڈوگن کو بھی انہوں نے اس قابو میں کیا ہے کہ اس نے حال ہی میں ایک شو حکومت کے دباؤ پر بند کیا اور سیکولر ذہن رکھنے والے متعدد کالم نگاروں کو فارغ کردیا۔ میڈیا کو مکمل آزادی میسر نہیں۔ حکومت کی کرپشن کی باتیں کھل کر سامنے نہیں آ پاتیں۔ ترکی میں میڈیا کے اداروں کے مالکان سچائی کو بیان کرنے پر کاروباری مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف ترکی کی واضح اسلام پسند پارٹی سعادت بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ ایسے میں کسی بھی جانب سے تعمیری تنقید کا ابھرنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جنوب مغربی ترکی میں کردوں کی اکثریت ہے اور ان علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے ریفرینڈم کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ ووٹروں کی اکثریت نے اس اپیل کا مثبت جواب دیا اور ریفرینڈم سے دور رہے۔ کردستان ورکرز پارٹی ۲۶ سال سے علیحدگی کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا اثر اب بھی کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پی کے کے نے دھمکی دی ہے کہ اگر کردوں کو مزید حقوق نہ ملے اور ایردوان نے نئے آئین سے متعلق اپنا وعدہ نہ نبھایا تو جنگ بندی ختم کردی جائے گی۔

ریفرنڈم نے ایردوان کو سکون کا سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کیا ہوگا۔ اب انہیں سخت رویے کے حامل ججوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ٹف ٹائم نہیں ملے گا۔ ایسے میں ان کے پاس بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے خاصا وقت ہوگا۔ کمال کلکاروغلو نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔ ماضی کا تجربہ شاہد ہے کہ ترکی میں کردوں کو حقوق دینے اور نئے آئین کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپوزیشن کی حمایت ناگزیر ہے۔ جب تک کردوں کا مسئلہ موجود ہے، ترکی حقیقی جمہوری ملک کی حیثیت سے پروان نہیں چڑھ سکتا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۱۸؍ ستمبر ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*