برطانیہ: اسلام مخالف پروپیگنڈا

پہلی تصویر

۲۲ مئی ۲۰۱۳ء کو جنوبی لندن کی ایک آبادی میں ایک بیس سالہ برطانوی فوجی پر دو افراد نے حملہ کر کے اس کا سر کاٹ دیا۔ یہ خبر اگلے روز ٹائمز آف انڈیا سمیت کئی اخباروں میں شائع ہوئی۔ نفسِ خبر یہی ہے لیکن آگے کی تفصیل اخباروں نے یہ بتائی ہے کہ دونوں حملہ آور ’’اسلامی نعرے‘‘ لگا رہے تھے، یعنی ’’اسلامی دہشت گرد ‘‘ تھے۔ پولیس نے ان پر فائر کیا اور زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کردیا۔ وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ اس کے بعد سے یہ خبر تسلسل کے ساتھ آرہی ہے کہ پورے برطانیہ میں مسلم مخالف جذبات تیزی سے فروغ پارہے ہیں، مسلمانوں پر جابجا حملے بھی ہو رہے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ اسے اسلام اور مغرب کی حالتِ جنگ قرار دے رہے ہیں۔ ۲۶ مئی کے ٹائمز آف انڈیا میں یہ رپورٹ کچھ زیادہ تفصیل سے چھپی ہے۔ کچھ برطانویوں سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ ’’اسلام اپنے آغاز ہی سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں رہا ہے‘‘۔ اس سے قبل بوسٹن میراتھن کے دھماکوں کے بعد بھی یہ خبریں کئی دن تک لگاتار آتی رہیں۔ دنیا کو بتایا جاتا رہا کہ برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول گہرا ہوتا جارہا ہے۔ ان پر حملے بھی ہو رہے ہیں۔

اور یہ دوسری تصویر

اب ذرا ایک دوسری رپورٹ کا خلاصہ بھی دیکھیے۔ یہ رپورٹ کیمبرج یونیورسٹی کے حوالے سے ۲۴ مئی ۲۰۱۳ء کے اخباروں میں اور نیٹ پر آئی ہے۔ ’’مغرب میں اس تصور عام کے باوجود کہ اسلام اپنی خواتین کو بہت کم آزادی دیتا ہے، برطانیہ کے سفید فام باشندے بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں، جن کا سالانہ اوسط تقریباً پچاس ہزار ہے، ان میں دو تہائی خواتین ہوتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین تعلیم یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور آزاد کیریئر والی یعنی بینکر، ڈاکٹر، براڈکاسٹر وغیرہ ہوتی ہیں اور خوب جانتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں، ان میں اکثر کو اپنے گھر والوں کی مخالفت کا سامنا بھی ہوتا ہے… اہم بات یہ کہ اسلام کے خلاف جتنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، برطانوی باشندے اسلام میں اتنی ہی زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ ’’۱۱/۹ کے بعد اس رجحان میں زبردست اضافہ ہوا ہے…‘‘ کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز اور لیسٹر کے نیومسلم پروجیکٹ نے اپنی اس تحقیقی رپورٹ جو ۱۲۹؍ صفحات پر مشتمل ہے، جاری کردی ہے۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر خواتین کے لیے اسلام میں دلچسپی کا محرک اسلام مخالف پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ (دی ہندو ۲۴ مئی)

دونوں تصویروں کا موازنہ

اب دونوں تصویروں کی حقیقت پر غور کریں۔ پہلی رپورٹ سراسر پروپیگنڈا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اسلام مخالف پروپیگنڈے سے سادہ لوح برطانوی متاثر ہوتے ہیں، مسلمانوں پر حملے بھی کرتے ہیں، لیکن ان کی تعداد وہ نہیں ہوتی جو بتائی جاتی ہے اور جہاں تک تشدد کے ڈرامے کرکے انہیں مسلمانوں سے منسوب کرنے، ان کی تحویل سے ’’دستاویزی ثبوت‘‘ برآمد کرنے، ان سے اسلامی نعرے لگوانے جیسی حرکتوں کا تعلق ہے، ان کی حقیقت بھی برطانویوں پر کھل رہی ہے۔ دراصل اسلام کے دشمنوں کی یہ چال پرانی ہوچکی ہے۔ اپنے ایجنٹوں سے تشدد نہ کرانا، بعض اوقات انہیں مسلمانوں کے بھیس میں بھیجنا اور پھر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دینا، عام برطانوی کی سمجھ میں بھی آنے لگا ہے۔ پہلی تصویر میڈیا کی بھرپور شرکت سے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دوسری تصویر میڈیا کے لاکھ چھپانے کے باوجود دنیا کے سامنے آجاتی ہے۔ یہ قیاس نہیں، محض دعویٰ نہیں، کھلی حقیقت ہے جس پر بڑی تعداد میں برطانوی باشندوں کا قبولِ اسلام شاہد ہے۔ کیمبرج کی رپورٹ میں ہائی پروفائل نو مسلمات کے ذیل میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بیوی کی بہن لارین بوتھ، معروف براڈ کاسٹر یونی ریڈلی اور ایم ٹی وی کی اینکر کرسٹینے بیکر کے نام گنوائے گئے ہیں۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ یکم جون ۲۰۱۳ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.