فلسطینیوں کی قاتل‘ اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۸۱

اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۸۱ کو ایک ایسی دستاویز قرار دیا جا سکتا ہے جس نے نہ صرف ایشیا میں بلکہ پوری دنیا میں لاقانونیت اور بے اصولی کے کوہ ہمالیہ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس قرارداد کے نتیجے میں نہ صرف ارضِ مقدس فلسطین کے حصے بخرے ہو گئے بلکہ اسرائیل کی صورت میں ایک ایسے ناسور نے جنم لے لیا جس کا موجود دنیا میں قبل ازیں کوئی ذکر نہ تھا۔

۱۹۱۷ء سے قبل ارضِ مقدس فلسطین خلافت عثمانیہ ترکیہ کا ایک حصہ تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ خلیفہ دوم کے وقت سے سقوط دولت عثمانیہ تک عرب اور مسلم دنیا کا اہم تہذیبی و ثقافتی مرکز اور سرزمین، مسلمانوں کی عملداری میں رہی۔ جنگِ عظیم اول میں جب عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو کئی ممالک شکست و ریخت اور توڑ پھوڑ کا شکار ہوئے۔ داخلی انتشار اور بیرونی یلغار کے نتیجے میں برطانوی استعمار اس سرزمینِ انبیا پر تسلط قائم کرنے میں قائم ہو گیا۔ جمعیت اقوام (League of Nations) نے ۱۹۲۰ء میں برطانوی انتداب (British Maudate) کو قانونی حیثیت دے دی اور یہ سارا علاقہ ۱۹۲۰ء سے ۱۹۴۸ء تک مختلف ممالک سے آنے والے یہودیوں کی قیام گاہ بنتا چلا گیا۔ اس کے باضابطہ شواہد موجود ہیں کہ روس، امریکا، فرانس، جرمنی اور دیگر علاقوں سے یہودیوں کو ایک مہم کی صورت میں یہاں لایا اور بسایا گیا۔

برطانوی استعمار نے برصغیر میں مسئلہ کشمیر کے جنم لینے سے بہت پہلے ۱۹۳۷ء میں عرب ممالک کے عین قلب میں ایک ناجائز یہودی ریاست کی تخلیق کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کر دیا تھا۔ تجویز یہ تھی کہ اس سرزمین کو یہودی ریاست اور عرب ریاست میں تقسیم کر دیا جائے۔ تقسیمِ فلسطین کے لیے فارمولہ یہ گھڑا گیا کہ بے وطن قوم کے لیے وطن اور بے آباد علاقے کے لیے آبادی بہت ضروری ہے۔ جرمنی کے نازی آمر اڈولف ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس کی وجہ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم میں یہودیوں کا سازشی کردار تھا۔ یہودیوں کا متنازعہ دعویٰ ہے کہ اڈولف ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو گیس چیمبرز اور عقوبت خانوں میں اذیتیں دے دے کر مار ڈالا تھا لیکن اس کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جنگ عظیم دوم کے بعد تک برطانیہ کو عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی اور اس سپر پاور نے نہ صرف مقامی فلسطینیوں کو جبر، ظلم، تشدد کے ذریعے غریب فلسطینیوں کو ارد گرد کے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جن لوگوں نے اپنے گھر، دیہات، قصبے اور شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ انہیں تہہ تیغ کر دیا گیا۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کے دوران قتل و غارت گری کی جو مہم ہندوئوں نے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف چلائی تھی۔ وہی مہم ۱۹۴۸ء میں فلسطینی علاقوں میں یہودیوں نے برطانوی حکمرانوں کے ساتھ مل کر مسلم فلسطینی آبادی کے خلاف چلائی جس کے نتیجے میں چھ لاکھ فلسطینی مسلمان اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اب باسٹھ برس بعد جلا وطن ہونے والوں اور ان کی اولاد کی تعداد ساٹھ لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے اور وہ دنیا بھر میں اسی انتظار میں ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ اپنے آباء واجداد کی سرزمین پر جاکر آباد ہوں اور ارضِ مقدس فلسطین کی مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کریں۔

قرارداد نمبر ۱۸۱ میں فلسطین کو تین علاقوں یہودی ریاست، عرب ریاست اور اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام بیت المقدس شہر میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن عملی طور پر صرف یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کی متعصبانہ اور جانبدارانہ کردار کی وجہ سے اسرائیل کی ریاست وجود میں آ گئی۔ امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور روس اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اسرائیل کی سرپرستی کرتے رہے تازہ صورتال یہ ہے کہ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۸ء کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ننگی فوجی جارحیت ۲۳ دنوں تک مسلط رکھی۔ ۱۵۰۰ افراد کو شہید کیا۔ ۶۰۰۰ افراد کو زخمی کیا اور اربوں ڈالر کے اسباب کو نقصان پہنچایا اور جب اقوام متحدہ میں مذمت کی قرار داد کا وقت آیا تو امریکی مندوب اجلاس سے غائب تھا آج جب مغربی ممالک بلیوں، کتوں، کبوتروں اور چڑیوں، درختوں، سمندروں، ہوا اور پانی کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے تو ہزاروں غیر حکومتی تنظیموں کو لے کر میدان میں اتر چکے ہیں لیکن اقوام متحدہ کو یہ یاد کرانے والا کوئی بھی نہیں ہے کہ آپ نے فلسطین کی سرزمین پر جو ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کا کیا ہوا۔ عرب ریاست کیا ہوئی اور عالم عرب میں پائیدار امن کا خواب کہاں دریا برد ہو گیا ہے۔

سابق امریکی صدر جارج بش کے عراق کے خلاف پہلی جنگ کے دوران کہے گئے الفاظ ’’جو ہمارے ساتھ نہیں، ہمارا دشمن ہے‘‘ کو وسعت دے دی جائے اور یہ کہا جائے کہ جو ’’فلسطینیوں کے ساتھ نہیں، فلسطینیوں کا دشمن ہے‘‘ تو محسوس ہو گا کہ اقوام متحدہ نے دو ریاستی حل تجویز کر کے فلسطینیوں کو ان کے اس وطن سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی جس میں وہ پانچ ہزار برس سے رہ رہے ہیں۔ دنیا بھر کے نام نہاد دانشور اس پر اطمینان کیے بیٹھے ہیں کہ ساٹھ لاکھ منتشر فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر واپس نہ آنے دیا جائے گا۔

۱۹۸۸ء میں عرب فلسطینی ریاست کی آزادی کا اعلان کیا گیا اور ۱۹۹۳ء کے فلسطین… اسرائیل اوسلو معاہدے کے ذریعے اقوام متحدہ کے پیدا کردہ مسئلے کا یہ حل تجویز کیا گیا کہ ۷۴ فیصد علاقے پر اسرائیل کا قانونی تسلط تسلیم کر لیا جائے اور ۲۶ فیصد علاقہ فلسطینیوں کو فلسطینی اتھارٹی کے نام سے دے دیا جائے لیکن عملی طور پر اسرائیل کا اقتدار مسلَّم ہے اور اقوام عالم، اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے امیر و غریب ممالک کو اس کی بالکل پرواہ نہیں ہے کہ سوا کروڑ کی آبادی کی حامل فلسطینی قوم اپنے حق سے باسٹھ برس سے محروم ہے۔ مشرقی تیمور کے آٹھ لاکھ عیسائیوں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسلسل جنگ لڑنے والے اور بالآخر اسے آزادی اور کامیابی سے ہمکنار کرانے والے مسئلہ فلسطین پر خاموش کیوں ہیں؟

اقوام متحدہ کی قرارداد میں یہودیوںکے قومی وطن کی اعلانِ بالفور کی روشنی میں منظوری دی گئی تھی لیکن اسرائیل نے جو اقدامات کیے اس نے نہ صرف عربوں کو کمزور کیا بلکہ ایسی سرکش ریاست وجود میں آ گئی کہ جس نے دہشت گردی کی پشت پناہی کی اور کھلم کھلا اعلان کیا کہ ہم کسی اقوام متحدہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر اقوام متحدہ انصاف کی فراہمی کا ادارہ ہوتا تو بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنتا۔

تاریخ اور علوم سیاسیات کا طالب علم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جن یہودیوں پر ترس کھا کر انہیں فلسطین میں ریاست قائم کرنے کا موقع دیا گیا تھا انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ یہودیوں اور صہیونیوں اور غیر فوجی دستوں نے فلسطینیوں کو نکال باہر کیا۔

جولائی ۱۹۵۰ء میں اسرائیلی پارلیمان (Knesset) نے قانون پاس کیا کہ کوئی بھی یہودی جو دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو اسے اسرائیل آنے اور اسرائیل کا شہری بننے کا حق حاصل ہے؟ لیکن فلسطینی جو ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء سے پہلے برس ہا برس اور نسل در نسل سے وہاں رہ رہے تھے۔ انہیں یہ حق کیوں حاصل نہیں ہے؟۔

۱۹۵۶ء میں برطانیہ، فرانس، اسرائیل نے مصر کی نہر سویز کے خلاف کیوں کارروائی کی ہے۔

۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے جنگی ماحول بنا کر جنگ کی بنیاد کیوں رکھی؟ اردن سے مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی شام سے گولان کی پہاڑیاں اور مصر سے صحرائے سینا کیوں چھینا۔ اس کے نتیجے میں اس کا رقبہ اس اصل رقبے سے پانچ گنا ہو گیا۔ جس قرار داد کو بنیاد بنا کر اپنے وجود کو قانونی وجود کہتا ہے۔

اسی قرارداد نمبر ۱۸۱ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل تمام ممالک اور ریاستوں کی آزادی خود مختاری کا احترام کرے گا لیکن اس کے برعکس اس نے نہ صرف فلسطینیوں کی سرزمین کو پامال کیا بلکہ مصر، شام، اردن، لبنان کے علاقے بھی ہڑپ کرنا شروع کر دیے۔ اس سوال کا جواب اقوام متحدہ کے ذمہ داران کو فراہم کرنا ہے کہ کیا بے وطن یہودیوں کو وطن اس لیے فراہم کیا گیا تھا کہ عالم عرب کے فلسطینیوں اور عربوں کی آزادیاں ایک ایک کر کے چھین لی جائیں۔

ستمبر ۱۹۸۲ء میں صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں میں اسرائیل نے مقامی ملیشیا کے تعاون سے ۳۲۹۷ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ قتل عام تاریخ عالم کے منہ پر بدنما داغ ہے۔ اس حملے کی وضاحت نہ امریکی کرتے ہیں نہ اسرائیل اور نہ اقوام متحدہ کے پالیسی ساز۔ معروف فلسطینی لیڈر پی ایل او کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر ابوعمار یاسر عرفات جو ہر ہر لمحے مغربی جمہوریت کے مدح خواں رہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو مدد کے لیے پکارتے رہے وہ اسرائیل اور اسرائیلیوں پر عرب بھائیوں سے زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ آخر انہیں فرانس کے اسپتال میں کیوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؟۔ امریکی صدر باراک اوباما نے صدر بننے سے پہلے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ’’اگر کوئی میری دو بچیوں کی زندگی کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا تو میں اس کے خاندان کو تباہ کرنے کی کوششیں کروں گا اور یہ ردعمل فطری ہو گا۔ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں پھیلے ہوئے فلسطینی منتظر ہیں کہ اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے فلسطینیوں کی آزاد خود مختار ریاست کے قیام میں زبانی جمع نہیں کرے گا بلکہ عملی کردار ادا کرے گا۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’محور‘‘ لاہور۔ اپریل ۲۰۰۹)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*