امریکا و ایران۔ خلیج میں ایک دوسری کشمکش

زیادہ تر امریکیوں کی اور بیشتر دنیا کی نظریں عراق میں امریکی بری کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹروس پر جمی ہوئی ہیں جو آئندہ ہفتے کانگریس کو رپورٹ کرتے ہوئے بیان دینے والے ہیں۔ لیکن اسی اثنا میں ایران کے ساتھ امریکی تعلقات بد سے بدتر ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف اہانت آمیز بیانات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں لیکن اب یہ دھماکا خیز نکتے پر پہنچ چکے ہیں۔ صدر بش جس قدر عراق میں دھستے چلے جارہے ہیں، اسی قدر وہ اپنی ناکامی کا الزام ایران پر رکھنے میں شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ۲۸ اگست کو انھوں نے ایران کو دنیا میں دہشت گردوں کا بہت بڑا حامی ملک قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ ’’جوہری ہالو کاسٹ‘‘ کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے کمانڈروں کو ایران کی ’’خونریز سرگرمیوں‘‘ کا مقابلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے بیانات بھی تقریباً ایسے ہیں گویا وہ صدر بش کو حملہ کرنے کے لیے اشتعال دلا رہے ہوں۔ اندازوں اور اعداد و شمار کے ماہر ہونے کی بنا پر انھوں نے اس ہفتے ایرانی طلبہ کے سامنے اپنی رائے کو اس طرح پیش کیا کہ ’’ملک کے دشمن ہم سے لڑنے کی جرأت نہیں کر سکتے‘‘۔

اندازوں کے ماہر خواہ کچھ بھی سوچتے ہوں، اس بات کا خطرہ بہرحال موجود ہے کہ امریکا کسی مرحلے پر ایران پر حملہ کرنے کی جرأت کر ڈالے، خواہ عراق کے اندر ایران حامی شیعہ مزاحمت کاروں کی حوصلہ شکنی کے مقصد سے یا اس کے جوہری پروگرام کو ناکارہ بنانے کی غرض سے۔ جونہی کہ اگست میں آئی اے ای اے نے رپورٹ دی کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی میں سست رفتاری اختیار کی ہے، انھوں نے ٹھیک اس کے الٹا کہا۔ انھوں نے کہا کہ یورینیم افزودگی کے لیے ۳ ہزار سینٹری فیوجز کی تنصیب کا ہدف ایران نے حاصل کر لیا ہے اور وہ ہر ہفتے ایک کیسکیڈ کا اضافہ کرے گا۔ اگر امریکا و ایران واقعتا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی بات کرنے پر آمادہ ہیں تو باقی دنیا ان کو روکنے کے لیے کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکتی ہے۔ لیکن حادثاتی طور پر جنگ کے وقوع پذیرہونے کے امکانات کو کم کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ پہلی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ امریکا سے کہا جائے کہ وہ ایران کے جوہری مسئلے کو اپنے طور پر ڈیل نہ کرے۔ جولائی ۲۰۰۶ء سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کو یورینیم کی افزودگی کا حکم دیتے ہوئے تین قرارداد پاس کر چکی ہے، یہاں تک کہ یہ اس نکتے کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ ’’باوجود جھوٹ بولنے کی ایک تاریخ کے ایران کے جوہری مقاصد پُرامن ہیں۔ روس اور چین نے بھی ان قراردادوں کی حمایت کی جس میں ہلکی پھلکی دو اقتصادی پابندیوں کو عائد کرنے کا بھی ذکر شامل ہے۔ یہ ایسی صورت میں ہے جبکہ دونوں ہی ممالک کے ایران کے ساتھ تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ لیکن جیسا کہ احمدی نژاد نے اعلان کیا کہ ایران نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اگر روس اور چین جوہری پھیلائو کو روکنے اور سلامتی کونسل کے اختیارات کو مضبوط کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو اب انھیں چاہیے کہ وہ ایران کے خلاف قدرے ایک سخت قرارداد لانے میں امریکیوں اور یورپیوں کی مدد کریں۔ باقی دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ آئی اے ای اے کو مزید مضبوط کریں۔ اس کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادی ایران کو جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے سے باندھے رکھنے اور اپنے معائنہ کاروں کی نگرانی اس ملک میں باقی رکھنے اور امریکی حملہ کے امکان کوختم کرنے کے لیے متفکر رہتے ہیں۔ یہ مقاصد بہت ہی محترم ہیں، اس لیے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کامیاب نہیں ہو سکتا ہے اور اس اِقدام سے ایک بھرپور جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن اب وہ جال میں آرہے ہیں، اس طرح کہ وہ ایران کو اُن سرگرمیوں کے لیے اپنی منظوری کی جعلی مہر تصدیق فراہم کر رہے ہیں جنہیں ان کی ایجنسی ٹھیک طریقے سے اپنے زیرِ نگرانی نہیں رکھ سکتی ہے۔ ایران اور آئی اے ای اے نے ابھی حال ہی میں مستقبل کے تعاون کی نئی مفاہمت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک بھیانک مفاہمت ہے۔ اگرچہ فہرست میں کئی ایسے شعبوں کا ذکر ہے جہاں معائنہ کار سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن یہ ایران کو رفتہ رفتہ معلومات فراہم کرنے کی مفاہمت ہے۔ سوالات اس ماہ کے وسط میں تحریری شکل میں رکھے جائیں گے۔ ایران کی طرف سے جوابات دینے کا کوئی حتمی وقت متعین نہیں ہے۔ تاآنکہ معائنہ کار واقعات سے متعلق ایرانی بیان کو قبول کرتے ہیں اور سلسلہ وار طریقے سے ہر موضوع پر فائل کو بند کرتے جاتے ہیں، ایرانی اس وقت تک جوابات کا آئندہ سیٹ پیش نہیں کریں گے۔ اس مفاہمت نے معائنہ کاروں کو نئے سوالات اٹھانے کے حوالے سے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے، خاص طور سے اس وقت جبکہ نئی اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔ ایران نے نئے معائنہ کاروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی لیکن اس وقت جبکہ اس نے ان معائنہ کاروں کو روک دیا جو بہت زیادہ باریک بیں تھے۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا جو حالیہ سلسلہ ہے، وہ ایران کے جھوٹ بولنے اور چھپانے کی جو تاریخ رہی ہے، اس کے پیشِ نظر ہے اور اسی وجہ سے ان کا مقصد ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی اور پلوٹونیم پر کام مکمل طور سے روکنا ہے۔ پھر بھی کام جاری ہے۔ البرادی کا کہنا ہے کہ ایران سے یہ مطالبہ فضول ہے کہ وہ افزودگی کے تمام کاموں کو روک دے جبکہ اس نے اس سے متعلق بہت سارے فن و ہنر میں مکمل مہارت حاصل کر لی ہے۔ لیکن دوسرے یہ فن و ہنر رکھتے ہیں اور انھیں استعمال نہیں کرتے ہیں۔ جناب البرادی کا استدلال یہ ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ایران کو محدود پیمانے پر قریب ترین نگرانی کے ساتھ کام کو جاری رکھنے دیا جائے ۔ مشکل یہ ہے کہ ان کی ایجنسی کو اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ اور کہاں ایران اپنا جوہری کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس لیے یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ اور کہاں کہاں ان مہارتوں کو کام میں لائے گا۔ ایران کی جانب صدر بش کا موقف ہمیشہ ہی غلط رہا ہے۔ ایران کی حکومت کو دھمکیاں دے کر بعد اس کے کہ اس نے افغانستان سے طالبان کو بے دخل کرنے میں امریکا کی مدد کی تھی، انھوں نے ایران سے اپنی دشمنی کی بھرپور تصدیق کر دی ہے اور بم کے لیے اس کی خواہش کو مستحکم کر دیا ہے۔ حالیہ ترین واقعہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران صدام کے بعد کے خلیج پر بالادستی کی خاطر بطور حریف ایک دوسرے کے روبرو ہوئے۔ ان کے اپنے مفادات اور شاید مشرقِ وسطیٰ کے مفادات بھی اچھی طرح محفوظ ہو سکتے ہیں اگر انھوں نے عظیم سودے بازی کی کسی قسم کے امکان کو دریافت کر لیا۔ لیکن یہ مشکل معلوم ہوتا ہے اگر ایرانی یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں جوہری بم کی جانب واضح دوڑ لگانی چاہیے۔ دنیا محفوظ تر ہو جائے گی اگر باقی دنیا ان دونوں کو ان کے غلط خیالات سے باز رکھنے کی مزید کوشش کرے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’اکانومسٹ‘‘ لندن۔ شمارہ: ۸ تا ۱۴ ستمبر ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*