امریکی صدارتی انتخابی عمل: ایک تعارف

امریکا کے ایوانِ صنعت میں متمکن ہونے کی دوڑ اب باضابطہ شروع ہو چکی ہے۔ سالِ رواں میں ہونے والے نئے صدارتی انتخاب کا وقت تیزی سے قریب آرہا ہے‘ جس کی تیاری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر ڈیمو کریٹک اور ریپبلک دونوں پارٹیوں کے قومی کنونشن آگے پیچھے منعقد ہو رہے ہیں۔ ڈیمو کریٹک نیشنل کنونشن ۲۶ تا ۲۹ جولائی کو منعقد ہوا۔ جبکہ ریپبلک کنونشن اگست میں منعقد ہو گا۔ انتخابات کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا ہے‘ مختلف صدارتی امیدوار امریکی عوام کو اپنے نقطۂ نظر سے مطمئن کرنے اور اپنے حریفوں پر اپنی فوقیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا کا سیاسی نظام صدارتی طرزِ حکومت پر مشتمل ہے۔ امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی ملک کی ۲ سب سے بڑی اور مشہور پارٹیاں ہیں۔ ان کے علاوہ دوسری سیاسی پارٹیوں میں گرین پارٹی‘ ریفارم پارٹی اور انڈیپنڈنٹ پارٹی شامل ہیں۔ امریکا کے صدر کے عہدہ کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار کی عمر کم سے کم ۳۵ سال ہو اور وہ امریکا کے پیدائشی شہری کی حیثیت سے ملک میں مسلسل ۱۴ سال سکونت پذیر رہا ہو۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو امریکا کے صدارتی انتخاب کا عمل پیچیدہ نظر آتا ہو‘ لیکن اگر اس کے مختلف مراحل کو سامنے رکھا جائے تو اس انتخابی عمل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس عمل کے ۴ مراحل ہوتے ہیں۔

ابتدائی مرحلہ: پرائمریز اور کاکس

امریکا کے صدارتی انتخابی مقابلہ میں دو اصل دعویدار پارٹیوں کی جانب سے اپنے قطعی امیدوار کے تعین کا عمل ’’پرائمریز‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ دراصل متعلقہ پارٹیوں کے اندر ہونے والے انتخابات کا عمل ہے جو امریکا کی بیشتر ریاستوں میں انتخابی سال کے ماہ جنوری سے جون کے درمیان ہوتے ہیں۔ ان ریاستی انتخابات میں رائے دہندگان پارٹیوں کی سطح پر ان مندوبین کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں جو نیشنل کنونشن میں شرکت کریں گی۔ ان مندوبین کو قومی کنونشن میں کسی ایک مخصوص امیدوار کے حق میں ووٹ دینا ہوتا ہے۔ کنونشن کی رائے دہی میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا دعویدار ہی پارٹی کا قطعی امیدوار قرار پاتا ہے۔ بیشتر ریاستیں کنونشن کے لیے مندوبین کا انتخاب پرائمریز کی سطح پر متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرتی ہیں۔

کچھ ریاستوں میں متعلقہ پارٹیوں کے قومی کنونشن کے لیے مندوبین کے انتخاب کا ایک الگ طریقہ رائج ہے‘ جسے ’کاکس‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت پارٹی کے ارکان چھوٹے چھوٹے گروپوں میں مقامی سطح پر اکٹھا ہو کر پارٹی کے اگلے اجلاسوں میں نمائندگی کے امیدواروں کے ناموں پر بحث کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر متعلقہ پارٹی کے حامیوں کا ایک گروپ مقامی سطح پر کسی ایسے مندوب کے حق میں ووٹ دیتا ہے جو صدارتی امیدواری کے کسی خاص دعویدار کا حامی ہے۔ اس عمل کے ذریعہ مندوبین کی ایک تعداد منتخب ہو کر کائونٹی سطح کے کنونشن میں پہنچتی ہے‘ وہاں ایک اور انتخابی عمل کے ذریعہ ریاستی سطح کے کنونشن کے لیے مندوبین کا انتخاب عمل میں آتا ہے اور پھر ریاستی سطح کے کنونشن میں قومی کنونشن کے مندوبین منتخب کیے جاتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ: قومی کنونشن

نیشنل کنونشن کا انعقاد ڈیمو کریٹک اور ریپبلک دونوں ہی پارٹیوں کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی مرحلہ میں دونوں پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذرائع ابلاغ میں تشہیر اور باضابطہ امیدواروں کی حیثیت سے اپنے انتخابی موقف اور قومی پیغام کے اعلان کا بھی اہم موقع ہوتا ہے۔

اپنے اپنے ان قومی اجلاسوں میں دونوں پارٹیاں صدر اور نائب صدر کے لیے اپنے امیدواروں کی باضابطہ نامزدگی کرتی ہیں‘ جس کے لیے پرائمری اور کاکس کے ذریعہ منتخب ہو کر آنے والے مندوبین ووٹ دیتے ہیں۔ اسی موقع پر ہر پارٹی اپنے سرکاری پلیٹ فارم (منشور) کو بھی قطعیت دیتی ہے۔ یہ ’پلیٹ فارم‘ ایک اہم سیاسی دستاویز ہوتی ہے جس میں مختلف امور اور مسائل پر پارٹی کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی جاتی ہے۔ گو کہ برسرِ اقتدار آنے کی صورت میں پارٹی اس ’پلیٹ فارم‘ میں بیان کی گئی ہر بات پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔

گزشتہ دو صدیوں میں ان قومی اجلاسوں کے دوران قطعی صدارتی نامزدگی کے لیے اکثر پس پردہ سودے بازی اور آخری مراحل تک شدید بحث و مباحثہ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں ان قومی اجلاسوں کی اہمیت کسی حد تک کم ہو گئی ہے۔ کیونکہ اب ہر پارٹی کے صدارتی امیدوار کا فیصلہ عام طور پر قومی اجلاس کے انعقاد سے پہلے ہی اس بات سے ہو جاتا ہے کہ ریاستی سطح کے پرائمریز اور کاکس میں کس امیدوار کے کتنے زیادہ حامیوں کو قومی کنونشن میں جگہ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان دنوں پر پارٹی کے اندر صدارتی امیدواری کا کامیاب دعویدار نائب صدر کے لیے پارٹی امیدوار طے کرنے میں پہلے سے زیادہ اہم اور بسا اوقات فیصلہ کن کردار رکھتا ہے اور یہ نامزدگی بھی کبھی کبھی قومی کنونشن سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔

تیسرا مرحلہ: انتخابی مہم

قومی اجلاسوں کے اختتام پذیر ہونے کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے جو انتخابی مہم کا مرحلہ ہے اور جس کی تکمیل بالآخر ووٹ ڈالے جانے پر ہوتی ہے۔ اس مرحلہ میں جو ستمبر کے اوائل سے لے کر نومبر کے اوائل تک قائم رہتا ہے‘ امیدوار پورے ملک میں سفر کرتے ہیں‘ انتخابی مہم چلاتے ہیں‘ ووٹروں سے ملتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔

اسی دور میں صدارتی مباحثے بھی منعقد ہوتے ہیں جو صدارتی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس میں امیدوار قومی ٹیلی ویژن پر جملہ اہم موضوعات پر روبرو بحث کرتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر اس طرح کا پہلا صدارتی مباحثہ ۱۹۶۰ء میں جان کنیڈی اور نائب صدر رچرڈ نکسن کے درمیان ہوا تھا۔ اس مباحثہ کو ۱۹۶۰ء کے صدارتی انتخاب میں جان کینڈی کی کامیابی میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل قرار دیا گیا تھا اور اسی وقت سے ٹیلی ویژن پر مباحثہ امریکی صدارتی انتخاب کا ایک باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔

آخری مرحلہ: جنرل الیکشن اور الیکٹورل کالج

امریکا میں صدارتی انتخاب کے لیے قانون کی رو سے ووٹ ڈالنے کا دن انتخابی سال کے ماہِ نومبر کا پہلا منگل مقرر کیا گیا ہے۔ اس دن پورے ملک میں امریکی شہری پولنگ اسٹیشن جاتے ہیں اور اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ یہ ووٹ صدر اور نائب صدر کے امیدواروں کے’ٹکٹ‘ کے لیے دیا جاتا ہے۔ تاہم (تکنیکی اعتبار سے) امریکی عوام براہِ راست صدارتی امیدوار کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ ان ’’انتخاب کنندگان‘‘ کو ووٹ دیتے ہیں جو اگلے مرحلہ میں انکی ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک مخصوص امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ امیدوار ہر ریاست میں اصلاً لیکٹورل کالج کے ووٹ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں اور اکثر ریاستوں میں جیتنے والا ہی فاتح مطلق قرار پاتا ہے۔ یعنی جس امیدوار کو ایک ریاست میں سب سے زیادہ الیکٹورل ووٹ ملتے ہیں‘ اس ریاست کے باقی تمام ووٹ بھی اسی کو مل جاتے ہیں۔

یہ الیکٹورل کالج دراصل تمام ۵۰ امریکی ریاستوں‘ علاقوں اور کولمبیا ضلع کے نمائندوں پر مشتمل ۶۳۸ ’’انتخاب کنندگان‘‘ کی ایک مجلس ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ امریکا کا اگلا صدر کون ہو گا؟ اس الیکٹورل کالج میں ہر ریاست کے نمائندہ انتخاب کنندگان کی تعداد واشنگٹن میں اس ریاست سے سینٹ اور کانگریس کے ارکان کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔ چنانچہ زیادہ آبادی والی ریاست (مثلاً کیلیفورنیا) کے الیکٹورل ووٹ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عام شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے بعد الیکٹورل کالج کا اجلاس دسمبر میں ہوتا ہے جس میں صدر اور نائب صدر کے لیے رسمی ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ چنائو کے نتائج امریکی سینٹ میں ۶ جنوری کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں پیش کیے جاتے ہیں‘ جس امیدوار کو الیکٹورل کالج میں سب سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں‘ اُس کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور یہی عمل نائب صدر کے لیے بھی ہوتا ہے۔

یہ بات کہ امریکی صدر کا انتخاب اصلاً عام شہری ووٹ کے بجائے الیکٹورل کالج کے ذریعہ ہوتا ہے‘ اس کے نتیجہ میں بعض موقعوں پر دیکھا گیا ہے کہ فاتح امیدوار کو اپنے حریف کے مقابلہ میں عوامی ووٹ کم ملتے ہیں۔ ۲۰۰۰ء کے سابقہ انتخاب میں ایسا ہی ہوا تھا جب موجودہ صدر جارج بش کو کامیاب قرار دیا گیا تھا جبکہ نائب صدر الگور کو بش کے مقابلے میں ۵ لاکھ ۴۳ ہزار ۸۹۵ عوامی ووٹ زیادہ ملے تھے۔ لیکن چونکہ بش کو ۲۷۱ الیکٹورل ووٹ کے مقابلے میں الگور کو صرف ۲۶۶ ووٹ ملے‘ اس بنیاد پر جارج بش امریکا کے صدر بنے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’انقلاب‘‘۔ ممبئی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*