امریکی صدر کا ’’افپاک‘‘ پالیسی خطاب

میں نے ایک ہدف مقرر کیا جس کی محدود وضاحت ان الفاظ میں میں کی گئی تھی کہ ہمارا مقصد القاعدہ اور اس کے انتہا پسند اتحادیوں کو درہم برہم کرنا، اسے منتشر کرنا اور شکست دینا ہے۔ میں نے امریکا کی فوجی اور سویلین کارروائیوں کو بہتر طریقے سے مربوط کرنے کا عہد کیا۔

اس کے بعد سے اب تک، ہم نے بعض اہم مقاصد کے حصول میں پیش رفت کی ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے اعلیٰ سطح کے لیڈر ہلاک کر دیے گئے ہیں اور ہم نے ساری دنیا میں القاعدہ پر دبائو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں، اس ملک کی فوج نے، برسوں کے بعد اتنی بڑی کارروائی کی ہے۔ افغانستان میں ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے طالبان کی صدارتی انتخاب کو روکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اگرچہ دھاندلی کی وجہ سے اس انتخاب کی قانونی حیثیت ماند پڑ گئی، لیکن انتخاب سے جو حکومت بنی ہے وہ افغانستان کے قوانین اور آئین کے مطابق ہے۔

پھر بھی بہت سے چیلنج باقی ہیں۔ افغانستان کو ہم نے کھویا نہیں ہے، لیکن کئی برسوں سے وہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ حکومت کا تختہ الٹے جانے کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے، لیکن طالبان نے زور پکڑ لیا ہے۔ اگرچہ القاعدہ اتنی بڑی تعداد میں دوبارہ سامنے نہیں آئی ہے جتنی نائن الیون سے پہلے تھی، لیکن سرحد کے ساتھ ساتھ ان کی محفوظ پناہ گاہیں باقی ہیں۔ اور ہماری فورسز کے پاس مطلوبہ وسائل نہیں ہیں جن کے ذریعے وہ موثر طریقے سے افغان سیکورٹی فورسز کو تربیت دے سکیں اور ان کے ساتھ شراکت داری قائم کر سکیں اور آبادی کی بہتر طور سے حفاظت کر سکیں۔ افغانستان میں ہمارے نئے کمانڈر، جنرل مک کرسٹل نے بتایا ہے کہ سیکورٹی کی صورت حال ان کی توقع سے زیادہ خراب ہے۔ حالات کو جوں کا توں نہیں رکھا جاسکتا۔

کیڈٹس کی حیثیت سے آپ نے اس خطرناک وقت میں اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کی ہیں۔ آپ میں سے بعض لوگ افغانستان میں لڑ چکے ہیں۔ بعض کی تعیناتی وہاں ہونی ہے۔ آپ کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ آپ کو ایک واضح مشن دوں جو آپ کی خدمات کے شایانِ شان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں ووٹنگ مکمل ہو گئی تو میں نے اصرار کیا کہ ہمیں اپنی حکمتِ عملی کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ اب میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں: میرے سامنے ایسی کوئی تجویز نہیں تھی جس کے تحت ۲۰۱۰ء سے پہلے فوجوں کی تعیناتی ہونی تھی۔ چنانچہ جائزے کی اس مدت کے دوران جنگ کے لیے مطلوبہ وسائل کی فراہمی میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ اور نہ ان کی فراہمی سے انکار کیا گیا ہے بلکہ جائزے کے ذریعے مجھے بعض مشکل سوالات پوچھنے کا موقع ملا ہے اور ہماری نیشنل سیکورٹی ٹیم اور افغانستان میں ہماری فوجی اور سویلین قیادت اور اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام متبادل راستوں کی چھان بین کا موقع ملا ہے۔ اس معاملے میں جتنا کچھ دائو پر لگا ہوا ہے۔ اس کی روشنی میں، امریکی عوام اور ہمارے فوجیوں کو مجھ سے اس سے کم کسی چیز کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

اب یہ جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔ اور کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ ۰۰۰،۳۰ مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنا ہمارے قومی مفاد کے لیے اہم ہے۔ ۱۸ مہینوں کے بعد، ہماری فوجیں گھر واپس آنا شروع ہو جائیں گی۔ حالات پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہمیں ان وسائل کی ضرورت ہے۔ اس دوران ہم افغانستان کی اپنی صلاحیتوں کی تعمیر کریں گے تاکہ ہماری اپنی فوجیں افغانستان سے ذمہ دارانہ انداز میں نکل آئیں۔

میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ میں نے عراق میں جنگ کی مخالفت ٹھیک اسی لیے کی تھی، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں فوجی طاقت کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے اور ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے افعال کے طویل المدت نتائج کیاہوں گے۔ ہمیں جنگ لڑتے ہوئے اب آٹھ برس ہو چکے ہیں اور ہمیں انسانی زندگی اور وسائل کی شکل میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ عراق کی جنگ اور دہشت گردی کے بارے میں برسوں سے جاری بحث نے قومی سلامتی کے بارے میں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور اس کوشش کے لیے انتہائی جانبدارانہ اور اختلافی ماحول پیدا کر دیا ہے اور ہمیں عظیم کساد بازاری کے بعد پہلی بار جس بدترین اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ امریکی عوام کی توجہ ہماری اپنی معیشت کی تعمیرِ نو اور ملک میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے پر ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ فیصلہ آپ سے مزید قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسی فوج سے جس نے آپ کے گھرانوں سمیت پہلے ہی سب سے زیادہ بوجھ برداشت کیا ہے۔ صدر کی حیثیت سے میں نے ہر ایسے امریکی گھرانے کے نام جس نے ان جنگوں میں اپنی زندگی کا نذرانہ دیا ہے، تعزیت کے خط پر دستخط کیے ہیں۔ میں نے جنگوں پر بھیجے جانے والے افراد کے والدین اور شریکِ زندگی کے خط پڑھے ہیں۔ میں والٹر ریڈ جا کر اپنے زخمی ہونے والے بہادر سپاہیوں سے ملا ہوں۔ میں نے Dover کا سفر کیا ہے اور میں امریکی پرچم میں لپٹے ہوئے ان ۱۸ امریکیوں کے تابوتوں کی آمد کے وقت موجود تھا جو اپنی آخری آرام گاہ پر جانے کے لیے واپس آئے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے جنگ کے ہولناک اثرات دیکھے ہیں۔ اگر میں یہ نہ سمجھتا کہ افغانستان میں امریکا کی سلامتی اور امریکا کے لوگوں کی حفاظت دائو پر لگی ہوئی ہے تو میں بخوشی اپنے ہر فوجی کی کل ہی واپسی کا حکم دے دیتا۔

تو پھر میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ میں یہ فیصلہ اس لیے کر رہا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہماری سلامتی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ القاعدہ جس متشدد انتہا پسندی پر عمل کرتی ہے یہ علاقہ اس کا مرکز ہے۔ ہم پر نائن الیون کا حملہ یہیں سے ہوا تھا اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے اس وقت جب میں تقریر کر رہا ہوں نئے حملوں کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی خالی خولی خطرہ نہیں ہے، کوئی فرضی دھمکی نہیں ہے۔ صرف گزشتہ چند مہینوں میں ہی ہم نے اپنی سرحدوں کے اندر ایسے انتہا پسندوں کو پکڑا ہے جنہیں یہاں دہشت گردی کی نئی کارروائیوں کے لیے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں سے بھیجا گیا تھا۔ اور یہ خطرہ بڑھتا ہی جائے گا اگر اس علاقے میں حالات کو مزید خراب ہونے دیا جاتا ہے تو القاعدہ دیدہ دلیری سے اپنی کارروائیاں کر سکتی ہے۔ ہمیں القاعدہ پر دبائو قائم رکھنا چاہیے اور ایسا کرنے کے لیے ہمیں علاقے میں اپنے شراکت داروں کے استحکام اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے۔

یہ صحیح ہے کہ ہم اکیلے یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ صرف امریکا کی جنگ نہیں ہے۔ نائن الیون کے بعد سے اب تک القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں لندن، عمان اور بالی کے خلاف حملوں کا ذریعہ رہی ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتیں خطرے میں ہیں۔ نیوکلیئر اسلحہ سے لیس پاکستان میں خطرات اور بھی زیادہ ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس یہ سمجھنے کی وجوہ موجود ہیں کہ وہ انہیں ضرور استعمال کریں گے۔

ان حقائق کی روشنی میں، ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا اولین اور بنیادی مقصد اب بھی وہی ہے: افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کو درہم برہم کرنا، منتشر کرنا اور شکست دینا۔ مستقبل میں امریکا اور ہمارے اتحادیوں کو دھمکی دینے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا۔

اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے، ہم افغانستان میں مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کی کوشش کریں گے۔

ہمیں القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ سے محروم کرنا چاہیے۔ ہمیں طالبان کا زور توڑنا چاہیے اور انہیں حکومت کا تختہ الٹنے کی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے۔ اور ہمیں افغانستان کی سیکورٹی فورسز اور حکومت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ وہ افغانستان کے مستقبل کی ذمہ داری قبول کرنے میں پہل کر سکیں۔

ہم یہ مقاصد تین طریقوں سے حاصل کریں گے۔ اول یہ کہ ہم ایسی فوجی حکومت عملی پر عمل کریں گے جس سے طالبان کا زور ٹوٹ جائے گا اور اگلے ۱۸ مہینوں میں افغانستان کی صلاحیت میں اضافہ ہو جائے گا۔

میں جن ۳۰ ہزار مزید فوجیوں کا اعلان کر رہا ہوں، وہ ۲۰۱۰ء کے پہلے حصے میں تعینات کر دیے جائیں گے۔ یہ رفتار سب سے زیادہ ہے تاکہ وہ بغاوت کو ۔۔۔ نشانہ بنا سکیں اور آبادی کے اہم مراکز کو محفوظ کر سکیں۔ وہ افغان سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے کی ہماری صلاحیت کو بہتر بنائیں گے اور ان کے ساتھ شراکت داری قائم کریں گے تاکہ افغان لڑائی میں اور زیادہ شامل ہو سکیں۔ اور وہ ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد دیں گے جن میں امریکا یہ ذمہ داری افغانوں کو منتقل کر دے۔

چونکہ یہ بین الاقوامی کوشش ہے، اس لیے میں نے کہا ہے کہ ہماری ذمہ داری میں ہمارے اتحادی بھی شرکت کریں۔ بعض نے پہلے ہی مزید فوجی فراہم کر دیے ہیں، اور مجھے اعتماد ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید مدد فراہم کی جائے گی۔ ہمارے دوستوں نے افغانستان میں ہمارے ساتھ مل کر جنگ کی ہے، اپنا خون بہایا ہے اور اپنی جانیں دی ہیں۔ اب ہمیں اس جنگ کو کامیابی سے ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہونا چاہیے۔ اب جو دائو پر لگا ہوا ہے وہ صرف نیٹو کی ساکھ اور اس کا اعتبارہی نہیں ہے بلکہ اب ہمارے اتحادیوں کی سیکورٹی اور دنیا کی مشترکہ سیکورٹی دائو پر لگی ہوئی ہے۔

لیکن اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ اضافی امریکی اور بین الاقوامی فوجی یہ ممکن کر دیں گے کہ ہم زیادہ تیزی سے ذمہ داری افغان فورسز کو منتقل کر دیں، اور ۲۰۱۱ء میں جولائی کے مہینے سے اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کا عمل شروع کر دیں۔ جیسا کہ ہم نے عراق میں کیا ہے، ہم تبدیلی کا یہ عمل ذمہ داری کے ساتھ شروع کریں گے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھیں گے۔ ہم افغانستان کی سیکورٹی فورسز کو مشورہ اور مدد دینے کا عمل جاری رکھیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ طویل مدت میں کامیاب ہو سکیں۔ لیکن افغان حکومت پر واضح ہو جائے گا اور اس سے بھی اہم یہ بات ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ بالآخر اپنے ملک کی ذمہ داری خود انہی کو اٹھانی ہو گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنے شراکت داروں، اقوام متحدہ اور افغان عوام کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر سویلین حکمتِ عملی اختیار کریں گے تاکہ حکومت بہتر سیکورٹی کا فائدہ اٹھا سکے۔

اس کوشش کی بنیاد کارکردگی پر ہو گی۔ سادہ چیک دینے کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ صدر کرزئی کی صدارت کی افتتاحی تقریر نے ایک نئی سمت میں سفر کرنے کا صحیح پیغام دیا اور آگے کی طرف بڑھتے ہوئے ہم یہ بات واضح کر دیں گے کہ جو لوگ ہم سے مدد لیتے ہیں، ان سے ہم کن چیزوں کی توقع کرتے ہیں۔ ہم افغان وزارتوں، گورنروں اور مقامی لیڈروں کی حمایت کریں گے جو بدعنوانیوں کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور عوام کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ جو لوگ غیر مؤثر یا بدعنوان ہیں، ان کی جوابدہی کی جائے اور ہم اپنی امداد ایسے شعبوں میں دینے پر توجہ دیں گے، جیسے زراعت جن سے افغان عوام کی زندگیوں پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کے لوگ کئی عشروں سے تشدد کے سائے تلے رہ رہے ہیں۔ انہیں اپنے ملک پر قبضے کی اذیت برداشت کرنی پڑی ہے، پہلے سوویت یونین نے قبضہ کیا اور پھر القاعدہ کے غیر ملکی جنگجوئوں نے، جنہوں نے افغان سرزمین اپنے مقاصد کے لیے استعمال کی۔ چنانچہ آج کی شب، میں افغان عوام کو ایک بات سمجھانا چاہتا ہوں۔ امریکا جنگ اور اذیتوں کے اس عہد کے خاتمے کا خواہش مند ہے۔ ہمیں آپ کے ملک پر قبضہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم افغان حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کریں گے کہ ان طالبان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے جو تشدد کو ترک کرنے اور اپنے ہم وطن شہریوں کے حقوق کا احترام کرنے پر تیار ہوں۔ اور ہم افغانستان کے ساتھ ایسی شراکت داری قائم کرنا چاہیں گے جس کی بنیاد باہم احترام پر ہو۔ ان لوگوں کو الگ تھلگ کر دیا جائے جو تباہی پھیلاتے ہیں۔ ان لوگوں کو مضبوط بنایا جائے جو تعمیر کرتے ہیں۔ اس دن کو قریب لایا جائے جب ہماری فوجیں افغانستان کو چھوڑ دیں گی اور ایسی پائیدار دوستی قائم کی جائے جس میں امریکا آپ کا شراکت دار ہو اور کبھی آپ کا سرپرست نہ بنے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے کارروائی کریں گے کہ افغانستان میں ہماری کامیابی اور پاکستان کے ساتھ ہماری شراکت داری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ہم افغانستان میںاس لیے موجود ہیں تاکہ ہم ایک کینسر کو ایک بار پھر ملک میں پھیلنے سے روکیں۔ لیکن اسی کینسر نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو سرحد کے دونوں جانب کام کر سکے۔

ماضی میں، پاکستان میں کچھ لوگ یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے، اور پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اس بارے میں لاتعلق رہے یاان لوگوں کے ساتھ تصفیہ کر لے جو تشدد استعمال کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں، جب کراچی سے اسلام آباد تک بے گناہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انتہا پسندی سے سب سے زیادہ خطرہ پاکستان کے لوگوں کو ہے۔ عوام کی رائے تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی فوج نے سوات میں اور جنوبی وزیرستان میں جنگی کارروائی کی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اور پاکستان دونوں کو ایک مشترک دشمن کا سامنا ہے۔

ماضی میں ہم نے اکثر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک تنگ زاویے سے دیکھا ہے۔ وہ دن ختم ہو چکے ہیں۔ آگے کی طرف بڑھتے ہوئے ہم نے پاکستان کے ساتھ ایسی شراکت داری کا عہد کیا ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے کے مفاد، باہم احترام اور باہم اعتماد پر قائم ہے۔ ہم ان گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے جن سے ہمارے ملکوں کو خطرہ ہے، پاکستان کی صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے اور ہم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ہم ایسے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ برداشت نہیں کر سکتے جن کے بارے میں ہمیں علم ہے کہ وہ کہاں موجود ہیں اور جن کے عزائم واضح ہیں۔ پاکستان کی جمہوریت اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی امریکا بھاری وسائل فراہم کر رہا ہے۔ لڑائی کی وجہ سے جو پاکستانی بے گھر ہوئے ہیں، ان کی مدد کرنے والوں میں ہمارا حصہ سب سے زیادہ ہے اور آگے کی طرف دیکھتے ہوئے، پاکستان کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ لڑائی ختم ہونے کے کافی عرصے بعد بھی امریکا پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا زبردست حامی رہے گا تاکہ پاکستان کے لوگوں کی اعلیٰ صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکیں۔

ہماری حکمت عملی کے تین بنیادی عناصر یہ ہیں: تبدیلی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے فوجی کوشش، سویلین امداد میں اضافہ جس سے مثبت اقدام کو مضبوط بنایا جا سکے اور پاکستان کے ساتھ مؤثر شراکت داری۔

مجھے احساس ہے کہ ہم نے جو طریقہ اپنایا ہے اس کے بارے میں مختلف قسم کی تشویش موجود ہے۔ میں مختصراً ان چند زیادہ نمایاں دلائل کے بارے میں بات کروں گا جو میں نے سنے ہیں اور جنہیں میں بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔

اول تو وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ افغانستان ہمارے لیے ایک اور ویتنام ثابت ہو گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اسے مستحکم نہیں کیا جا سکتا، اور بہتر یہ ہو گا کہ ہم وہاں سے تیزی سے نکل آئیں اور اپنے نقصانات کم کر لیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دلیل تاریخ کے غلط مطالعے پر مبنی ہے۔ ویتنام کے برعکس، افغانستان میں ۴۳ ملک ہمارے اقدام کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ویتنام کے برعکس، ہمیں وسیع البنیاد عوامی بغاوت کا سامنا نہیں ہے۔ اور اہم ترین بات یہ ہے کہ ویتنام کے برعکس، افغانستان سے امریکی عوام پر شرانگیز حملہ کیا گیا تھا اور وہ اب بھی ان انتہا پسندوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جو افغانستان کی سرحدوں کے قریب سے امریکا کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس علاقے کو اس وقت چھوڑ دینے اور القاعدہ کے خلاف اپنی کوششیں دور فاصلے سے جاری رکھنے سے، القاعدہ کے خلاف دبائو ڈالنے کی ہماری صلاحیت بری طرح متاثر ہو گی اور ہماری سرزمین اور ہمارے اتحادیوں پر مزید حملوں کا خطرہ قابل قبول حد تک بڑھ جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم افغانستان کو اس کی موجودہ صورتحال میں چھوڑ کر یہاں سے نہیں جا سکتے لیکن ان کا خیال ہے کہ ہم انہی فوجیوں کے ساتھ جو ہمارے پاس پہلے سے ہیں، اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ لیکن اس سے صورت حال ویسی کی ویسی ہی رہے گی جیسی کہ اس وقت تھی جب ہم نے یہاں مداخلت کی تھی۔ اس کے نتیجے میں یہاں کے حالات بتدریج بگڑتے چلے جائیں گے۔ اور اس طرح بالآخر افغانستان میں ہمارا قیام مزید مہنگا اور طویل تر ثابت ہو گا، کیونکہ ہم کبھی بھی ایسے حالات پیدا نہیں کر سکیں گے جو افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت اور انہیں اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالنے کے لیے درکار ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو افغانستان کو ذمہ داریوں کی منتقلی کے لیے کسی نظام الاوقات کے تعین کے مخالف ہیں۔ درحقیقت، کچھ تو ہماری جنگی کوشش میں ایک زیادہ ڈرامائی اور بے محابہ اضافہ چاہتے ہیں جو ہمیں ایک عشرے تک ایک قومی تعمیر کے پراجیکٹ سے وابستہ رکھے گا۔ میں اس طریقے کو مسترد کرتا ہوں کیونکہ یہ ایسے اہداف متعین کرتا ہے جنہیں معقول اخراجات کے ساتھ حاصل کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں حاصل کرنا ہمارے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ذمہ داریوں کی منتقلی کے لیے کسی لائحہ عمل کے نہ ہونے سے اس احساس کی نفی ہو گی کہ ہمیں افغان حکومت کے ساتھ اپنا کام تیزی سے مکمل کرنا ہے۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ افغانوں کو اپنی سیکورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنا ہو گی اور یہ کہ امریکا کو افغانستان میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

صدر کی حیثیت سے میں ایسے مقاصد متعین کرنے سے انکار کرتا ہوں جو ہماری ذمہ داری، ہمارے وسائل یا ہمارے مفادات سے بالاتر ہوں۔ مجھے ان تمام چیلنجوں کو اہمیت دینا ہو گی جو ہماری قوم کو درپیش ہیں۔ اور میں کسی ایک ہی چیلنج پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر آئزن ہاور کے یہ الفاظ میرے ذہن میں رہتے ہیں جنہوں نے ہماری قومی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، یعنی قومی پروگراموں میں اور ان کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پچھلے کئی برسوں میں ہم اس توازن کو کھو چکے ہیں۔ ہم اپنی قومی سلامتی اور اپنی معیشت کے درمیان تعلق کی اہمیت سمجھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اقتصادی بحران کی زَد میں آکر، ہمارے بہت سے پڑوسی اور دوست روزگار کھو چکے ہیں اور وہ اپنے بِلوں کی ادائیگیوں کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بہت سے امریکی اپنے بچوں کے سامنے موجود مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اسی دوران، عالمی معیشت میں مسابقت بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لیے ہم ان جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔

بہرطور، جب میں نے اپنا منصب سنبھالا تو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اٹھنے والے اخراجات ایک کھرب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اب آگے بڑھتے ہوئے ،میں ان اخراجات سے کھلے طور پر اور دیانتداری کے ساتھ نمٹنے کا عزم رکھتا ہوں۔ افغانستان میں ہمارے نئے لائحہ عمل سے امکان ہے اس سال فوج پر ہمارے لگ بھگ ۳۰ ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور میں کانگریس کے ساتھ اس وقت ان اخراجات سے نمٹنے کے لیے قریبی طور پر کام کروں گا جب ہم اپنے خسارے کو کم کرنے پر غور و فکر کریں گے۔

لیکن اب جب ہم عراق میں جنگ ختم کر رہے ہیں اور افغانستان میں ذمہ داری سنبھال رہے ہیں، ہمیں یہاں اپنے ملک کو پھر سے مضبوط بنانا ہو گا۔ ہماری خوشحالی ہماری طاقت کی بنیاد ہے۔ اس کی بدولت ہم اپنی فوج کے اخراجات اٹھاتے ہیں۔ یہ ہماری سفارتکاری کی ضامن ہے۔ یہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتی ہے اور اس کی بدولت نئی نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری ممکن ہوتی ہے ۔ اور اسی کی مدد سے ہم اس صدی میں اتنی کامیابی سے مسابقت کر سکیں گے جتنی کہ ہم نے گزشتہ صدی میں کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں فوجیوں کے لیے ہماری وابستگی غیر محدود پیمانے کی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ میں جس ملک کی تعمیر میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں وہ ہمارا اپنا ملک ہے۔

میں یہ بات صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی کام آسان نہیں ہو گا۔ متشدد انتہا پسندوں کے خلاف جدوجہد جلد ختم نہیں ہو گی، اور یہ افغانستان اور پاکستان سے کہیں آگے تک جاتی ہے۔ یہ ہمارے آزاد معاشرے اور دنیا میں ہماری قیادت کا ایک صبر آزما امتحان ہو گا۔ اور بڑی طاقتوں کے تنازعوں اور تقسیم کی ان واضح لائنوں کے برعکس جو بیسویں صدی کا خاصہ تھے ہماری جدوجہد کا دائرہ انتشار زدہ خطوں، ناکام ریاستوں اور بکھرے ہوئے دشمنوں پر محیط ہو گا۔

اس لیے نتیجتاً امریکا کو اپنی طاقت کا مظاہرہ اس انداز میں کرنا ہو گا کہ ہم جنگیں ختم کریں اور تنازعوں کا سدباب کریں نہ کہ صرف اس طرح کہ ہم کس طرح جنگیں کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی فوجی طاقت کا استعمال درستگی کے ساتھ اور بھرپور طریقے سے کرنا ہو گا۔ القاعدہ اور اس کے اتحادی جہاں کہیں اپنے قدم جمانے کی کوشش کریں چاہے وہ صومالیہ ہو یا یمن۔ یا کوئی اور جگہ ان کا مقابلہ مزید دبائو اور مضبوط شراکت داری کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

اور اب ہم صرف فوجی قوت پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے وطن کی سلامتی پر بھی سرمایہ کاری کرنا ہو گی، کیونکہ ہم سمندر پار ہر متشدد انتہا پسند کو پکڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ہلاک کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی انٹیلی جنس کو بھی بہتر اور زیادہ مربوط بنانا ہو گا تاکہ ہم پوشیدہ نیٹ ورکس سے ایک قدم آگے رہ سکیں۔

ہمیں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ختم کرنا ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے قدرے آسانی سے دستیاب ہونے والے جوہری مواد کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے بچانے، جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنے اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے محفوظ بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بنایا ہے… کیونکہ ہر قوم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صحیح معنوں میں سیکورٹی پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ سے کبھی حاصل نہیں ہو گی بلکہ حقیقی سیکورٹی ان لوگوں کا مقدر بنے گی جو انہیں مسترد کر دیں گے۔

ہمیں سفارتکاری سے کام لینا ہو گا کیونکہ کوئی ایک واحد قوم ایک باہم مربوط دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ تن تنہا نہیں کر سکتی۔ میں نے یہ سال اپنے اتحادوں کی تجدید اور نئی شراکت داریاں قائم کرنے میں گزارا ہے۔ اور ہم نے امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان ایک نئی شروعات کی ہے۔ جس میں تنازعوں کا ایک سلسلہ ختم کرنے کے لیے باہمی دلچسپی کو پیش نظر رکھا ہے اور جو ایسے مستقبل کی ضمانت دیتی ہے جس میں بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو امن، خوشحالی اور انسانی وقار کے لیے ڈٹ جانے والے الگ تھلگ کر دیں۔

اور آخری بات یہ کہ ہمیں اپنی اقدار سے تقویت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ بدل سکتے ہیں لیکن ہمارے عقائد نہیں بدلتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں ان اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں فروغ دینا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اذیت رسانی پر پابندی لگا دی ہے اور میں گوانتاناموبے کا قید خانہ بند کردوں گا۔ اور ہمیں دنیا بھر کے ہر مرد و عورت اور بچے پر، جو ظلم و استبداد کی تاریکیوں میں زندگی گزار رہا ہے، یہ واضح کر دینا چاہیے کہ امریکا ان کے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائے گا اور وہ تمام لوگوں کے لیے آزادی، انصاف، مواقع اور وقار کے احترام کے لیے کام کرے گا۔ ہم اصل میں یہ ہیں۔ اور امریکا کی حاکمیت کا یہی منبع ہے، اخلاقی منبع۔

فرینک لین روز ویلٹ کے زمانے سے ہمارے آباء اجداد کی خدمات اور قربانیوں کے ذریعے ہمارے ملک نے عالمی معاملات کا ایک خصوصی بوجھ برداشت کیا ہے۔ کئی براعظموں کے کئی ملکوں میں امریکوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ہم نے دوسرے ملکوں میں ملبوں کے ڈھیروں کی تعمیر نو اور ان کی معیشتوں کی ترقی میں مدد کے لیے اپنے ٹیکسوں کی آمدنی صَرف کی ہے۔ہم نے دیگر اقوام کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ سے لے کر نیٹو اور عالمی بینک تک، اداروں کا ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جو نوع انسانی کی مشترکہ سیکورٹی اور خوشحالی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہم نے جو یہ کوششیں کی ہیں، ایسا نہیں ہوا کہ ہمیشہ ہی ان کے لیے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا ہو، اور ہم سے کبھی کبھی غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔لیکن کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں، امریکا نے چھ عشروں سے زیادہ عرصے تک دنیا کی سلامتی کی ضمانت دی ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں تمام تر مسائل کے باوجود، دنیا نے دیواریں گرتی دیکھی ہیں، منڈیاں کھلی ہیں، اربوں لوگ غربت کے چنگل سے نکلے ہیں، بے مثال سائنسی ترقی ہوئی ہے، اور انسانی آزادی کی سرحدیں وسیع ہوئی ہیں۔

ماضی کی بڑی طاقتوں کے برعکس ہم نے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ہماری یونین استبداد کی مزاحمت پر قائم ہوئی تھی۔ ہم دوسرے ملکوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم کسی دوسرے ملک کے وسائل پر اپنا حق نہیں جَتائیں گے، ہم دوسرے لوگوں کو اس لیے نشانہ نہیں بنائیں گے کہ وہ ہم سے مختلف عقائد یا نسل کے لوگ ہیں۔ ہم جس چیز کے لیے لڑ چکے ہیں، ہم جس چیز کے لیے لڑتے رہیں گے وہ ہے ہمارے بچوں کا بہتر مستقبل۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ان کی زندگیاں صرف اسی صورت میں بہتر ہوں گی اگر دوسرے لوگوں کے بچے اور ان بچوں کی اولادیں آزادی کے ساتھ رہ سکیں اور انہیں مواقع فراہم ہو سکیں۔ (تالیاں)

ایک ملک کے طور پر، ہم اتنے جوان نہیں ہیں اور شاید اتنے معصوم نہیں ہیں جتنے ہم اس وقت تھے جب روز ویلٹ صدر تھے۔ تاہم پھر بھی ہم آزادی کے لیے ایک اعلیٰ جدوجہد کے امین ہیں۔ اور اب ہمیں ایک نئے دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اخلاقی اقدار کو بروئے کار لانا ہو گا۔

آخری بات یہ کہ ہماری سیکورٹی اور قیادت کا ماخذ صرف ہمارا اسلحہ نہیں ہے۔ اس کا ماخذ ہمارے لوگ ہیں۔ وہ کارکن اور تاجر جو ہماری معیشت کی تعمیر نو کریں گے، وہ کاروباری لوگ اور محقق جو نئی صنعتیں لگائیں گے، وہ اساتذہ جو ہمارے بچوں کو تعلیم دیں گے اور وہ محنت کش جو ہمارے ملک کی کمیونیٹیزمیں کام کرتے ہیں، وہ سفارت کار اور پیس کورز کے رضاکار جو دنیا بھر میں امید پھیلاتے ہیں اور یونیفارم میں ملبوس وہ مرد اور خواتین جو قربانیوں کے اس نہ ٹوٹنے والے سلسلے کا ایک حصہ ہیں جس کے باعث اس کرۂ ارض پر لوگوں کے لیے، لوگوں کی حکومت لوگوں کے ذریعے ایک حقیقت بنی۔ (تالیاں)

گوناگوں نسلوں، عقائد اور ملکوں کے لوگوں پر مشتمل یہ متنوع اور عظیم قوم ہر مسئلے پر ہمیشہ متفق نہیں ہو گی۔ نہ ہی اسے ہونا چاہیے۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایک ملک کے طور پر ہم اپنی قیادت اس وقت برقرار نہیں رکھ سکتے اور اپنے دَور کے ان اہم چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جب تک ہم خود کو اس عداوت اور بداعتمادی اور تعصب سے الگ نہیں کر لیتے جس نے حالیہ عرصے میں ہمارے قومی بحث مباحثے کو تلخی سے بھر دیا تھا۔

یہ فراموش کرنا آسان ہے کہ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو ہم متحد تھے۔ ایک ہولناک حملے کی تازہ یاد نے، اور اپنی سرزمین اور اپنی عزیز اقدار کے دفاع کے عزم نے ہم سب کو ایک کر دیا تھا۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ ہمارے درمیان وہ ہم آہنگی دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتی (تالیاں)۔ مجھے روح کی گہرائیوں سے یقین ہے کہ ہم امریکی ہونے کے ناطے اب بھی کسی مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے متحد ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہماری اقدار صرف کاغذ پر تحریر سادہ الفاظ نہیں ہیں۔ وہ عقائد کا ایک مجموعہ ہیں جو ہم سب کو ایک بندھن میں پروتا ہے اور جس نے ہمیں ہماری تاریخ کے سیاہ ترین ادوار میں کبھی ایک ملک اور ایک قوم کی حیثیت سے متحد رکھا ہے۔

امریکا… ہم ایک بڑے آزمائشی دَور سے گزر رہے ہیں۔ اور ان طوفانوں کے درمیان سے ہم یہ واضح پیغام بھیج رہے ہیں کہ ہمارا نصب العین انصاف ہے، ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ ہم اس اعتماد کے ساتھ کہ جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور اس عہد کے ساتھ آگے بڑھیں گے کہ ہم ایک ایسا امریکا تعمیر کریں گے جو پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گا، ایک ایسی دنیا تعمیر کریں گے جو پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گی اور ایک ایسا مستقبل تشکیل دیں گے جہاں خوف کی اتھاہ گہرائیاں نہیں بلکہ امید کی روشن کرنیں ہر سو اجالا بکھیریں گی۔ (تالیاں)
شکریہ۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ خدا ریاست ہائے متحدہ امریکا کو اپنی برکتوں سے نوازے۔ (تالیاں)
شکریہ۔ بے حد شکریہ۔ شکریہ (تالیاں)

{}{}{}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.