عراق فوج بھیجنے کے حوالے سے امریکی دباؤ

ان دنوں پوری دنیا میں ہر حساس صاحبِ ایمان کے لیے یہ سوال پریشان کُن ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران امریکا کی خوشنودی کے حصول کے لیے کس حد تک گرنے کو تیار ہیں۔ کیا وہ اخلاقی جرأت و ضمیر کے لحاظ سے بالکل ہی دیوالیہ ہو گئے ہیں؟ ۵۸ مسلم ممالک میں سعودی عربیہ اور پاکستان مسلمانانِ عالم کی نظر میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن دونوں ممالک کے حکمراں طبقے کبھی بھی اُمت کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ دونوں ممالک امریکی جارحیت سے تباہ شدہ عراق میں اپنی مسلم افواج کو بھیجنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ مراکش اور الجزائر بھی ان کے نقشِ قدم کی پیروی کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا کہ اس سلسلے میں اسلام آباد اور ریاض سے اثبات میں جواب لے سکیں۔ امریکا کا یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب فلپائن‘ اسپین‘ ہنڈوراس اور نکاراگوا نے عراق سے اپنی افواج واپس بلا لینے کا فیصلہ کیا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ اس مسئلے پر گفتگو جاری ہے اور ابھی مزید بات چیت کی توقع ہے۔ پاکستانی وزیراعظم چودھری شجاعت حسین بھی اس حوالے سے ابھی سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداﷲ سے اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔ ان دنوں کوئی ملک بھی امریکا کی خواہشات کے خلاف جانا نہیں چاہتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ملائیشیا کے وزیراعظم عبداﷲ احمد بداوی نے وائٹ ہائوس میں صدر بش سے ملاقات کرنے کے بعد یہ بیان دیا کہ ’’ہم مسلمان ممالک کو اس بات کے لیے اپنی حمایت دینے کو تیار ہیں کہ او آئی سی عراق کی تعمیرِ نو میں حصہ لے اور عراقی حکومت کے اداروں اور اس کے معاشی نظام کو مضبوط کرنے میں ہاتھ بٹائے‘‘۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید احمد قصوری کا کہنا ہے کہ ’’اگر عراقی عوام نے مدد کی درخواست کی تو پاکستان ایک برادر ملک کی حیثیت سے جو کچھ کر سکتا ہے اُن کی مدد کرے گا‘‘۔ کیسی عجیب بات ہے؟ عراقی کیوں پاکستان کو دعوت دیں گے؟ جبکہ وہ مختلف ممالک کے شہریوں کو اغوا کر کے ان ممالک کو عراق چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ دنیا کو بخوبی معلوم ہے کہ پاکستان نے اپنے آقا امریکا کے دبائو میں آکر اپنے ایک ہمسایہ برادر ملک کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ امریکا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس کو اپنی فوج عراق بھیجنے پر مجبور کر رہا ہے۔

جناب قصوری یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’’ہم عراق فوج بھیجنے کے واسطے راے عامہ کی تبدیلی کا انتظار کریں گے‘‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام عراق میں پاکستان کی کسی بھی قسم کی مداخلت یا شرکت کے سخت مخالف ہیں۔ لہٰذا فوج بھیجے جانے کی وہ حمایت کرونکر کریں گے؟ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے راجہ پرویز اشرف‘ تحریکِ انصاف کی عمران خان اور مسلم لیگ (نواز) کے سعد رفیق نے حکومت کو تاکید کی ہے کہ وہ یہ واضح الفاظ میں اعلان کرے کہ پاکستان کی فوج کسی بھی صورت میں عراق نہیں بھیجی جائے گی۔ حتیٰ کہ دو اغوا شدہ پاکستانی‘ راجہ آزاد خان اور ساجد نعیم جو کہ سعودی التمیمی گروپ کی کویتی شاخ سے وابستہ تھے‘ کے قتل کے بعد بھی پاکستانی حکومت نے عراق فوج بھیجے جانے کے امکان کو کلی طور سے مسترد نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف نے ان دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستانی حکومت کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان ہلاکتوں کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اس واقعہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت اندرونِ ملک و بیرونِ ملک ہر دوجگہ شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہے۔ راجہ پرویز اشرف کا خیال تھا کہ اگر حکومت عراق نہ بھیجے جانے کی یقین دہانی کرا دیتی تو اِن دونوں پاکستانی شہریوں کی جان بچ جاتی۔ عمران خان نے سیکڑوں پاکستانیوں کے کابل کے پل چرخی اور کیوبا کے گوانتا ناموبے میں قید کی بے رحمانہ حالت میں پڑے رہنے پر حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے امریکا کے اشارہ پر وانا میں اپنے ہی عوام کو قتل کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے مخدونیا میں دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں پاکستان کے چھ شہریوں کے قتل پر حکومت کی عدم توجہ کی بھی بھرپور مذمت کی۔ عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت عراق فوج بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ سعد رفیق کا خیال تھا کہ پاکستانی شہریوں کی جان نہیں جاتی اگر قومی اسمبلی کے اسپیکر ابو غریب جیل اور عراق میں امریکی افواج پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں سے متعلق مذمتی قرارداد پر بحث کی اجازت پہلے دے دیتے۔

سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس اور رُکنِ قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ عراقی مسلمانوں کے قتلِ عام کے لیے ہرگز اپنی فوج نہ بھیجے۔ پاکستان کے فوجی سربراہ پرویز مشرف ملک میں امن و امان قائم کرنے میں تو ناکام رہے لیکن عالمی محاذ پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پھنکاریں مار رہے ہیں‘ ایک خاص ویژن اور فہم کے ساتھ۔ شہزادہ عبداﷲ کی جانب سے بہت ہی روشن خیال جملے سننے کو مل رہے ہیں: ’’قاتل اور دہشت گرد اسلام کے دشمن ہیں اور وہ اسلام کی تمام تجارتی‘ ثقافتی و تہذیبی سرگرمیوں کو جامد و ساکت کر دینے کے درپے ہیں۔ ہم اتنی اہلیت رکھتے ہیں کہ ان کے منصوبوں کو ناکارہ بنا دیں اور انہیں ان کے ناپاک عزائم میں ناکام بنا دیں‘‘۔ لیکن انہوں نے اس عظیم چیلنج کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا جو امن‘ ترقی‘ خود مختاری اور ملک کی ارضی سلامتی کو درپیش ہے۔ نہ ہی انہیں امریکا کے خلاف کہنے کے لیے کوئی لفظ مل سکا جو اس وقت کی بدترین سامراجی قوت ہے اور جو مسلم ممالک کو یکے بعد دیگرے لوٹنے اور تاراج کرنے پر تلا ہوا ہے۔ بھارت جہاں انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے (۱۵ کروڑ) جو کہ تقریباً پاکستان کے برابر ہے‘ اپنی فوج عراق بھیجنے کے حوالے سے اب تک انکاری ہے۔ بھارت کی حکومت ۳ بھارتی شہریوں کے اغوا کاروں کو یہ مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ حقیقتاً غیرجانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کے عوام عراق میں دوسرے ملک کی کسی بھی قسم کی مداخلت کے سخت مخالف ہیں۔ ہر بھارتی شہری دست بہ دعا ہے کہ اغوا شدہ معصوم بھارتی شہری بغیر کسی نقصان کے اپنے ملک واپس آجائیں۔

(بشکریہ: ہفتہ روزہ ’’ریڈینس‘‘۔ نئی دہلی۔ ۸ تا ۱۴ اگست ۲۰۰۴ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*