ANP کے قائدین کا امریکا میں استقبال

عوامی نیشنل پلارٹی (ANP) کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل افرسیاب خٹک نے اپریل کے آخری ہفتے میں واشنگٹن میں بااثر امریکی قانون سازوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے امریکا اے این پی کو خوش کرنا چاہتا ہے تاکہ صوبہ سرحد اور فاٹا میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے بطور آلہ استعمال کرے ‘ پارٹی ذرائع کے مطابق اے این پی کے رہنمائوں نے جو اپریل کے پہلے ہفتے میں امریکا پہنچنے تھے‘ امریکی وزارت خارجہ کی متعدد بریفنگ میں شریک ہوئے اور اپریل کے آخر ہفتے میں جبکہ دو ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اجلاس شروع ہوتے ہیں کئی امریکی ارکانِ کانگریس سے ملاقاتیں کیں۔ خٹک نے ٹیلی فون پر ہیرالڈ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ارکانِ کانگریس اور امریکی حکام کے ساتھ ہماری ملاقاتوں میں خطے کی سلامتی‘ تنازعہ کا حل اور بھارت و پاکستان کے مابین ہمہ جہتی مسائل پر گفتگو جیسے مسائل زیربحث آئے۔‘‘

اے این پی کے رہنما نے یہ زور دے کر کہا کہ وزیرستان اور فاٹا کے علاقوں میں جاری فوجی مہم بہرحال زیر بحث نہیں آئی ۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ اے این پی کو امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے امریکا کے دورے کے لیے کوئی دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ خٹک نے مزید بتایا کہ امریکا میں قیام کے بعد اسفندریار ولی خان اور وہ اپنی پارٹی کے ہم نوائوں سے ملاقات کی خاطر لندن جائیں گے اور وہاں سے خان پارٹی کے کام کو منظم کرنے بون چلے جائیں گے۔ اے این پی کے رہنمائوں کی امریکی حکام اور ارکان کانگریس سے ملاقاتوں کو تجزیہ نگاروں کے حلقے میں بہت اہمیت دی جارہی ہے او ریہ خیال کیا جارہا ہے کہ واشنگٹن اے این پی کے نسلی پہلو کو پختون اکثریت والے صوبہ سرحد اور فاٹا میں طالبان کے روزافزوں اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم آلہ کے بطور استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے سابق چیف سیکریٹری خالد عزیز کا کہنا ہے کہ نسلیت کی حوصلہ افزائی شاید پاکستان اور امریکا کے پاس واحد تدبیر کے طور پر رہ گئی ہے جسے وہ وزیرستان کی صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور صوبہ سرحد کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔نسل پرست جماعتوں کے لیے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ابھی مزید امریکی حمایت کا مشاہدہ کیا جائے گا اس کے باوجود کہ اس سے اسلام آباد کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے این پی کے رہنمائوں نے واشنگٹن میں ۲۵اپریل کو پاکستانی سفارتخانے کا دورہ کیا مگر انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو سے رابطہ نہیں کیا جون لندن میں ۲۴ اپریل کو نواز شریف سے ملاقات کے بعد اپریل کے آخری ہفتہ میں واشنگٹن پہنچی تھیں۔ علاوہ ازیں نیویارک کی ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دینے کے باوجود کہ پاکستان کی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے مابین سماجی رابطے کی ضرورت ہے اے این پی کے رہنمائوں کا لندن میں پاکستان مسلم لیگ کے جلاوطن رہنمائوں نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین سے ملاقات کا کوئی پروگرام ہے جبکہ یہ تمام لوگ ماضی میں باہمی حلیف رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اے این پی کے رہنمائوں نے اردو اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں کی تصحیح کو ضروری جانا جن مین کہا گیا تھا کہ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف اور الطاف حسین اے این پی کے لندن کنونشن میں شرکت کریں گے ۔ چنانچہ جناب خٹک نے اس سلسلے میں ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس خبر کی تصحیح ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ نہ تو ہم لوگ اور نہ ہی ہماری پارٹی کی لندن شاخ نے اس طرح کا کوئی پروگرام بنایا ہے۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’ہیرالڈ‘‘۔ شمارہ۔ مئی ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*