مغربی دنیا: حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے بہت دور!

گذشتہ دنوں دنیاے عیسائیت نے حضرت عیسیٰ ؑ کا یوم ولادت کرسمس بڑے زور وشور سے منایا۔ یہ دن عیسائیوں کی سب سے بڑی عید کا دن ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ ایک اہم اور الوالعزم پیغمبر تھے۔ آپ نے اپنی ولادت کے فوراً بعد خدا کے حکم سے بات کی اور اپنا تعارف کرایا۔ سورۂ مریم کی آیت ۳۰ تا ۳۲ میں حضرت عیسیٰ کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ’’بچے نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں‘ نماز اور زکواۃ کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلومک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و نامراد نہیں بنایا ہے۔‘‘ حضرت عیسیٰ ؑ کی عظیم شخصیت انسان دوستانہ اور انصاف پسندانہ تعلیمات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج حضرت عیسیٰ ؑ کے ماننے والے کس حد تک آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں؟ افسوس کہ عالم عیسائیت کے طور طریقوں اور ان کے طرز زندگی پر نظر ڈالنے سے مذکورہ سوال کا مایوس کن جواب ملتا ہے۔ شاید مغربی دنیا اب سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات سے اتنی دور کبھی نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہے۔ خاص طور سے امریکی حکومت‘ جو دیگر مغربی حکومتوں سے زیادہ خود کو حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات کی پابند ظاہر کرتی ہے۔ امریکی صدر جارج بُش کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے ان کی ہدایت و رہنمائی کی اور وہ بہت مذہبی ہیں۔ وہ سرکاری نشستوں کا آغاز انجیل کی تلاوت سے کرتے ہیں اور اپنی تقاریر میں اُسی مقدس کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ سادہ لوگوں کے لیے بُش کے اس طریقے سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اُن کی پالیسیاں حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات پر مبنی ہیں لیکن آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ جنگ اور توسیع پسند حکومت امریکا کی بُش حکومت ہے۔ جارج ڈبلیو بش نے اپنے دورِ صدارت میں افغانستان اور عراق پر دو خونریز جنگیں مسلط کیں اور بہت سے بے گناہ لوگوں کو قتل اور بے گھر کردیا۔ دو امریکی یونیورسٹیوں اور بغداد کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق مارچ ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ عراقی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے اس سے کہیں زیادہ ہیں‘ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قتل و غارت گری اور ظلم و ستم سے حضرت عیسیٰ ؑ راضی ہیں؟ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مظلومین اور ستم رسیدہ لوگوں کی حمایت اور ظالموں اور ستم گروں سے مقابلہ کرنا حضرت عیسیٰ ؑ کا شیوہ تھا۔ آپ ؑ نے اپنی تمام زندگی میں قتل تو کیا کسی پر زرہ برابر ظلم نہیں کیا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا ہے کہ ’’اگر کسی کے پاس ظلم کو روکنے کی طاقت ہو اور وہ ایسا نہ کرے تو اس کا یہ عمل ظلم کے مترادف ہے‘‘ پھر کس طرح امریکی صدر بُش خو دکو حضرت عیسیٰ ؑ جیسے پیغمبر کا ماننے والا کہتے ہیں؟ البتہ قتل و غارت گری صرف امریکا کی موجودہ حکومت کا شیوہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ ایک صدی کے دوران امریکا کی تمام حکومتوں نے کسی نہ کسی طرح جنگ پسندی اور توسیع پسندی کی پالیسی اختیار کی ہے۔ سب سے زیادہ وحشیانہ قتلِ عام یعنی دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں پر ہونے والی ایٹمی بمباری جس نے کرائی وہ بھی عیسائی تھا۔ گذشتہ نصف صدی میں امریکا نے متعدد جنگوں کے ذریعہ لاکھوں لوگوں کو اپنی مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ ویتنام میں امریکی فوج نے بارہا کیمیائی اور نیپام بموں کا استعمال کیا‘ جس سے ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے اور ابھی تک بہت زرعی اراضی ناقابلِ کاشت ہے۔

امریکا کے علاوہ یورپی حکومتوں نے بھی سیکڑوں برس تک تیسری دنیا کے ممالک کا استحصال کیا۔ وہاں لوٹ مار کی اور لاکھوں لوگوں کو اس قتل و غارت گری پر احتجاج کرنے کے جرم میں ہلاک کر دیا اور ان کی حریت پسندی کی آواز کو دبا دیا۔ آیا ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے پیغمبرِ رحمت و محبت حضرت عیسیٰؑ کے ماننے والے ہو سکتے ہیں؟ امریکا اور یورپی ممالک کے افکار و عقائد میں قابلِ توجہ بات ان کی احساسِ برتری اور نسل پرستی ہے جو حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ مغربی حکومتوں نے خود کو ہمیشہ دیگر ملکوں سے بہتر اور برتر سمجھا ہے۔ اسی وجہ سے وہ دوسری قوموں کے مال و دولت کو لوٹنا اپنا حق بھی سمجھتی ہیں اور یہ سوچ مغربی ملکوں‘ خاص طور سے امریکا میں اب بھی پائی جاتی ہے۔ خود مغربی ملکوں کے اندر سیاہ فام اور سفید فام اور یورپی اور غیریورپی کے درمیان امتیاز برتا جا رہا ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰؑ غریب اور نادار لوگوں کے درمیان بڑی انکساری سے بیٹھتے تھے اور ان کے ساتھ کھانا بھی تناول فرماتے تھے۔ حضرت عیسیٰؑ سیاہ فام اور سفید فام اور مختلف قوموں کے درمیان تفریق کے قائل نہیں تھے۔ عیسائی ممالک میں نسل پرستی کی حمایت کا ایک بہترین نمونہ ان کی طرف سے نسل پرست صیہونی حکومت کی کھلی حمایت ہے۔ اس نسل پرست حکومت نے اب تک دسیوں ہزار فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کیا ہے اور لاکھوں کو بے گھر‘ اور یہ حکومت اب بھی اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ مغرب خصوصاً امریکا کی حمایت کے بغیر صیہونی حکومت کا باقی رہنا ممکن نہیں۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ ’’صیہونی عیسائی‘‘ نامی شدت پسند عیسائی فرقہ واشنگٹن سے صیہونی حکومت کے جرائم کی اور زیادہ حمایت کا مطالبہ کرتا ہے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تبھی ظہور فرمائیں گے جب فلسطین اور مسجد الاقصیٰ پر یہودیوں کا قبضہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ متعصب فرقہ ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کے قتلِ عام کو حضرت عیسیٰؑ کے ظہور کا لازمہ سمجھتا ہے جبکہ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے ماننے والوں کو کبھی بھی ظلم و ستم اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی تعلیم نہیں دی۔ حضرت عیسیٰؑ ظالموں کی سرکوبی اور دنیا میں انصاف قائم کرنے کے لیے امام زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ساتھ ظہور کریں گے۔ آج خود مغربی معاشروں میں حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کی بہت کم اہمیت ہو کر رہ گئی ہیں۔ مغربی ملکوں میں فضول خرچی اور عیش پرستی کا بول بالا ہے۔ ادھر مغرب اور دیگر ملکوں میں بہت سے لوگ غربت کا شکار ہیں اور اخلاقی برائیاں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں۔ جبکہ حضرت عیسیٰؑ کی زندگی نہایت سادہ اور تصنع سے عاری تھی اور پاکدامنی اور پارسائی آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت مریمؑ کی نمایاں خصوصیت تھی۔

قرآنِ کریم میں ہے کہ جب حضرت مریمؑ کو ایسے بچے کی ولادت کی خوش خبری دی گئی جو پیغمبر بنے گا آپؑ کو حیرت ہوئی اور کہا کہ ’’میرے یہاں فرزند کس طرح ہو گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا بھی نہیں ہے۔ خدا نے جواب دیا کہ خدا جس کو چاہتا ہے‘ پیدا کرتا ہے۔ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے‘ تو کہتا ہے کہ ’’ ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک میں عورت و مرد کے درمیان ناجائز تعلقات اور ہم جنس پرستی بھی ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ بعض ممالک میں تو ہم جنس پرستی کو قانونی جواز بھی حاصل ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ناجائز بچوں کی ایک بڑی تعداد مغربی حکومتوں کے لیے ایک مشکل بنی ہوئی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ برسوں میں اکثر مغربی ممالک کی آدھی آبادی ناجائز ہو گی۔ ادھر گرجا گھروں سے بھی‘ جو عفت و پاکدامنی کا نمونہ ہونے چاہییں‘ جنسی بدعنوانی کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اسی طرح مغرب میں حضرت عیسیٰؑ کی اخلاقی تعلیمات کے برخلاف جنسی برائیوں اور شہوت پرستی نے عفت پاکدامنی کی جگہ لے لی ہے اور آزادی کے نام پر سنیما‘ ٹی وی اور انٹرنیٹ پر بہت غلط اور نازیبا ترین تصاویر دکھائی جاتی ہیں اور لوگوں کو غیراخلاقی اور تشدد آمیز سرگرمیوں کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سورۂ حدید کی آیت۲۷ میں حضرت عیسیٰؑ کے سچے ماننے والوں کے بارے میں خدا فرماتا ہے کہ: ’’اور اس کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کر دی اور ان کا اتباع کرنے والوں کے دلوں میں مہربانی اور محبت قرار دی‘‘۔ دنیاے عیسائیت کی حکومتوں اور لوگوں پر ایک نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اس عظیم پیغمبر کی تعلیمات میں سے معنوی اقدار کو جن کی حضرت عیسیٰؑ نے دعوت دی تھی‘ نکال دیا ہے اور خود کو اور دیگر قوموں کو بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے۔ آخر میں ہم اپنا سوال دہراتے ہیں کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات یہی ہیں؟

(بحوالہ: آئی آر آئی بی ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*