سیلاب صدر زرداری کو بھی لے ڈوبے گا؟

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری کا دائرہ رفتہ رفتہ وسعت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ امدادی کارروائیوں میں حکومتی مشینری کی نا اہلی سامنے آنے کے بعد لوگ غیر معمولی حد تک مشتعل ہیں۔ مگر اس کے باوجود حکومت میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اپوزیشن نہیں چاہے گی کہ اس پر قومی المیے سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا جائے ۔ دوسری طرف فوج بھی عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے ساتھ ساتھ اب امدادی سرگرمیوں میں غیر معمولی حد تک مصروف ہے ۔ ایسے میں حکومت پر اثر انداز ہونے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی۔ صدر زرداری کی پوزیشن اس سیلاب سے کمزور ضرور ہو جائے گی اور وہ اپنے اختیارات کے مطابق کام نہیں کرسکیں گے ۔

پاک فوج نے البتہ انتباہ کردیا ہے کہ حکومت کی جانب سے امدادی کاموں میں سست روی سے سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک امریکی اخبار سے انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ بعض علاقوں میں صورت حال زیادہ خراب ہے اور لوگ امداد کے منتظر ہیں۔ اگر حکومت نے بر وقت امداد فراہم نہ کی تو لوگوں میں اشتعال بڑھ جائے گا اور صورت حال مزید بگڑی تو سیکورٹی کا مسئلہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان فی الحال خاموش ہیں اور کسی بڑے حملے کی بظاہر کوئی تیاری نہیں کی جارہی۔ امریکا بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہا۔ امریکیوں کو بھی اندازہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر دباؤ ڈالنا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

لوگوں کو یقین ہی نہیں تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلے گی۔ کسانوں کو اندازہ نہ تھا کہ سیلاب راتوں رات ان کی زندگی سے سب کچھ نکال کر لے جائے گا۔ بیشتر علاقوں میں یہ ہوا کہ کسان جب نیند ختم کرکے بیدار ہوئے تو چاروں طرف پانی ہی پانی تھا۔ دیہات میں باضابطہ وارننگ سسٹمز بھی نہیں۔ مساجد سے اعلان کیا گیا۔ کوئی فصل کو کیا روئے کہ پورے کے پورے کھیت ہی پانی کی نذر ہوئے ۔ دیہات میں رہنے والوں کا تو یہ حال تھا کہ جو کچھ بھی ہاتھ لگا، لیکر محفوظ مقامات کی طرف چل پڑے ۔ جہاں پناہ ملی وہیں بیٹھ گئے ۔ پیروں تلے خشک زمین کم کم تھی اور سروں پر کوئی سائبان بھی نہ تھا۔ وبائی امراض کا خطرہ الگ سروں پر منڈلا رہا تھا۔ چاروں طرف پانی ہی پانی تھا مگر پھر بھی لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہوئے ۔ حاملہ خواتین کو خاص طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اسکولوں کے کلاس رومز میں بچوں کو جنم دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے اشتعال میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ حکومت نے ان کی توقع سے کہیں کم سرگرمی دکھائی ہے ۔ سرکاری مشینری سے لوگوں کو برائے نام امداد ملی ہے ۔ غیر سرکاری تنظیموں نے متاثرین کی بروقت مدد کی ہے جس سے انہیں سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے ۔ اگر حکومت نے امدادی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع نہ کیا اور بروقت امداد نہ پہنچائی تو عوام کا اشتعال بڑھتا جائے گا۔ سیلابی صورت حال کے باوجود صدر زرداری نے فرانس اور برطانیہ کا دورہ منسوخ نہیں کیا جس پر لوگ خاصے خفا ہوئے ۔ بعد میں انہوں نے سخت پہرے میں سکھر کا دورہ کیا اور چند متاثرین میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کرکے خاموشی سے اسلام آباد لوٹ گئے ۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صدر زرداری کے ساتھ پنجاب کے دورے میں کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی تباہی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

صدر زرداری کی مقبولیت میں سیلاب سے قبل بھی خاصی کمی واقع ہوچکی تھی اور ۲۰ فیصد کی سطح پر آچکی تھی۔ اب شاید یہ صفر تک جاپہنچی ہو۔ اگر صدر کو اپنی ساکھ بحال کرنی ہے تو دو تین ہفتوں میں سیلاب زدگان کی مکمل بحالی کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اگر متاثرین کو معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے انفرا اسٹرکچر بحال شدہ حالت میں جلد نہ ملا تو حکومت پر ان کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔ لوگ صدر سے اس معاملے میں غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ انہیں عالمی برادری کو مزید امداد جاری کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اب تک عالمی برادری کا ریسپانس خاصا مبہم اور ناقابل ذکر رہا ہے۔ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے عالمی برادری کو راضی کرنا صدر زرداری کا کھرا امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی ان کے سیاسی کیریئر کی عمر بڑھادے گی۔

سیلاب سے پاکستانی معیشت کو زیادہ نقصان اس وجہ سے بھی پہنچا ہے کہ اس کا مدار زراعت پر ہے ۔ کھیت پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں نصف سے زائد ورک فورس زرعی شعبے سے منسلک ہے ۔ معیشت میں زراعت کا حصہ ایک چوتھائی ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ اب تک درست اندازہ لگایا نہیں جاسکا کہ سیلاب سے معیشت کو در اصل کس حد تک نقصان پہنچا ہے ۔ بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے ۔ مگر حکومت کو عالمی اداروں سے بھرپور امداد نہیں مل پارہی۔ بھارت نے پچاس لاکھ ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے جس کا پاکستان نے اب تک جواب نہیں دیا۔

پاکستانی معیشت پہلے ہی ڈانوا ڈول تھی۔ سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ معیشت کا مدار بیرونی قرضوں پر ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ملنے والے گیارہ ارب ڈالر کے پیکج پر معیشت چل رہی ہے ۔ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ سرکاری مشینری مکمل طور پر کرپٹ ہوچکی ہے ۔ ادائیگیوں کے توازن میں مستقل عدم موافقت کا سامنا ہے ۔

سیلاب کے بعد امدادی کاموں میں حکومتی نا اہلی سامنے آنے پر اپوزیشن کے لیے موافق صورت حال پیدا ہوئی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے غیر معمولی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ قوم کو بیرونی امداد کی ضرورت نہیں۔

معیشت کو بحال کرنے میں حکومت کو غیر معمولی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگوں کی موجودہ آمدنی اب ہاتھ سے جاچکی ہے ۔ دوسری طرف انہیں مزید مہنگائی کا عذاب بھی جھیلنا ہے ۔ انفر اسٹرکچر کی تباہی نے صورت حال مزید خراب کردی ہے ۔ سیکڑوں پل بہہ گئے ہیں۔ اسکول بھی تباہ ہوئے ہیں۔ لاکھوں مکانات پانی کی نذر ہوئے ہیں اور اب ان کی دوبارہ تعمیر کے لیے لوگوں کو فنڈ کی ضرورت ہوگی۔ سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی قیمت کو کنٹرول کرنے کا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک بہت تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بھی جاسکتا ہے کیونکہ خوراک مہنگی ہوگی تو سیلاب زدہ علاقوں کے لوگ خرید نہیں پائیں گے ۔ ایسے میں آئی ایم ایف سے رعایت بھی طلب کی جاسکتی ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملے گی تو حکومت کچھ کر پائے گی۔ اگر یہ ریلیف نہ ملی تو عوام کو بھی ریلیف نہیں ملے گی۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘۔ ۱۷؍ اگست ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*