یمن: ’’منقسم مکان‘‘ کا تنہا مالک

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی فن کاری اور مہارت کی داد تو دینی پڑے گی۔ ۱۹۷۸ء سے وہ شمالی یمن کے سربراہ چلے آ رہے تھے اور ۱۹۹۰ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد متحدہ ملک کے بھی سربراہ ہیں۔ یمن کے ۲ کروڑ ۴۰ لاکھ باشندے ملک کے طول و عرض میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد صحرائی اور جنگلی بستیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یمن کے قدرتی وسائل محدود ہیں۔ قبائلی خود مختار اور مسلح ہیں اور غربت، ناخواندگی اور خوراک کی قلت جیسے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ یمن کے بارے میں یہ بات ساری دنیا میں مشہور ہے کہ اس پر حکومت کرنا انتہائی دشوار ہے۔ اگر یمنی ریاست کا اقتدار بڑے شہروں، سڑکوں اور تیل والے علاقوں تک محدود ہے تب بھی یہ بات اہم ہے کہ علی عبداللہ صالح نے ملک پر کنٹرول کا تاثر بہرحال قائم کر رکھا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اب علی عبداللہ صالح کو اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یمن میں لوگ عام طور پر دوپہر کے وقت مزاج میں اعتدال رکھنے کے لیے ’’قط‘‘ نام کا پتّہ کھاتے ہیں۔ مگر علی عبداللہ صالح نے قبائل، سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوں کو باہم متصادم رکھ کر یا ان کے رہنمائوں کو رشوتیں دے کر اپنے لیے پرسکون حالات پیدا کیے ہیں۔ غیر ملکی امداد کا حصول یقینی بنانے کے لیے انہوں نے یمن کی جغرافیائی حیثیت، جمہوریت پسندی اور قدرتی وسائل کو بنیاد بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں انہوں نے اپنے قبیلے میں مزید دولت اور طاقت جمع کر دی ہے۔

مگر ان تمام حقائق کے باوجود علی عبداللہ صالح کا جادو دَم توڑ رہا ہے۔ ۶ سال سے وہ اپنی افواج کو شمالی علاقوں کے قبائلی باغیوں کو کچلنے کے لیے بھیجتے رہے ہیں۔ اب تک ۲ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ فروری میں وہ ایک اور جنگ بندی پر راضی ہوئے مگر لڑائی تھمتی نظر نہیں آتی۔شمالی یمن کے باغی حوثی قبائلی اب تک یمنی فوج کے تمام حملوں کو جھیلتے آئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سعودی ایئر فورس کی بمباری کا بھی سامنا کیا ہے۔ انہوں نے افواج کا سامنا کرنے کے لیے منفرد طریقے اپنائے ہیں۔ ایک بار باغیوں نے رات کے وقت بکریوں پر مشعلیں باندھیں اور انہیں میدان میں چھوڑ دیا۔ فوجیوں نے ان پر فائر کھول کر اپنی پوزیشن بتا دی۔ باغیوں کے حملے میں بیشتر فوجی مارے گئے اور جو رہ گئے انہوں نے پسپائی اختیار کی۔

یمن کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے مقابلے میں جہادیوں سے لاحق خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ ان گروپوں میں القاعدہ کی ایک مقامی شاخ بھی شامل ہے۔ ملک کے جن پہاڑی علاقوں میں لاقانونیت کا راج ہے وہاں اس نے محفوظ ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔ یمنی افواج اور مغربی اہداف پر آئے دن ہونے والے حملوں نے سرمایہ کاروںکی راہ روک رکھی ہے۔

علی عبداللہ صالح نے جہادیوں کے ساتھ مل کر اچھا کھیل کھیلا ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں انہوں نے جہادیوں کو افغانستان بھیجا۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں جنوبی یمن کے علیحدگی پسند عناصر اور بعد میں زیدی فرقے کے حوثی باغیوں کے خلاف بھی انہوں نے باغیوں کو استعمال کیا۔ کبھی کبھی علی عبداللہ صالح نے دہشت گردی کے خلاف مغرب کی کوششوں کا بھی ساتھ دیا ہے۔ اس نوعیت کا تعاون بیرونی امداد کی راہ ہموار کرتا ہے تاہم اندرونِ ملک اس کے نتیجے میں جو فضا پیدا ہوتی ہے وہ جہادیوں کا کام آسان کر دیتی ہے۔

دسمبر میں یمن کی خصوصی افواج نے امریکی آلات سے لیس ہو کر اور اسی کی فراہم کی ہوئی خفیہ معلومات کی روشنی میں چھاپے مارے۔ ابتدا میں کہا گیا کہ ان چھاپوں میں القاعدہ کے ارکان بڑی تعداد میں مارے گئے۔ تاہم بعد میں حکام نے اعتراف کیا کہ چھاپوں میں ۴۲ شہری مارے گئے۔ جبکہ القاعدہ کے صرف ۲؍ارکان ہلاک ہوئے یمنی افواج نے جہادیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور بیرونی امداد بھی آ رہی ہے۔ پینٹاگون نے حال ہی میں یمن کی خصوصی افواج کے لیے ۳ کروڑ ۴۰ لاکھ ڈالر کی ٹیکٹیکل امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد ۱۵ کروڑ ڈالر کے امدادی پیکج کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال ۶ کروڑ ۷۰ لاکھ ڈالر کی عسکری امداد دی گئی تھی۔
یمنی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہی ہے تاہم یمنی حکام اس وقت شدید پریشانی محسوس کرتے ہیں جب امریکی حکومت عبدالمجید الزندانی کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ الزندانی ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور ان پر جہادیوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرنے والے کالج کو چلانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے حال ہی میں امریکی شہریت کے حامل یمنی مبلغ انوار العولقی کو ہلاک کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ انوار العولقی پر دہشت گردی کی مختلف وارداتوں سے کسی نہ کسی تعلق کا الزام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دسمبر میں ڈیٹرائٹ جانے والے امریکی طیارے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے عمر فاروق عبدالمطلب کی ذہنی تربیت میں انوار العولقی کا اہم کردار تھا اور انہوں نے نومبر میں فورٹ ہڈ کے فوجی کیمپ میں میجر ندال ملک حسن کے ہاتھوں ۱۲ امریکی فوجیوں کے ہلاک کیے جانے کو درست اقدام قرار دیا تھا۔ انوار العولقی کو یمن میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تاہم ان کا تعلق طاقتور عولقی قبیلے سے ہے۔ جنوبی یمن کے علاقے شابوہ میں اس قبیلے کا اثر نمایاں ہے جہاں سے تیل کی پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔

تیل کی کم ہوتی ہوئی آمدنی برقرار رکھنے اور جنوب میں علیحدگی پسند باغیوں پر قابو پانے کے لیے صدر علی عبداللہ صالح کو العولقی قبیلے کی حمایت اور مدد درکار ہے۔ یمن میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جنوب کے باغی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ جنوبی یمن پر برطانیہ نے ۱۲۸ سال پرانا راج ۱۹۶۷ء میں ختم کیا۔ ۱۹۹۰ء تک جنوبی یمن آزاد ریاست رہا۔ اس حصے کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا ۲۰ فیصد ہے تاہم ۶۷ فیصد رقبہ اس کے پاس ہے۔ تیل اور گیس کی سرکاری آمدنی میں اس کا حصہ ۷۵ فیصد ہے۔ ۲۰ سال قبل جنوبی یمن کے لوگوں نے شمالی یمن سے اتحاد کے معاملے میں غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا تاہم اب انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔ شمالی یمن کا نظریاتی الحاق سابق سوویت یونین سے تھا۔ مارکسسٹ راج کے دوران جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان کے بطن سے کرپشن، لاقانونیت اور مذہبی جنونیت نے جنم لیا۔ اب جنوبی یمن کے لوگوں کی شکایات بہت بڑھ گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی یمن کے لوگوں نے بہترین زمین اور کاروباری مواقع ہتھیا لیے ہیں۔ اور جنوبی یمن کے لوگوں، بشمول فوجی افسران کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔

جنوبی یمن کا دارالحکومت عدن کبھی ایک مصروف بندرگاہ ہوا کرتا تھا۔ اب اس کا طلسم ماند پڑ چکا ہے۔ حکومت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے وعدے بہت کیے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔ تیل اور گیس کی آمدنی کا بڑا حصہ دارالحکومت صنعا میں صدر علی عبداللہ صالح کے دوستوں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔

جنوبی یمن میں ۲۰۰۷ء کے بعد سے وقتاً فوقتاً ہونے والے مظاہروں کو حکومت نے خاصی سفاکی سے کچلا ہے۔ جنوبی یمن میں حقوق کے لیے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال حکومت نے ۱۴۸ شہریوں کو قتل کر دیا اور اس سال اب تک ۴۰ افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سال ۸ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔جبکہ ہنگاموں میں ۱۰ پولیس والے بھی مارے گئے۔ عدن اور تیل کی تنصیبات کے سوا جنوبی یمن کا بڑا حصہ افواج کے لیے خطرناک علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ عدن کے گورنر کا دعویٰ ہے کہ شہر کے تمام باشندے ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے لوگ مکمل آزادی چاہتے ہیں۔ وفاق کا حصہ بنے رہنے میں ان کی دلچسپی نہیں۔

شمالی یمن کے حکام ان باتوں کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن کا مسئلہ سیاسی نہیں، اقتصادی ہے۔ صدر علی عبداللہ صالح نے جنوبی یمن کے علیحدگی پسند رہنمائوں سے بات چیت جاری رکھی ہے۔ جلا وطن رہنمائوں سے عرب ممالک کے دارالحکومت میں بات چیت کی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ محدود خود مختاری دینے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند رہنما محدود خود مختاری کے عوض یمن کے نئے آئین کی حمایت کریں گے۔ علی عبداللہ صالح کی صدارت کی میعاد ۲۰۱۳ء میں ختم ہو گی۔موجودہ آئین انہیں صدر کے عہدے کے لیے مزید الیکشن لڑنے سے روکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مزید بیرونی امداد علی عبداللہ صالح کو زوال سے بچا سکے گی؟ یہ آئیڈیا کام کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگر جنوبی یمن کے لوگ ساتھ دیں تو بات دوسری ہے۔ صدر کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ سیاسی مخالفین کی وفاداریاں خریدنے اور بیورو کریٹس کی فوج پالنے کا مدار تیل اور گیس کی آمدنی پر رہا ہے۔ یہ آمدنی اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ یمن کبھی تیل اور گیس بڑے پیمانے پر پیدا کرنے والا ملک نہیں رہا۔ ۲۰۰۲ء میں تیل کی پیداوار خاصی بلندی پر پہنچی اور ایک آدھ عشرے میں نمایاں طور پر نیچے آ جائے گی۔ ایک عرب ماہر عمرانیات کا کہنا ہے کہ عرب قبائل وفاداری بیچتے نہیں، صرف کرائے پر دیتے ہیں!

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۸۰ لاکھ یمنی خوراک کی قلت سے دوچار ہیں اور ۵۸ فیصد یمنی بچوں کو غذائیت کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں یمنی کرنسی کی قدر میں کمی سے افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ صنعا کی آبادی ۲۰ لاکھ ہے اور یہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا شہر ہے۔ جدید کیفے، مال سے بھری مارکیٹیں اور جدید ترین سہولتیں اس شہر کا خاصہ ہیں۔ تاہم ٹریفک سگنلوں پر بھکاری بھی دکھائی دیتے ہیں۔ دو ہفتوں سے یونیورسٹی کے اساتذہ تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال پر ہیں۔ مرکزی ٹریڈ یونین فیڈریشن نے ان کا ساتھ دینے کی دھمکی دی ہے۔ اگر علی عبداللہ صالح نے اپنے ملک کے عوام کی خوش حالی پر توجہ نہ دی تو بغاوت کی لہر ان کے دروازے تک پہنچ جائے گی۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ ۔ ۲۴ ؍اپریل ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*