’علم‘ پر بمباری نہیں کی جاسکتی!

ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی گزشتہ ماہ سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے آئی اے ای اے کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات کی انجام دہی کے دوران ان کا واسطہ ایران، عراق، شام اور شمالی کوریا جیسی حکومتوں سے پڑا۔ نیوز ویک کے جیری گیوؤ سے انٹرویو میں انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے:


نیوزویک: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایران کے لیے آپ کا رویہ اتنا سخت نہیں تھا جتنا ہونا چاہیے تھا؟

محمد البرادعی: لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی فوج ہے نہ خدائی طاقت۔ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات یا فیکٹریز میں نقب تو لگا نہیں سکتا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کونسل نے ایران کے خلاف تین قراردادیں منظور کیں تاہم ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔

نیوزویک: ایران نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں اعلان کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کے مزید دس پلانٹ لگائے گا۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟ اس کے عزائم کیا ہیں؟

محمد البرادعی: میں نہیں سمجھتا کہ ایران جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر عمل بھی کرے گا۔ اس نوعیت کا اعلان محض بڑھک محسوس ہوتا ہے۔

نیوزویک: اس بات کا امکان کس حد تک ہے کہ ایران کی چند ایسی تنصیبات بھی ہیں جن کا آپ کو علم نہیں؟

محمد البرادعی: ایران ان اضافی پروٹوکولز پر عملدرآمد نہیں کرتا جن کے تحت ہمیں ایرانی تنصیبات اور متعلقہ معلومات تک آسانی سے رسائی مل سکتی ہے۔ جن سرگرمیوں کا ایران نے باضابطہ اعلان نہیں کیا ان کے بارے میں ہم پورے یقین سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ اس معاملے میں ہم اعتماد کی کمی کا شکار ہیں۔ ایران نے ستمبر میں ہمیں جو خط بھیجا تھا اس میں صرف قم کے مقام پر یورینیم افزودہ کرنے کے پلانٹ کی تنصیب کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ کئی بین الاقوامی ادارے دو سال سے اس پلانٹ کے بارے میں جانتے تھے اور اس کی نگرانی بھی کر رہے تھے مگر ہمیں بتانے کی زحمت گوارا نہ کی گئی۔

نیوزویک: آپ کے یعنی آئی اے ای اے کے انسپکٹروں نے دو مرتبہ قم کے پلانٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں کیا دیکھا؟

محمد البرادعی: قم کا پلانٹ تکمیل کے حتمی مراحل میں ہے۔ وہاں سینٹری فیوج تھے نہ ایٹمی مواد۔ اس کی تکمیل میں ایک دو سال اور لگیں گے۔ یہ پلانٹ پہاڑی علاقے میں ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ایران کو دھمکانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس پر پابندیاں لگانے کی باتیں جس تیزی سے کی جائیں گی وہ اسی تیزی سے اپنے ایٹمی پروگرام کو زیر زمین لیتا چلا جائے گا۔

نیوزویک: آپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور سخت پابندیوں کے خلاف ہیں۔ آپ کے دلائل میں وزن کس حد تک ہے؟ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ جو کچھ آپ سمجھتے ہیں اس کے مطابق کوئی عمل ہی ایران سے معاملات بہتر بنانے میں مدد دے گا؟

محمد البرادعی: اگر ایران کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو ایٹمی پروگرام دو ایک سال کی تاخیر کا شکار ہوگا، بس۔ اس کے بعد ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے کریش پروگرام کی طرف چلا جائے گا۔ اگر ایرانیوں کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی ہے تو اس ٹیکنالوجی یعنی علم پر بمباری نہیں کی جاسکتی۔ طاقت کے استعمال کو تو بھول جائیے۔ سخت پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں بھی اسی وقت سوچنا چاہیے جب معاملات کو بات چیت کے ذریعے نمٹانے کے دیگر ذرائع ختم ہوچکے ہوں۔ اوباما انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں ہم نے ایرانیوں سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ جواب دینے کے لیے انہیں وقت چاہیے۔

نیوزویک: دکھائی تو یہ دے رہا ہے کہ ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والے طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔ کیا وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اور مخلص ہیں؟

محمد البرادعی: مجھے یقین ہے کہ مذاکرات کا وہی نتیجہ برآمد ہوگا جو عالمی برادری چاہتی ہے۔ اس میں وقت لگے گا۔ میں جانتا ہوں کہ ایرانی حکومت میں بہت سے لوگ امریکا سے معمول کے تعلقات چاہتے ہیں۔ جون کے انتخابات کے بعد بھی اب تک امریکا سے تعلقات بہتر بنانے اور کوئی جامع معاہدہ کرنے کی خواہش موجود ہے۔ ہم دو ماہ تک ایٹمی ایندھن سے متعلق پیکیج پر کام کرتے رہے ہیں۔ یہ تجویز اب تک مکمل طور پر بے روح نہیں ہوئی ہے۔ ایران کہتا ہے کہ اگر اسے ایٹمی ایندھن ملے تو وہ افزودہ یورینیم کے اخراج کے لیے تیار ہے۔ ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ابھی کئی راہوں پر چلنا باقی ہے۔

نیوزویک: کیا شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو بھی اسی قدر توجہ ملنی چاہیے؟

محمد البرادعی: بات چیت نہ کیے جانے کے باعث شمالی کوریا نے اپنے ایندھن کو پلوٹونیم میں تبدیل کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کی طرف چلا گیا۔ شمالی کوریا کے معاملے سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ کسی کے طرز عمل کو آپ خواہ کتنا ناپسند کرتے ہوں، بات چیت کی گنجائش ضرور رہنی چاہیے۔ شمالی کوریا جیسے ممالک کو ’’شر کا محور‘‘ اور اسی نوعیت کے دیگر ناموں سے پکارنے کی صورت میں سخت گیر عناصر مزید مضبوط ہوتے ہیں۔

نیوزویک: بارک اوباما کہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا ان کی خواہش ہے۔ ایسا کس طور ممکن ہے؟

محمد البرادعی: ہم نے دو عشرے ضائع کیے ہیں۔ ٹھوس اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ بارک اوباما سینیٹ میں ایک جامع تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ وہ روس سے مل کر ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر میں ایک تہائی کمی کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ ہم ایک ایسے معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنے والے ہیں جس کا بنیادی مقصد ایٹمی ہتھیاروں کے لیے مواد کی تیاری پر پابندی عائد کرنا ہے۔ ہم ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ایٹمی ہتھیار انسانی قتل کے بدترین آلے یا غلامی کی شکل میں دیکھے جائیں گے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘۔ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*