’’برائی۔۔۔ تیرا دوسرا نام احمد ولی کرزئی!‘‘

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ناقدین کو ان کے سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی نے خاصی آسانی فراہم کی ہے۔ ولی کرزئی کی کرپشن نے حامد کرزئی پر تنقید کرنے والوں کے حوصلے خوب بلند کیے ہیں۔ جنوبی افغانستان کے شہر قندھار کے باشندوں سے اگر پوچھیے کہ مختلف برائیوں کے لیے وہ کون سی مشترک اصطلاح استعمال کریں گے تو ان کی زبانوں پر ولی کرزئی کا نام آ جائے گا۔ قندھار کو کنٹرول کرنے والے جنگجو سرداروں اور جرائم پیشہ گروپوں کی سربراہی ولی کرزئی کو حاصل ہے۔ قندھار کے باشندے ولی کرزئی کو جنگجو سردار، دہشت گرد، منشیات کے اسمگلر، معاہدے کے تحت کام کرنے والے اجارہ دار اور پتہ نہیں دوسری کون کون سی حیثیتوں میں جانتے ہیں۔ بہت سے لوگ ولی کرزئی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں مگر نام لینے سے ڈرتے ہیں۔

حامد کرزئی پرزور دیا جاتا رہا ہے کہ قندھار کی صوبائی کونسل کی سربراہی سے اپنے بھائی کو معزول کردیں مگر ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ نیٹو فورسز نے اب قندھار کے دیہی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ولی کرزئی اور ان کے ساتھیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو گی۔

افغانستان میں نیٹو کے ٹاپ سول عہدیدار مارک سیڈول کہتے ہیں ’’عسکریت پسندی اور باغیانہ رجحانات کو تقویت بہم پہنچانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگوں کو سرکاری مشینری سے نقصان پہنچ رہا ہے، انصاف نہیں مل رہا۔ افغان اور نیٹو افسران، عام شہریوں، تجزیہ نگاروں اور مقامی صحافیوں سے انٹرویو میں یہی بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ سرکاری مشینری کی ناقص کارکردگی نے لوگوں کو برگشتہ کیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ طالبان نہیں بلکہ جرائم پیشہ گروہ ہیں جو صورتحال کو اپنی مٹھی میں لیے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں گاڈ فادر پارٹ ٹو دیکھ رہا ہوں یا پارٹ تھری‘‘۔

قندھار کی سیاست دو خانوادوں کے گرد گھومتی ہے۔ شیرزئی اور کرزئی۔ ان دونوں میں رقابت بھی ہے جو گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ شیرزئی کا تعلق بارک آئی قبیلے سے ہے اور کرزئی کا تعلق پوپل زئی قبیلے سے ہے۔

اب تک نیٹو صدر حامد کرزئی کو ان کے بھائی ولی کرزئی کے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق کے بارے میں ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے تاہم عام تاثر یہ ہے کہ کرزئی گھرانہ منشیات کی تجارت، جرائم اور سرکاری اداروں کی کرپشن میں ملوث ہے۔مارک سیڈول کہتے ہیں ’’کسی بھی مافیا کی طرح یہاں بھی معاملہ یہ ہے کہ حقیقی ذمہ داران وہ نہیں ہیں جن کے خلاف آپ کوئی ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔ ولی کرزئی تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ طاقت کا حصول ولی کرزئی کی خواہش اور کوشش ہے۔ مخالفین کو کچلنا بھی ان کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔ گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز میں ایک بار پھر الزامات ابھرے کہ ولی کرزئی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہوں نے اپنے کاروباری اداروں کو محفوظ رکھنے کے لیے عسکریت پسندوں (طالبان) کو ادائیگی بھی کی ہے!

ولی کرزئی پر نجی ملیشیا رکھنے کا بھی الزام ہے کہا جا رہا ہے کہ ستارہ اچکزئی اور یونس حسینی کو بھی ممکنہ طور پر ولی کرزئی ہی نے قتل کرایا ہو گا۔ ان دونوں کے قتل کا ذمہ دار طالبان کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اب جبکہ نیٹو فورسز قندھار کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں اس لیے ولی کرزئی نے کرائے پر دینے کے لیے زمین کا حصول شروع کر دیا ہے۔ قندھار کے سابق گورنر گل آغا شیرزئی کے بھائی جنرل عبدالرزاق شیرزئی بھی قندھار ایئر فیلڈ کے کرائے سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان پر بھی منشیات کی تجارت میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اب وہ افغانستان کے اہم پاور بروک (بادشاہ گر) کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔

قندھار کے اٹارنی جنرل محمد اسماعیل ضیاء نے بتایا ہے کہ انہوں نے کئی مقدمات قندھار کی حکمران اشرافیہ کے دبائو پر ختم کیے ہیں۔ ’’پارلیمنٹ، گورنر کے دفتر اور صوبائی کونسل کے دفتر سے فون آتے ہیں کہ فلاںشخص کو چھوڑ دیا جائے۔ میں کمزور آدمی ہوں اگر میں حکم کے مطابق کام نہ کروں تو قتل کرا دیا جائوں گا‘‘۔

محمد اسماعیل ضیاء کا مزید کہنا ہے ’’قندھار میں ہر مجرم کا کوئی نہ کوئی حمایتی، مددگار ضرور ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ مجرم کو جلد ازجلد رہا کر دیا جائے۔ قندھار شہر میں کئی جنگجو سردار ہیں۔ ان کے نام مت لکھیے۔ اگر میں ان کے مطالبات تسلیم نہ کروں تو وہ میرے لیے بہت سی مشکلات پیدا کریں گے۔ وہ مجھے قتل کرا سکتے ہیں یا اس عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ اسی لیے میں کبھی کبھی قوانین اور اصولوں کو نظرانداز کر دیتا ہوں‘‘۔

جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں پولیس بھی پیش پیش ہے۔ اغوا کی وارداتوں، اسلحے کی فروخت اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے میں۔ ایک شخص نے اپنا قیمتی کتا ایک پولیس کمانڈر کو دینے سے انکار کیا تو اسے عسکریت پسند ہونے کے شبے میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ ایک قبائلی سردار حاجی عبدالکریم کہتے ہیں۔ ’’معاشرے کے سب سے بدکردار لوگ۔ چور، شرابی وغیرہ۔ پولیس میں ہیں۔ اگر کسی رذیل کو دولت کمانے کا شوق ہے تو پولیس میں چلا جاتا ہے‘‘۔

قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ دوبارہ طالبان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان بہت سخت گیر ہیں مگر ان کے بارے میں سبھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ منصف مزاج ہیں۔ قندھار شہر کے جنگجو سرداروں کے مقابل طالبان رہنما کاکا عبدالخالق ہیں جو قندھار سے ۲۵ میل دور پشمول نامی گائوں میں سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ انہیں پسند کیا جاتا ہے اور لوگ انہیں بہت احترام دیتے ہیں۔ اس گائوں کے ایک رہائشی حاجی محمد ظاہر نے بتایا کہ کاکا عبدالخالق گائوں والوں سے بہت اچھا سلوک کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں جانتے ہیں۔

اس موسم سرما قندھار شہر میں حالات درست کرنے کے لیے نیٹو کی جانب سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد کرپشن اور جرائم کا خاتمہ اور لوگوں کو ملازمت فراہم کرنا ہے۔ یہ صورتحال طالبان کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے بلکہ اس کے ذمہ دار تو قندھار کے جنگجو سردار ہیں۔ اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے منظم جرائم پیشہ گروپ موجود ہیں۔

حکام چاہتے ہیں کہ صوبائی اور مقامی کونسلوں کے ذریعے اختیارات اور وسائل تقسیم کیے جائیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے حوالے سے قبائل کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے قبائلی عمائدین کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ قندھار ایئرفیلڈ کے سامنے جنرل عبدالرزاق شیرزئی کی ایک عمارت ہے جو تمام ٹھیکے ہڑپ کر لیتی ہے۔ یہ عدم توازن خرابی پیدا کر رہا ہے۔ اب نیٹو نے اپنے تمام ٹھیکوں پر نظرثانی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

سیاسی سطح پر بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ حامد کرزئی اور ان کے رفقا بھی اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ سیاسی نظام کو درست کیے بغیر معاملات درست نہیں ہو پائیں گے۔

ولی کرزئی اور جنگجو سرداروں کو راستے سے ہٹانے کا ایک بہتر طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ کسی حد تک مل کر کام کیا جائے۔ یہ احساس بھی رفتہ رفتہ پروان چڑھتا جائے گا کہ امریکیوں کے جانے کے بعد کیا ہو گا اور ایسے میں جنگجو سردار طالبان کی واپسی کے بارے میں سوچ کر خوفزدہ رہا کریں گے۔ عوام کا ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ امریکیوں نے طالبان کو ہٹا کر کرپٹ اور جرائم پیشہ افراد کو ان پر مسلط کر دیا ہے۔

(بشکریہ: ’’دی انڈی پینڈنٹ‘‘ لندن۔ ۴ اپریل ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*