فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْن      (سورة ٱلتوبة آیت - 122)

تفہیمِ دینیہ (درسِ نظامی)

حاملین علوم جدیدہ میں علمی اور تحقیقی کام۔ سید مودودی کا ایک مشن اور نظریہ تھا تاکہ ایسے افراد کارتیار کیے جاسکیں جواسلامی نظام کا حقیقی منظر دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ اس کے لیے ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔ جس میں ایک طالب علم کو علوم دینیہ کی اس حد تک تعلیم دی جائے کہ جس سے ایک طالب علم شعوری طور پر دین کوسمجھ سکے اور ایسی گہری دینی بصیرت کا حامل ہو جائے جو کتاب فہمی اور مسائل سے اگاہی سے آگے بڑھ کر دو دجدید کے مسائل کو قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں حل کر سکے۔ اسلامی نظام کی فکری بنیادوں اور اس کے بنیادی نقشے کو سمجھ کر اس کی روشنی میں جدید حالات کے لیے مناسب نقشے کی تیاری کا کام ہوسکے۔ طالب علم علوم جدیدہ سے اتنے آگاہ ہوں کہ وہ اہل مغرب کی ان چالوں کا پتہ چلا سکیں جس کے ذریعے مغرب دین اسلام کے مسائل کو اپنی فکر کی روشنی میں حل کرتے ہیں۔ نیز طالب علم مغرب کی ان بنیادی خامیوں کا پتا لگا سکے جوعلمی زندگی میں طرح طرح کے فاسد خیالات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ دنیاوی مسائل و معاملات میں دین کی ہدایات کو ایک عنوان کے تحت لا کر اسلام پیش کرنا ۔ مغربی تعلیم کے نتیجے میں جونت نئے مسائل سامنے آرہے ہیں اور جو جدید تعلیم ذہنوں کے الجھاؤ کا سبب بن رہی ہے ان کا گہرا مطالعہ اور اس کی تردید اور ان کی پشت پر کام کرنے والی روح کا ادراک کر سکیں ۔ اغراض و مقاصد خالص ایسی دینی تعلیم کہ جس سے طلبا اپنے آپ کو اسلامی تہذیب و ثقافت سے آراستہ کر سکیں۔ ایسے علماء و داعی دین کی تیاری جو دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی پوری طرح آگاہ ہوں۔ ایسے علما و اعیان دین کی تیاری جو دین و دنیا کے تمام مسائل کا حل قرآن حکیم، سنت نبویہ اور صحابہ کرام کی سیرت سے حاصل کریں۔ ترکیه نفس عملی تربیت و تقویٰ کے حصول پر خصوصی توجہ دے کر ایک با عمل مسلمان کی تیاری۔ طالب علم میں صیح دینی فکر اور گہری دینی بصیرت پیدا کرنا۔

اہم خصوصیات:

۱۔ پانچ تعلیمی سالوں پر مشتمل کلاسیکی اسلامی علوم کا جامع مطالعہ۔
۲۔ اسلامی اصولوں کو موجودہ دور کی حقیقتوں کے ساتھ جوڑنے پر زور۔
۳۔ ایسے تجربہ کار علما کی تدریس جو دینی اور عصری دونوں علوم میں تربیت یافتہ ہوں۔
۴۔ تنقیدی سوچ، تجزیاتی صلاحیت، اور روحانی بصیرت کی نشوونما۔
۵۔ متوازن اور مضبوط علمی بنیاد رکھنے والے علما تیار کرنا جو معاشرے کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔

شامل بنیادی مضامین:

-عربی صرف و نحو
-تفسیر القرآن
-حدیث و اصولِ حدیث
-فقہ و اصولِ فقہ
-عقیدہ (اسلامی عقیدہ اور علمِ کلام)
-منطق، فلسفہ اور اسلامی فکر
-سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلامی تاریخ
ردِ جدیدیت

دیگر باقاعدہ کورسز