یونان میں منتخب ہونے والی پارٹی کا چالیس نکاتی منشور

صرف ایک کروڑ دس لاکھ آبادی والے ملک یونان میں امسال ۲۵ جنوری کو عام انتخابات ہوئے جس میں Syriza نامی پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ یہ نتیجہ حیران کن بھی تھا اور بہت سوں کے لیے پریشان کن بھی۔ ایک عرصے سے یونان میں سیاسی اور معاشی اتھل پتھل چل رہی تھی۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتیں۔ ہر حکومت یورپی یونین اور آئی ایم ایف وغیرہ کے سامنے مزید جھک کر معاہدے کرتی، پھر عوام کے غیظ و غضب کا نشانہ بنتی۔ ایک وقت آیا کہ یونان مکمل دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ اُس وقت اُسے یورپی یونین، یورپین بینک اور آئی ایم ایف نے انتہائی سخت شرائط پر بہت بڑا قرض Bailout Package کے نام سے فراہم کیا۔ اس کے نتیجے میں عوام اور حکومت آمنے سامنے آگئے۔ وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا۔

مذکورہ بالا تاریخ کو عام انتخابات ہوئے۔ اس میں Syriza الیکشن جیت گئی۔ یہ دراصل ایک نہیں، کئی پارٹیوں اور گروپوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ بیشتر کا تعلق یا جھکاؤ بائیں بازو کی طرف ہے۔ عالمی ساہوکاروں کی عیارانہ پالیسیوں سے تنگ آئے یونانی عوام نے گویا کھلی بغاوت کر دی۔ انہوں نے اُس “Syriza” کو ووٹ دیا جس نے اعلان کر رکھا تھا کہ یونان اپنے ذمہ قرض (۴۱۱؍ارب امریکی ڈالر) کی ادائیگی نہیں کر سکتا، نہ (صاحبِ ثروت لوگوں کے علاوہ) اپنے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال سکتا ہے اور نہ رفاہی کاموں پر سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی رقم میں مزید کٹوتی کر سکتا ہے۔

اس موقف کی عوام کی جانب سے بھرپور تائید نے پورے یورپ میں بھونچال کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ عالمی ساہوکاروں کو ڈر ہے کہ یورپی یونین کے دیگر ممالک میں بھی کہیں ایسی ہی جماعتیں الیکشن نہ جیت جائیں۔ فی الوقت یونان اور یورپی یونین وغیرہ میں مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ معلوم نہیں آگے کیا ہو گا۔ فی الوقت آپ یونان میں الیکشن جیتنے والی پارٹی Syriza کا چالیس نکاتی منشور ملاحظہ کیجیے۔

(معارف فیچر)


01 عوامی قرضوں کا آڈٹ اور معیشت کی بہتری اور روزگار کی فراہمی تک سود اور ادائیگیوں کو معطل رکھنے کے لیے دوبارہ بات چیت۔

02 یورپی یونین سے یورپین سینٹرل بینک کے کردار میں تبدیلی کا تقاضا کرنا تاکہ وہ ریاستوں اور عوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر سرمایہ لگائے۔

03 پانچ لاکھ یورو سے زائد کی تمام آمدن پر ٹیکس بڑھا کر ۷۵ فیصد کر دینا۔

04انتخابی قانون میں تبدیلی لا کر متناسب نمائندگی کا نظام متعارف کروانا۔

05بڑی کمپنیوں پر ٹیکس بڑھا کر یورپی اوسط پر لانا۔

06مالی منتقلیوں اور پُرتعیش اشیا پر ٹیکس عائد کرنا۔

07سٹے بازی پر مبنی معاشی نتائج (Speculative Financial derivatives) پر پابندی عائد کرنا۔

08چرچ اور صنعتِ جہاز سازی کی مالی مراعات کا خاتمہ۔

09بینکوں کے خفیہ طریقوں اور سرمایہ کی ملک سے باہر منتقلی کے خلاف جدوجہد۔

10عسکری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی۔

11کم از کم آمدن کو بڑھا کر ۷۵۰ یورو فی ماہ تک لانا۔

12بے گھر افراد کی رہائش کے لیے بینکوں، چرچ اور حکومتی عمارتوں کو استعمال میں لانا۔

13سرکاری اسکولوں میں بچوں کو مفت ناشتہ اور دوپہر کا کھانا مہیا کرنے کے لیے طعام گاہوں کاآغاز کرنا۔

14بے روزگار، بے گھر اور کم آمدن افراد کے لیے مفت طبی سہولیات کی فراہمی۔

15 جو غریب خاندان مکمل ادائیگی نہیں کر سکتے، ان کے لیے مارگیج ادائیگی کی مد میں ۳۰ فیصد تک مالی مدد۔

16بے روزگار افراد کے لیے سبسڈی میں اضافہ کرنا۔ سنگل پیرنٹ خاندانوں، بوڑھوں، معذوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنا۔

17بنیادی اشیائے ضررورت کی قیمتوں میں اضافہ۔

18بینکوں کو قومیانا۔

19ملک کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک شعبے میں موجود سابق عوامی کمپنیوں کو قومیانا۔ (مثلاً ریل پٹریاں، ہوائی اڈے، ڈاک کا نظام، پانی)

20قابلِ تجدید ذرائع توانائی کو فوقیت دینا اور ماحول کا تحفظ کرنا۔

21مرد و خواتین کو مساوی تنخواہیں دینا۔

22غیر یقینی تقرریوں کو محدود کرنا اور متوسط وقت کے لیے معاہدوں کی حمایت کرنا۔

23مزدوروں کے تحفظ اور جز وقتی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ۔

24مزدوروں کے اجتماعی معاہدوں کی تجدید۔

25پبلک معاہدوں کے لیے بولیاں لگانے والی کمپنیوں کے لیے لیبر کے معائنے اور ضروریات میں اضافہ۔

26چرچ اور ریاست کی علیحدگی کے لیے آئینی اصلاحات، تعلیم حاصل کرنے کے حق، صحت اور ماحول کا تحفظ۔

27یورپ کے ساتھ معاہدوں اور دیگر عہد ناموں پر ریفرنڈم۔

28پارلیمانی ارکان کے لیے مراعات کا خاتمہ۔ وزرا کے لیے خصوصی قانونی تحفظ کا خاتمہ اور حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے عدالتوں کو آزادی دینا۔

29کوسٹ گارڈ اور اینٹی انسریکشنل خصوصی فوجوں کو غیر مسلح کرنا۔ مظاہروں کے دوران پولیس پر ماسک پہننے یا ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کرنا۔ امیگریشن، منشیات اور سماجی عوامل جیسے معاشرتی موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے پولیس کے تربیتی کورسوں میں تبدیلی لانا۔

30تارکینِ وطن کے حراستی مراکز میں انسانی حقوق کی ضمانت۔

31تارکینِ وطن خاندانوں کو دوبارہ ملانے میں مدد دینا۔

32منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کی خاطر منشیات استعمال کرنے کی سزا میں کمی کرنا۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کے لیے رقم میں اضافہ۔

33مرتب قوانین میں فوج میں کام کرنے سے انکار کے حق کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا۔

34اوسط یورپی سطح تک عوامی صحت کے لیے فنڈنگ میں اضافہ۔ ( یورپی اوسط مجموعی ملکی پیداوار کا ۶ فیصد ہے۔ یونان میں ۳ فیصد ہے)

35نیشنل ہیلتھ سروسز کے لیے شہریوں کی طرف سے ادائیگیوں کا خاتمہ۔

36نجی اسپتالوں کو قومیانا۔ قومی صحت کے نظام میں نجی شراکت کا خاتمہ۔

37افغانستان اور بلقان سے یونانی فوجوں کی واپسی۔ یونان کی سرحد سے باہر کوئی یونانی فوجی نہ ہوگا۔

38اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کا خاتمہ۔ ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا۔

39 ترکی کے ساتھ مستحکم معاہدے کے لیے مذاکرات۔

40یونان میں موجود غیر ملکی اڈّوں کی بندش اور نیٹو سے علیحدگی۔

“The Greek’s, SYRIZA’s, 40 point program”. (“systemhumanity.com”. Jan. 30, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*