Abd Add
 

گُوگل چھوڑیے، باتیں کریں!

کالج کے طلبہ مجھے بتاتے ہیں کہ انہیں مخاطب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے فون پر ٹائپ کرنے کا ہنر آتا ہے، اور وہ پکڑے بھی نہیں جاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ مہارت مڈل اسکول میں حاصل کی جب وہ استاد کی نظروں میں آئے بغیر ٹیکسٹ میسج کرنا چاہتے تھے۔ اب وہ اس مہارت کو اس وقت کام میں لاتے ہیں جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے ’’کہیں اور‘‘ بھی موجود رہنا چاہتے ہوں۔

آج کل ہمیں یہ بات چھپانے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ہم اپنی توجہ منقسم رکھے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں موبائل فون استعمال کرنے والے ۸۹ فیصد افراد نے بتایا کہ وہ جس آخری سماجی تقریب میں شریک ہوئے، وہاں موبائل فون بھی استعمال کیا۔ لیکن وہ اس سے خوش نہیں تھے، ۸۲ فیصد بالغوں کا کہنا تھا کہ جس طرح انہوں نے موبائل فون استعمال کیا، اس سے ان کی گفتگو متاثر ہوئی۔

میں ۳۰ برس سے زائد عرصے سے آن لائن روابط کی نفسیات کا مطالعہ کررہی ہوں اور گزشتہ پانچ سال سے میری توجہ اس طرف ہے کہ ایسے ماحول میں جہاں زیادہ تر لوگ بات کرنے کے بجائے ٹیکسٹ میسج کرنے کو ترجیح دیتے ہوں، وہاں منہ در منہ گفتگو کی کیا کیفیت ہوگی؟ میں نے خاندانوں، دوستیوں اور محبتوں کا تجزیہ کیا؛ اسکولوں، جامعات اور جائے روزگار پر نگاہ ڈالی۔ مجھے کالج کے طلبہ نے بتایا کہ جب وہ کھانے کی میز پر بیٹھے بیٹھے اپنی توجہ بانٹنا چاہتے ہیں تو وہ ’’تین کا اصول‘‘ اپناتے ہیں: یعنی وہاں موجود پانچ یا چھ افراد میں سے آپ دیکھیں کہ کم سے کم تین افراد گفتگو میں شریک ہیں یا نہیں، اگر ایسا ہے تو آپ با آسانی اپنا فون استعمال کرسکتے ہیں۔ سو گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے، اور مختلف اوقات میں مختلف لوگ سر جھکا کر فون بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کی توقع ہوتی ہے: یعنی ہلکی پھلکی گفتگو چلتی رہتی ہے جس میں لوگ آسانی کے ساتھ شامل ہوتے اور نکلتے رہیں۔

نوجوان بڑے پرجوش انداز میں مجھ سے اس تین کے اصول کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں، جسے آپ صرف کھانے کی میز پر ہی نہیں، کہیں بھی اپنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اپنے مقام سے ہٹ کر کہیں اور ہمہ وقت موجود رہنے کا تصور مسحور کن ہے۔ آپ اپنی توجہ ہر اُس طرف لگا سکتے ہیں جہاں آپ چاہتے ہوں۔ آپ کو ہمیشہ سُنا جاسکتا ہے۔ آپ کبھی بھی بور نہیں ہوتے۔ جب آ پ کو لگے کہ گفتگو لایعنی ہورہی ہے تو آ پ خود کو کمرے میں موجود افراد کے درمیان سے اٹھا کر فون میں موجود دنیا میں لے جاسکتے ہیں۔ لیکن طلبہ ایک احساسِ زیاں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔

ایک سمر کیمپ میں ۱۵ سالہ لڑکی نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رات کے کھانے پہ گئی تو باپ نے گفتگو میں ’’حقائق‘‘ شامل کرنے کی غرض سے فون استعمال کرنا شروع کردیا۔ لڑکی نے کہا کہ ’’ڈیڈی، گوگل کرنا چھوڑیں۔ میں آپ سے باتیں کرنا چاہتی ہوں‘‘۔ ایک ۱۵ سالہ لڑکے نے کہا کہ اس کے والدین اسے ایسے ماحول میں پروان چڑھانا چاہتے تو ہیں جہاں کھانوں کے دوران فون نہ ہوں اور خوب گفتگو ہو، مگر وہ کھانے کے دوران، پارک میں، اور اسکول میں کھیلوں کے موقع پر موبائل فون استعمال کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک روز اپنے والدین کے طریقے سے بالکل مختلف انداز میں اپنے گھرانے کو پروان چڑھائے گا۔ کالج کے ایک جونئیر طالبعلم نے اپنی نسل کو درپیش مسئلے کا کھوج لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ٹیکسٹ کرنا ٹھیک ہے، مگر جب ہم دوسروں کے ساتھ ہوں، اس وقت ٹیکسٹ کرنے سے گفتگو کو جو نقصان پہنچتا ہے، وہ ایک مسئلہ ہے‘‘۔

یہ ایک طاقتور تجزیہ ہے۔ تجربہ گاہ اور فطری ماحول میں کی گئی گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ جب دو لوگ بات کررہے ہوں تو صرف ٹیبل پر یا آس پاس ان کی نظروں کے حصار میں موبائل فون کی موجودگی ان کا اندازِ گفتگو اور آپس میں مربوط رہنے کی سطح کو تبدیل کردیتی ہے۔ لوگ گفتگو کو ان موضوعات تک محدود رکھتے ہیں جہاں کسی کی مداخلت انہیں ناگوار نہ گزرے۔ وہ خود کو ایک دوسرے کے ساتھ گھلا ملا محسوس نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ ایک خاموش (silent) فون بھی ہمیں ایک دوسرے سے منقطع کردیتا ہے۔

۲۰۱۰ء میں یونیورسٹی آف مشی گن کی ماہرِ نفسیات سارہ کونارتھ کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ۳۰ سال کے عرصے میں کیے گئے ۷۲ مطالعات کو جمع کیا۔ معلوم ہوا کہ کالج کے طلبہ کے مابین جذبۃ ہمدردی میں ۴۰ فیصد تک کمی آئی ہے اور زیادہ تر کمی ۲۰۰۰ء کے بعد ہوئی۔

نسلاً بعد نسلاً، ٹیکنالوجی جذبۂ ہمدردی پر اسی طرح وار کرتی ہے۔ اب ہم ہر وقت ہر کسی سے جڑے رہنے کے عادی ہوچکے ہیں لیکن یہ سب ہماری گفتگو کے دوران ہورہا ہے، کم سے کم اس گفتگو کے دوران جو برق رفتار اور زیادہ مربوط نہ ہو، جس میں ہم مختلف خیالات بس پھینکتے رہیں اور بیک وقت موجود ہوں بھی اور نہیں بھی۔ لیکن ہمدردی اور اپنائیت اسی طرح کی گفتگو میں پروان چڑھتی ہے جس میں ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں، ایک دوسرے کو سکھ پہنچائیں اور حدِ ادب میں رہتے ہوئے اختلاف کریں۔ اسی طرح کی گفتگو میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں۔

یقینا آج کے دور میں ہمدردانہ گفتگو بھی ہورہی ہے، لیکن رجحان کی لکیر بڑی واضح ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ہم منہ در منہ گفتگو سے دور ہوکر آن لائن چیٹ کے قریب ہوگئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم اس طرح کی گفتگو شروع ہونے ہی نہیں دیتے کیونکہ ہمارے فون ہر وقت سامنے رہتے ہیں۔

ہم اپنے دلوں میں تو یہ بات چھپائے ہوئے تھے ہی، اب تحقیق بھی ہماری نیت سب پر ظاہر کررہی ہے۔ ہمیں ایک اہم فیصلے کا سامنا ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہم فون استعمال کرنا ترک کردیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کس قدر استعمال کیا جائے۔ گفتگو کا آپشن ابھی مداوے کے طور پر موجود ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کے باعث ٹوٹتے رابطوں کو بات چیت جوڑ سکتی ہے۔

گفتگو کے ساتھ مسائل اوائل عمری سے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ایک نجی مڈل اسکول نے مجھے اساتذہ کے ساتھ گفتگو کی دعوت دی کیونکہ طلبہ اس طرح سے دوستیاں نہیں کررہے تھے جیسی کہ وہ پہلے کیا کرتے تھے۔ اسکول کے سربراہ نے بتایا کہ کس طرح ساتویں جماعت کی ایک طالبہ نے اپنی ہم جماعت کو اسکول کی سماجی تقریب سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے مگر جب اس طالبہ سے اس کے رویے کی بابت پوچھا گیا تو ڈین کے بقول اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ خاص نہیں تھا: ’’اس کا ردعمل روبوٹ جیسا تھا۔ اس نے کہا کہ ’میں اس بارے میں کچھ محسوس نہیں کررہی‘۔ یعنی وہ یہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی کہ دوسری طالبہ کو اس کے رویے سے تکلیف پہنچی ہے‘‘۔

ڈین نے مزید بتایا کہ ’’۱۲ سالہ بچے بھی میدان میں ۸ سالہ بچوں کی طرح کھیلتے ہیں۔ جس طرح وہ ایک دوسرے کو دور کرتے ہیں ایسا ۸ سالہ بچے ہی کرسکتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ خود کو اپنے ساتھیوں کی جگہ رکھ دیکھ ہی نہیں پارہے‘‘۔

ایک اور استاد کا مشاہدہ تھا کہ ’’طلبہ کھانے کے کمرے میں بیٹھ کر اپنے فون دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ کچھ شیئر بھی کرتے ہیں تو وہ وہی چیزیں ہوتی ہیں جو ان کے فون میں موجود ہوں‘‘۔ تو کیا یہی گفتگو کا نیا طریقہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ پرانے طرز گفتگو کا متبادل نہیں ہے۔ پرانی گفتگو ہمدردی سکھاتی تھی۔ موجود طلبہ بظاہر ایک دوسرے کو کم سمجھ پاتے ہیں۔

لیکن ہم ہار ماننے والے نہیں۔ ماہر نفسیات یالڈا ٹی اولس  ۲۰۱۴ میں ہونے والے مطالعے کی مرکزی مصنفہ تھیں، جس کے لیے بچوں کو ایک ایسے کیمپ میں لے جایا گیا جہاں رابطے کے آلات نہیں تھے۔ فون اور ٹیبلیٹس کے بغیر پانچ دن گزارنے کے بعد بچے چہروں کے تاثرات اور ایک ویڈیو میں چلنے والے کرداروں کے تاثرات زیادہ بہتر طور پر سمجھ رہے تھے۔ یہ ہمدردی پر مبنی ردعمل کیسے ظاہر ہوا؟ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے سے باتیں کی تھیں۔ گفتگو کے دوران معاملات اس وقت بہترین ہوتے ہیں، جب آپ پوری توجہ دیں اور خود کو کسی دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ ان حالات میں کرنا آسان ہے جب آپ کے ہاتھ میں فون نہ ہو۔ بات چیت سب سے زیادہ انسانی اور انسان سازی پر مبنی فعل ہے جو ہم انجام دیتے ہیں۔

میں نے بھی ایسے ہی ایک کیمپ میں اس چیز کا مشاہدہ کیا۔ رات میں ہونے والی بات چیت میں ۱۴ سالہ لڑکوں کے گروپ نے تین روزہ کوہ پیمائی کا ذکر کیا۔ کچھ برسوں پہلے تک، اس کوہ پیمائی کا سب سے دلچسپ پہلو شاید یہ ہوتا کہ محفوظ فطرت کی خوبصورتی کو کھوجا جائے۔ لیکن ان دنوں سب سے بڑی دلچسپی فون کے بغیر رہنا تھی۔ ایک لڑکے کے بقول وہ ایک ’’ایسا وقت تھا کہ جب آپ کو خاموش رہ کر سوچنے اور دوستوں سے باتیں کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھا‘‘۔ لڑکوں نے آن لائن مواد سے دور رہ کر زندگی کا مزا چکھنے کا بھی ذکر کیا۔ یہ نامربوطی ایک بہت اہم ربط کی نشاندہی کرتی ہے: یعنی اپنائیت پر مبنی گفتگو اسی وقت ممکن ہے جب لوگ تنہائی میں بات کریں۔

تنہائی میں ہم خود کو تلاش کرلیتے ہیں، ہم خود کو ایسی گفتگو کے لیے تیار کرلیتے ہیں جس میں کوئی مصدقہ بات کہی جاسکے، یعنی ہماری اپنی بات۔ اگر ہم خود کو مجتمع نہیں کرپاتے تو ہم دوسرے لوگوں کو بھی درست طور پر پہچان نہیں سکتے۔ اگر ہم دوسروں کے قریب نہیں جاتے تو انہیں ایسے افراد بننے پر مجبور کرتے ہیں جیسا کہ ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ ویسے نہ ہوں۔ اگر ہم تنہا رہنا نہیں جانتے تو ہم صرف الگ تھلگ رہنا ہی جان سکیں گے۔

ایک مفید حلقۂ احباب میں ہونے والی گفتگو اپنا حلقۂ اثر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ میں محفوظ ہوں گے، تو ہم خوب سمجھ سکیں گے کہ اور لوگ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے ساتھ بات چیت، چاہے وہ نجی محفلوں میں ہو یا بڑی سماجی تقریبات میں، ہمیں خود سے مکالمہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔

لیکن ہم نے اس مفید حلقۂ احباب کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جو مسئلہ کچھ وقت دینے سے حل ہوسکتا ہے، ہم اسے ٹیکنالوجی کی مدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہرِ نفسیات ٹموتھی ڈی ولسن نے ایک ایسی ٹیم کی قیادت کی جس نے تنہا رہنے کی ہماری صلاحیت کو جانچا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کسی آلے یا کتاب کے بغیر ایک کرسی پہ بیٹھ کر کچھ سوچیں۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس چھ سے لے کر ۱۵ منٹ تک کا وقت ہے اور انہیں اکیلے بیٹھے رہنا ہے، سونا نہیں ہے۔ ایک تجربے کے دوران بہت سے طلبہ نے اکیلے بیٹھ کر سوچنے کے بجائے خود کو بجلی کے ہلکے جھٹکے دینے کو ترجیح دی۔

کبھی کبھی لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ جب ایک ساتھ بیٹھے کچھ لوگ اپنے فونز میں لگ جاتے ہیں تو وہ دیگر لوگوں کو اس سے پریشان ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی جب لوگ اکیلے ہوں تو ان کا فونز استعمال کرتے رہنا کوئی حرج کی بات نہیں؟ آج کل یہ بھی ہر وقت ایک ساتھ رہنے کا طریقہ بن گیا ہے۔

لیکن اپنے امور کو اس طرح تقسیم کرنے سے گفتگو اور تنہائی کے درمیان ناگزیر تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ تنہائی میں ہم تصور کرنا اور توجہ مرکوز کرنا سیکھتے ہیں، اپنے اندر کی آواز سننا سیکھتے ہیں۔

ہر ٹیکنالوجی چاہتی ہے کہ ہم انسانی اقدار سے نبرد آزما ہوجائیں۔ یہ ایک اچھی چیز ہے کیونکہ اس طرح ہم انسانی اقدار کو دوبارہ جان تو سکتے ہیں۔ اب اگر ہم منہ در منہ گفتگو کو اپنی ترجیح بنانے پر تیار ہیں تو اگلے اقدامات کا ادراک کرلینا بھی آسان ہے۔ ہم آسان حل کی تلاش میں نہیں ہیں۔ ہم تو کھوج رہے ہیں کہ ابتدا کیسے ہو۔ کچھ طریقے آسان لگیں گے مگر وہ بھی اتنے آسان نہیں۔ ہر طریقہ ہمیں ایک حد تک ہی خاموش رکھ سکتا ہے۔ ہاں البتہ سب کو ایک ساتھ اپنایا جائے تو کچھ فرق پڑے گا۔

گفتگو کی جانب ایک قدم تنہائی کی جانب ایک قدم ہے۔ آپ کے اہم ترین مکالموں میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جو آپ نے خود سے کیے ہوتے ہیں۔ آہستہ روی اختیار کیجیے تاکہ ایسا ممکن ہوسکے۔ اور ایک وقت میں ایک کام کرنے کو اپنا معمول بنالیجیے۔ اگلے مرحلے میں صرف ایک ہی کام کرنے پر توجہ دیجیے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ایسا کرنے سے کارکردگی بڑھے گی اور دباؤ کم ہوگا۔

لیکن ایک وقت میں ایک کام کرنا اب مشکل ہوگیا ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی اب ہمیں باور کراتی ہے کہ کم وقت میں زیادہ کام مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ ایک سے زائد کام کرنے کے اپنے فائدے ہیں، لیکن جب ہم اس خیال کو اپنانا چاہتے ہیں تو گویا اک سراب کا پیچھا کرتے ہیں۔ گفتگو ایک وقت میں ایک کام کرنے کا انسانی طریقہ ہے۔

ہمارے فون اب اضافی چیزیں نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کے حامل ایسے آلات ہیں جو نہ صرف ہمارا طرز عمل بلکہ ہماری شناخت بھی بدل دیتے ہیں۔

گفتگو کی جانب بڑھنے کا دوسرا راستہ یہ جاننا ہے کہ ہمارے لیے وہ سب کتنا اہم ہے جو روابط بنانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس احساس کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی چیزوں اور اپنی زندگیوں کو ایک سانچے میں ڈھالیں۔ ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ہر وقت اپنے موبائل فون اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم کام کررہے ہوں یا دوسروں سے محوِ گفتگو ہوں تو اپنے فون کسی کمرے میں رکھ دیں اور ہر گھنٹے، دو گھنٹے بعد جاکر انہیں دیکھ لیا کریں۔ ہم گھر اور دفتر میں تنہائی اور گفتگو کی خاطر ایسا وقت الگ کرسکتے ہیں جس میں آلات کا کوئی دخل نہ ہو۔ خاندانوں میں ایسا ہر روز کیا جاسکتا ہے: جیسے کھانے کے دوران، باورچی خانے میں اور گاڑی میں فون دور رکھے جائیں۔ بچوں میں ابتدا ہی سے اس رجحان کو پروان چڑھایا جائے تاکہ بڑے ہوکر انہیں یہ سزا نہ لگے بلکہ خاندانی روایات کا ایک حصہ معلوم ہو۔ کام کی جگہوں پر بھی ایسے مخصوص اوقات کا معین ہونا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ گفتگو سے کام کی صلاحیت بڑھتی ہے۔

ہم گفتگو کے لیے زیادہ وقت نکالنے کی خاطر ٹیکنالوجی کا طریقۂ استعمال بدل سکتے ہیں۔ آئی فون میں ’’ڈسٹرب نہ کریں‘‘ کا فیچر ایک نمونہ مہیا کرتا ہے۔ آپ کا فون نہ بجتا ہے، نہ ہلتا ہے اور نہ اس کی لائٹ جلتی ہے؛ صرف مخصوص لوگوں کی کال آپ تک پہنچتی ہے یا پھر کوئی مسلسل کال کرے تو ایک پیغام ملتا ہے۔ انجینئر مزید کام بھی کررہے ہیں، یعنی اگر ہمارے فون ہمیں ہر وقت مربوط رکھنے کے بجائے ایک متعین کردہ کام کریں اور خاموش ہوجائیں تو کیسا رہے گا؟ کیسا ہو اگر مواصلاتی کمپنیاں آلات کی کامیابی زیادہ استعمال کے بجائے مفید و مؤثر استعمال کے پیمانے پر جانچنے لگیں؟

عقل مندی کا راستہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے رشتے کو ذرا وسیع بنیادوں پر استوار کریں۔ مثلاً ہم ایک ایسے سیاسی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہماری عدم شراکت داری اور نت نئی دلچسپیاں گفتگو کا راستہ روک رہی ہیں۔ ہم نے سمجھا تھا کہ آن لائن بات کرنے سے ہم زیادہ بے باک نظر آئیں گے، مگر ۲۰۱۴ء کے پیو جائزے نے بتایا کہ لوگ عموماً ایسا مؤقف سماجی میڈیا پر رکھنے سے ہچکچاتے ہیں جس سے انہیں لگتا ہو کہ پڑھنے والے اختلاف کریں گے۔ اپنی مجبوریوں کے درست ادراک کا مطلب مختلف خیالات رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کے راستے ڈھونڈنا ہے، چاہے ہم آن لائن ہوں یا آف لائن۔

کبھی کبھی ہم یوں ہی لوگوں کی بات بس سن لیتے ہیں۔ کالج کی ایک جونیئر طالبہ نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ایسی گفتگو سے دور ہوگئی جس میں ’’سات منٹ کا اصول‘‘ اپنایا جارہا تھا: یعنی گفتگو کا رخ متعین کرنے کے لیے کم سے کم سات منٹ کا انتظارکرنا ضروری تھا جس سے پہلے آپ اپنے فون کے پاس نہیں جاسکتے تھے، چاہے سب لوگ خاموش ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ زندگی کی طرح گفتگو میں بھی خاموشی کے وقفے ہوتے ہیں جنہیں کچھ نوجوانوں نے ’’بوریت کے وقفے‘‘ قرار دیا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو زیادہ اجاگر ہونے سے بچانے کے لیے رکتے ہیں، ہچکچاتے ہیں، اور خاموش ہوجاتے ہیں۔

سات منٹ کی گفتگو سے دور ہونے والی طالبہ اقرار کرتی ہے کہ اپنے فون کے پاس جانے کے لیے اتنا انتظار کرنے کا یارا اس میں نہیں ہے۔ ان معنوں میں یہ لڑکی ماہرینِ نفسیات ہوورڈ گارڈنر اور کیٹی ڈیوس کے الفاظ میں ’’ایپ جنریشن‘‘ (app generation) کا حصہ ہے، جو متحرک ایپس والے فون ہاتھ میں لے کر بڑی ہوئی۔ اس نسل میں بڑی بے صبری ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا ایک ایپ کی طرح فوری اور مؤثر ردعمل دے۔ ایپ کی طرح سوچنے کا یہ عمل اس خیال سے شروع ہوتا ہے کہ دنیا الگورتھم (algorithms) کی طرح کام کرے گی، جہاں اقدامات کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہوگا۔

یہی رویہ دوستیوں میں اپنائیت کی کمی بن کر جھلکتا ہے۔ دوستیاں ایسا رشتہ بن جاتی ہیں جسے اپنے حساب سے چلایا جاسکتا ہو۔ یعنی بہت سی دوستیاں جنہیں مختلف طریقوں سے نبھایا جائے۔ اس معاملے میں پہلا قدم یہ ہے کہ خود سے، دوستوں سے اور معاشرے سے گفتگو کا آغاز کرکے دنیا کو ایک بہت بڑی ایپ سمجھنے کی سوچ ترک کی جائے۔ یہی طریقہ دوسرے معنوں میں بھی قابل عمل ہے جہاں گفتگو دنیا کو الگورتھم سمجھنے کی سوچ سے نجات دلا کر روانی، اتفاقات اور شخصیات سے متعلق بتاتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے ان مضمرات کا ادراک کرلیں جو ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی نمودار ہورہے ہیں، اور اس رواداری کی حفاظت کریں جو ہمارے اندر ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم درستی کرلیں اور یاد کریں کہ ہم کون ہیں: تاریخ کی ایسی پیداوار جس کی نفسیات گہری، رشتے پیچیدہ، اور گفتگو سادہ، امکانات سے بھرپور اور منہ در منہ ہے۔

(ترجمہ: حارث رقیب عظیمی)

“Stop Googling. Let’s Talk”. (“nytimes.com”. Sept. 26, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*