Abd Add
 

آسام میں بھارتی حکومت کا پاگل پن!

آسام کی حکومت نے اپنے شہریوں کو غیر ملکی قرار دینے کا آغاز کردیا ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت بھی ریاست آسام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسے ہی اقدامات کرنا چاہتی ہے۔

آسام کا علاقہ پراگ (Prague) سے بھی گرم آب و ہوا کا حامل ہے۔ یہاں نہ تو زیک (Czeck) کے دارالحکومت کی طرح چوراہے ہیں اور نہ پتلی پتلی گلیاں۔ یہاں جست کے چھتوں والے گھر، پام اور آم کے کھیت ہیں۔ آسام کے اس ماحول کوفرانز کافکا (Franz Kafka) [فرانز کافکا کا شمار بیسویں صدی کے اہم ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ جرمن زبان کا یہ مصنف ہنگری میں ۱۸۸۳ء میں پیدا ہوا اور ۴۰ سال عمر پاکر ٹی بی کے مرض میں جان دی۔ اس کے ناولوں اور افسانوں کا دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اردو زبان میں بھی کئی مصنف ایسے ہیں جنھوں نے کافکا کے سوانحی حالات اور کاموں کو اردو میں پیش کیا۔] بھی اپنے گھر جیسا ہی محسوس کرتا۔ یہ ریاست پہاڑوں پر ہونے والی چائے کی کاشت کے حوالے سے مشہور ہے اور بھارت کے شمال مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ یہاں ۲۰۰۶ء سے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (National Register of Citizens) ترتیب دیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد سائنسی بنیادوں پر یہاں کی کثیر آبادی پر مشتمل مشتبہ بنگلا دیشیوں کو اصل بھارتیوں سے علیحدہ کرنا ہے۔

غیر قانونی شہریوں کی تلاش اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جیسے اقدامات کے برعکس آسام کی حکومت اپنے تینتیس ملین (تین کروڑ تیس لاکھ) افراد کے خلاف ہے۔ اکثریت غریب اور اَن پڑھ افراد کی ہے جنھیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے سامنے پیش ہوکر اپنی شہریت ثابت کریں۔ جو لوگ حراست میں رہنے کا خطر ہ مول نہیں لے سکتے ان میں سے ایک ہزار افراد ایسے ہیں جو آسام میں موجود اُن چھ حراستی مراکز میں منتقل ہوگئے، جو غیرملکیوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ بھارت کے عوام اس خبر پر اچھنبے کا شکار ہیں کہ ۵۹ سالہ بیوہ، جو اعزاز یافتہ جنگی ہیرو ہے، وہ بھی خود کو بھارتی ثابت نہ کرنے کی وجہ سے حراستی مرکز میں قید ہے۔ آسام کی ریاست توقع کرتی ہے کہ اس سے بھی زیادہ افراد ان حراستی مراکز میں آئیں گے۔ اس مقصد کے لیے دس کیمپ بنائے جانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔

رجسٹریشن کے نام پر یہ کھیل ۳۱ جولائی کو رُک جائے گا۔ شہریوں کی رجسٹریشن کی یہ آخری تاریخ ہے۔ اس کے بعد جو لوگ اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ جائیں گے انھیں غیرملکی ٹرائی بیونلز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ وہ خصوصی متوازی عدالتیں ہیں، جن میں کسی کو اپیل دائر کرنے کا حق حاصل نہیں۔ گزشتہ سال جب نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کا مسودہ ترتیب دیا گیا تو اس میں آسام کی ۳ کروڑ ۳۰ لاکھ کی آبادی میں سے ۴۰ لاکھ افراد کو چھوڑ دیا گیا۔جون کے مہینے میں ایک لاکھ کو مشتبہ غیر ملکی تصور کیا گیا۔ ان میں زیادہ تعداد بنگالیوں کی تھی۔ ان میں ہندو بھی شامل ہیں لیکن اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ان میں آسامیوں کا شامل ہونا تو لازمی امر تھا کیوں کہ اُن کا تعلق ـ’مقامی‘ افراد سے ہے۔

حیرانی کی بات یہ نہیں ہے کہ اُن۹۳ فیصد افراد نے، جنھیں غیر ملکی قراردیا ہے، انھوں نے خود کو بھارتی ہونے کے بارے میں شواہد فراہم کیے ہیں۔سرکاری مشینری،جوآسامی انتہا پسندوں اور بھارتیا جنتا پارٹی کے اثر میں ہے، اسے زیادہ سے زیادہ درخواستیں نامنظور کرنے کا لالچ دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس سارے مرحلے کو ایک کامیابی قرار دیا ہے۔ مرکزی حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن ا ور فارنرز ٹرائیبونل کو ملک کے دیگر حصوں میں بھی لے جایا جائے۔بھارت کی ایک ارب تین کروڑ کی آبادی کا ۱۴ فیصد مسلمان آبادی پر مشتمل ہے، جن کے یہاں اس حوالے سے خوف پایا جاتا ہے کہ آسام میں جو کچھ بھی مسلمان آبادی کے ساتھ ہورہا ہے ان کے ساتھ بھی کہیں ایسا ہی نہ ہو۔ اس صورت حال میں بھارت کے دیگر حصوں میں بسنے والی مسلمان آبادی کا پریشان ہونا درست ہے۔

گوروئی مری (Goroimari) کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے قریب سر سبز برہم پوترا وادی ہے جہاں بنگالی بولنے والی آبادی بستی ہے، وہ این آر سی (NRC) کے خوفناک چُنگل سے نکلنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کررہی ہے۔سومی رُن نِسا (Somiron Nisa) ہی کو دیکھیے جس نے ابھی گریجویٹ کیا ہے، اس کا پورا گھرانہ این آرسی کی فہرست سے بچ نکلا اور اب انھیں اصل شہری قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے انھیں غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ این آر سی کے اہلکار نے بتایا کہ یہ اس لیے ہوا کہ انھیں فہرست میں ڈی (D) لکھا گیا تھا۔ ڈی سے مراد الیکشن کمیشن نے ایسے افراد کو مشتبہ ووٹر (doubtful voter) قرار دیا ہے۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ محترمہ نِسا اپنے گھرانے میں واحد ’غیرملکی‘ (foreigner) قراد دی گئی تھی۔ ا س وقت اس کی عمر اتنی بھی نہیں تھی جو ووٹ ڈالنے کے لیے درکار ہے۔ اس بارے میں متعلقہ افسر نے کندھے اُچکا کر جواب دیا۔

۹۳ سالہ شمس الدین کی سنیے جو ایک اَن پڑھ کسان ہیں۔ یہ اُس وقت پیدا ہوئے، جب یہاں کی آبادی چند مٹھی بھر گھروں پر مشتمل تھی۔ ان کا نام بھی مارچ کے مہینے میں این آر سی میں آیا تھا۔ ایک دیباجِت گوسوامی (Debajit Goswami) نے ان کے نام کو شامل کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ شمس الدین اُس شخص کو نہیں جانتے تھے جس نے ان پر الزام لگایا تھا۔ اس دیہات میں ایسا کوئی کر بھی نہیں سکتا تھا۔ ایک وکیل اور مقامی این جی اوگوسوامی کے درج پتے پر اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ گوسوامی اُن سماعتوں میں بھی حاضر نہ ہوا جن میں شمس الدین کو بلایا گیا تھا۔ یہ سماعتیں دو مختلف جگہوں پر ہوئیں جن کے درمیان ۱۵۰ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

ایسا شاید اس لیے ہوا ہے کہ گوسوامی کا نام اُن سیکڑوں خطوط پر موجود ہے، جو اعتراض دائر کرنے کے لیے جمع کیے گئے اور ان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشتبہ غیرملکیوں کا نام این آر سی کی فہرست سے نکالا جائے۔ ان قوانین کو سپریم کورٹ نے ترتیب دیا ہے، جس میں کسی فرد کو اجازت نہیں کہ وہ کسی کی شہریت کو چیلنج کرسکے۔ صرف اس ضلع میں مشتبہ معترضین کی ایک چھوٹی سی تعداد ہے، جن کا تعلق آسام کے مقامی گروہ سے ہے اور انھوں نے اعتراض پر مبنی تیس ہزار سرٹیفکیٹ لکھے۔ اس ریاست میں دو لاکھ بیس ہزار زہریلے خطوط (poisoned letters) مئی کی آخری تاریخ سے پہلے جمع کیے گئے۔ بھارت کے شمال مشرق میں جوابی طو ر پر آسام سے تعلق رکھنے والوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ این آر سی میں شامل ہیں اور ثبوت نہ فراہم کرنے کی صورت میں ان کو واپس روانہ کیاجارہا ہے۔

شمس الدین کے ایک پڑوسی راحم علی (Rahum Ali) نے طنزیہ انداز میں بتایا کہ ’یہاں کوئی بھی ایسا نہیں جس کا تعلق بنگلادیش سے ہو‘۔ ’وہ یہاں کس طرح سکونت اختیار کرسکتے ہیں؟ یہاں کوئی جگہ نہیں۔ بھائی بھائی آپس میں لڑ رہے ہیں‘۔ ۷۰ سالہ علی کا نام این آر سی میں موجود نہیں جبکہ اس کے تین بھائی اور دو بہنوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ این آر سی کے ایک دفتر سے اُسے حاضر ہونے کا حکم نامہ ملا جس میں اُسے بتایا گیا ہے کہ اُس کا کیس زیرِ التوا غیرملکی ٹرائیبونل (Pending Foreigners’ Tribunal) میں ہے جس کا اختصار پی ایف ٹی (PFT) ہے۔ اس کے بعد مختلف ٹاؤن میں موجود دفاتر سے اسے چار مرتبہ سے زائد سمن جاری ہوئے اور ہر بار اسے خوف رہا کہ کہیں اسے جیل میں نہ ڈال دیا جائے، لیکن ان تمام حکم ناموں کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ اس کا کیس پی ایف ٹی میں ہے۔ آج بھی اسے یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ۱۰۰ فارن ٹرائی بونلز میں سے کس کے سامنے اسے حاضر ہونا ہے۔ ایک مقامی وکیل نے بتایا ہے کہ اس گاؤں میں ۴۶ ؍افراد ایسے ہیں جن کا کیس پی ایف ٹی میں ہے لیکن وہ بار بار سمن جاری ہونے کی وجہ سے پاگل ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ کافکائی صورت ِ حال (Kafkaesque situation) [کافکا کے ناولوں اور افسانوں کے اثرات انگریزی زبان پر بھی پڑے جس کی وجہ سے اس اصطلا ح کو انگریزی لغت میں شامل کیا گیا جس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ سرکاری دفاتر میں ہونے والے تاخیری حربے۔] کس طرح پیدا ہوئی؟بھارت میں اس تعلق سے دوعوامل ایسے ہیں جنھیں ان حالات کا الزام دیاجاتا ہے۔ اس میں برطانوی دورِ حکومت اور زہریلی بھارتی سیاست کو الزام دیا جاتا ہے۔ برطانوی راج میں لاکھوں بنگالیوں، جن کی اکثریت مسلمان تھی، کو آسام میں بسنے کے لیے حالات فراہم کیے گئے۔ آزادی کے بعد مقامی سیاست دانوں نے شور مچایا کہ یہ گھس بیٹھیے مقامی زبان اور ثقافت کے لیے خطرہ ہیں۔ ان حالات میں ہندو قوم پرستی کے جذبات بھی ابھر کر سامنے آئے جس کے بعد مذہبی عنصر کو بھی خوب بڑھا چڑھا کر استعمال کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ بھارت کے قومی تحفظ کو بھی خطرہ ہے۔

اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ غیر قانونی افراد کے دعوؤں پر زور و شور سے گفتگو کا آغاز ہوا۔ آسامی انتہا پسندوں نے یہ شور مچایا کہ ۵۰ لاکھ یا ۸۰ لاکھ گھس بیٹھیوں نے ان کی ریاست پر قبضہ جمالیا ہے۔ ان حالات میں دائیں بازو کے سیاست دانوں نے خطرہ محسوس کیا کہ اس طرح ان کا مسلم ووٹ بینک ختم ہوجائے گا۔ دراصل یہ سب کچھ ایک ایسا بے بنیاد تخمینہ ہے جس میں لاکھوں افراد کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ ایک وکیل نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا چرنوبِل (Chernobyl) [چرنوبل دراصل چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کا اختصار ہے۔ یہ پاور پلانٹ روس کے شمال میں واقع ہے جہاں ۲۶ ؍اپریل۱۹۸۶ء کو دنیا کی تاریخ کا خوفناک دھماکا ہوا۔] ہے، جس کی آڑ میں جھوٹ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کوئی نہیں جانتا کہ آسام کے ’غیر ملکیوں‘ کے ساتھ کیا ہوگا۔ انھیں واپس بنگلادیش بھی روانہ نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ بنگلا دیش نے ان تما م حالات کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دیا ہے۔ ان لاکھوں افراد کو بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ اس تعلق سے بی جے پی نے اپنے سیکولر آئین کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک حل یہ پیش کیا ہے کہ وہ اپنے دستور میں ہندؤوں، بدھ مت کے ماننے والوں، سکھوں، عیسائیوں کے لیے ایک تبدیلی کا بل پیش کرنے والی ہے، لیکن اس بِل میں مسلمانوں کی شہریت پر خاص طور پر پابندی لگائی جائے گی۔ آسام کی گوہاٹی یونیورسٹی میں سیاسیات کے چیئرمین اور بی جے پی کے حامی نانی گوپال ماہانتا کا اُن افراد کے لیے یہ مشورہ ہے جو اس وقت مشکلات کا شکار ہیں کہ فارن ٹرائی بونلز بالکل بھی اپنا کام جلد شروع نہیں کرسکیں گے اور انھیں ۲۰ سال درکار ہیں کہ وہ ان کیسوں کو نبٹائیں۔ جن افراد کو غیر شہری (non-citizens) قرار دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے ریاست (stateless) کہلائیں گے، لیکن کچھ مدت کے لیے ان کے حقوق سلب کرلیں جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ اس بات کو قبول کریں یا نہ کریں، دراصل شہریت (citizenship) ایک بہت ہی غیر جمہوری (democratic concept) تصور ہے۔ کافکا بھی اس خیال کی لازمی حمایت کرتا۔

(ترجمہ: جاوید احمد خورشید)

“Madness in the hills: India is declaring millions of its citizens to be foreigners”. (“economist.com”. Jul 11th 2019)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.