Abd Add
 

شمارہ 16 اکتوبر 2011

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:4، شمارہ نمبر:20-

کسی بھی قیمت پر!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟ آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

پاکستان کو جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر کشیدگی سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار امریکیوں کے نزدیک متنازع ہے۔ انہوں نے پاکستان پر حقانی گروپ کی بھرپور حمایت اور مدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور بدحالی بنیادی مسائل ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز نے اپنے مضمون میں پاک امریکا تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ جو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ امریکا [مزید پڑھیے]

چین۔۔۔ پاکستان سے دور رہنے پر مجبور!

October 16, 2011 // 0 Comments

امریکا سے بگڑتے ہوئے تعلقات نے پاکستان کو مجبور کردیا ہے کہ چین سے تعلقات مزید مستحکم کیے جائیں اور امریکا سمیت پوری مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ اگر اُسے الگ تھلگ کردیا گیا یا امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا تو چین کا آپشن موجود ہے۔ امریکی پالیسی ساز بھی صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اِس لیے کسی بھی طرح کی غیر معمولی سفارتی اور عسکری مہم جوئی کے موڈ میں نہیں۔ اُنہیں اندازہ ہے کہ پاکستان نے اِس اہم مرحلے پر امریکا اور افغانستان کا ساتھ چھوڑا تو افغانستان سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افواج کا بحفاظت نکلنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ چین کیا چاہتا ہے؟ کیا وہ اس پوزیشن میں [مزید پڑھیے]

خاموشی حل نہیں ہے!

August 16, 2011 // 0 Comments

جہانگیر ترین کا شمار ملک کے ان صنعت کاروں میں ہوتا ہے جو شکر کی پیداوار کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰۲ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاست میں قدم رکھا۔ پہلے وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے مشیر برائے زراعت و سماجی امور بنے۔ اس کے بعد انہیں صنعتوں کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آج کل جہانگیر ترین کرپشن سے پاک سیاست دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ۲۰۱۳ء کے عام انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نیوز ویک کے لیے شہر بانو تاثیر نے لاہور میں ۵۹ سالہ جہانگیر ترین [مزید پڑھیے]